دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عربوں کے خلاف نسلی اور مسلکی تعصب کی بنیاد پر کھڑا ہے۔طاہر سواتی
No image اگرچہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا بدمعاش ہے، لیکن اس کا ظرف اور دل بھی بہت بڑا ہے۔ ذرا تصور کریں اگر اتنی طاقت ہمارے یا خمینی کے پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہوتی تو دنیا کا کیا حشر کرتے؟
سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے سر اٹھانے والے ہر چھوٹے بدمعاش کو نہ صرف سیدھا کیا، بلکہ بعد میں اس کی ہر لحاظ سے مدد بھی کی۔
پہلی عالمی جنگ 28 جولائی 1914 کو شروع ہوئی۔ ابتدائی ڈھائی برسوں میں امریکہ اس جنگ میں غیر جانبدار رہا، لیکن جب جرمنی نے امریکی تجارتی اور مسافر بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تو امریکی صدر ولسن نے کانگریس سے ایک ایسی جنگ کی اجازت طلب کی جو ساری جنگوں کا خاتمہ کر دے۔ اور پھر امریکہ نے آ کر چند ماہ میں جنگ کا خاتمہ کر دیا۔
اس کے بعد جاپان نیا بدمعاش بنا۔ دوسری عالمی جنگ سے قبل 1937 میں اس نے چین پر تابڑ توڑ حملے شروع کیے۔ نانجنگ شہر میں ایک ہفتے کے اندر دو لاکھ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا۔ میں وہ یادگار دیکھ چکا ہوں جو جاپانیوں کے مظالم کی یاد میں بنائی گئی ہے۔ امریکہ نے آ کر چین کی جان بچائی۔
دوسری جنگ عظیم میں بھی امریکہ دو سال تک غیر جانبدار رہا، لیکن جب 7 دسمبر 1941 کو جاپان نے امریکہ کے ساحلی شہر پرل ہاربر پر حملہ کر کے بیک وقت 8 بحری جہاز اور 188 لڑاکا طیارے تباہ کر دیے، تو اگلے روز امریکہ نے جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ پھر جنگ کا آخری فیصلہ بھی امریکہ نے ہی کیا۔ جب جرمنی اور جاپان نے بدمعاشی چھوڑ کر عام انسانوں کی طرح رہنا شروع کیا تو دونوں ممالک کی تعمیرِ نو امریکہ نے ہی کی۔
1937 میں چین کو جاپان سے بچانے والے امریکہ نے آج اپنے پچاس ہزار فوجی اسی چین سے بچانے کے لیے جاپان میں تعینات کیے ہیں۔
افغانستان کے خلاف امریکہ کی جارحیت ہر کسی کو یاد ہے، لیکن اس سے قبل شیخ اسامہ بن لادن کے پرامن بقائے باہمی کے اقدامات کسی کو یاد نہیں۔
انہوں نے 26 فروری 1993 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی زیریں پارکنگ میں ایک ٹرک بم دھماکا کیا جس میں 6 افراد ہلاک اور 1,000 سے زائد زخمی ہوئے۔
13 نومبر 1995 کو سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی نیشنل گارڈ کے ہیڈکوارٹر کے کیفے ٹیریا کے پاس کار بم دھماکہ کیا، جس میں پانچ امریکی ہلاک ہوئے جو نیشنل گارڈ کو ٹریننگ دے رہے تھے۔
جون 1996 کو ریاض شہر کے الخبر ٹاورز میں امریکی فضائیہ کی بیرکوں کو ٹرک بم کے ذریعے اڑا دیا گیا، جس میں 19 امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔
7 اگست 1998 کو بیک وقت کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں کے باہر ٹرک بم دھماکے کیے گئے، جس میں 224 افراد ہلاک ہوئے (جن میں 12 امریکی شامل تھے) اور 4,000 زخمی ہوئے۔
اور پھر 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا سانحہ پیش آیا، جس میں 2,750 کے قریب لوگ مارے گئے۔
اس کے باوجود امریکہ نے افغانستان پر فوری حملہ کرنے کی بجائے پاکستان اور سعودی عرب کے ذریعے شیخ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ اگر انہوں نے شیخ دے دیا ہوتا تو ملک بچ سکتا تھا، لیکن انہوں نے ملک کی بجائے شیخ کو ترجیح دی ،جس طرح آج کل وہ ٹی ٹی پی کو پاکستان پر ترجیح دے رہے ہیں۔
لیکن اس سے بھی تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج افغانستان کے ہر نئے انفراسٹرکچر پر امریکہ کی مہر ہے۔
کچھ یہی صورت حال آج ایران کے ساتھ ہے۔
ایک جانب ان کا خامنائی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے خلاف فتویٰ دیتا رہا دوسری جانب یورینیم کو افزودہ کرتے رہے اور اب اس کے لئے پوری قوم کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔
امریکہ میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہو رہا ہے۔ ابتدا میں ایران نے اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا، لیکن بعد میں پاسدارانِ انقلاب نے ٹیم کو ایسے ڈھول باجوں کے ساتھ روانہ کیا کہ وہ ہر جگہ "مرگ بہ امریکہ، مرگ بہ اسرائیل" کے نعرے لگاتی رہیں۔
یہ امریکہ کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ اس کے باوجود ان کی ٹیم کو ویزے دیے، اور یہ ایران کی کم ظرفی ہے کہ مودی کی طرح کھیل کو بھی میدان جنگ بنا دیا۔
اگر افغان کرکٹ ٹیم پاکستان مردہ کے نعروں کے ساتھ آئے تو ہم اسے کھلینے دیں گے ؟
کل ایران کے سرکاری ٹی وی نے متحدہ عرب امارات کے جھنڈے پر لائو فائرنگ دکھائی۔ یہ ریاستی کم ظرفی کی اعلی مثال ہے۔ اگر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بنا پر کسی ملک کے جھنڈے کی بےحرمتی کرنا ایران کی ریاستی پالیسی ہے، تو پھر سب سے پہلے بھارت کے جھنڈے کا نمبر آتا ہے۔ مودی نے عین جنگ سے قبل اسرائیل کا دورہ کیا۔ بلکہ دو دن قبل جب عراقچی نئی دہلی میں بھارت کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہا تھا، اسی وقت مودی امارات کے دورے پر تھا۔ پھر آذربائیجان کو نشانہ بنانا چاہیے، جس کی نہ صرف اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں بلکہ وہ اسے سب سے زیادہ تیل بھی برآمد کرتا ہے۔
دراصل اسرائیل محض ایک بہانہ ہے۔
خمینی کا انقلاب بنیادی طور پر عربوں کے خلاف نسلی اور مسلکی تعصب کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ نسلی تعصب تو قبل از اسلام سے موجود تھا، خمینی کی ولایتِ فقیہ نے اسے مسلکی تڑکا بھی لگا دیا۔
واپس کریں