دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مباشرت سے مبرا جوڑے
منظر الحق
منظر الحق
ہمارے معاشرے میں عجب قسم کے لوگ پروان چڑھتے ہیں،ایک طرف مرد حضرات اپنے دوست احباب کے جتھوں میں رنگ ریلیاں منانے کے خواب دیکھتے ہوئے جوان ہوتے ہیں اور دوسری جانب لڑکیاں اپنی سہیلیوں کے درمیان، خوشگوار ازدواجی زندگی کے ارمانوں کے راگ الاپتی ہیں۔یہ دونوں کسی دریا و نہر کے دو کناروں کی طرح ہیں،جو آمنے سامنے ہونے کے باوجود، ایک دوسرے کو صرف دور سے تکتے رہتے ہیں اور سنا یہی گیا ہے کہ دور کے ڈول سہانے ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کے ظاہری خد و خال نظر آتے ہیں،پر دلوں کا حال و کیفیت ایک دوسرے سے مخفی رہتی ہے اور ذہنی ہم آہنگی کی امید، سمندروں کی تہہ میں چھپے موتی ڈھونڈنے اور آسمانی کہکشاؤں پر کمند ڈالنے کے مترادف ہے۔
دونوں جنسوں کی زندگیاں الگ الگ پگڈنڈیوں پر گزرتی ہیں،بیشتر مدرسے مخلوط تعلیم سے مبرا ہیں اور ان میں جنسی تعلیم کا ذکر بھی کرنا،شہوت کو دعوت دینے کا جرم قرار دیا جا سکتا ہے ،لہذا مدرس اس جرم کے ارتکاب سے کتراتے ہیں اور بییچارے کمسن لڑکے لڑکیاں، اپنے جسمانی تغیرات و تبدیلیوں سے نابلد و نا آشنا رہتے ہیں۔ان میں سے شاید چند غیر معیاری رسائل و کتب سے، الم غلم معلومات تک رسائ کر پاتے ہیں اور بقیہ اپنے عمر رسیدہ دوست احباب و عم زاد بہن بھائیوں سے منت سماجت کر کے،ٹوٹی پھوٹی غیر معیاری و غیر صحتمند جنسی تعلیم اکھٹی کرتے ہیں۔
اس قماش کے بے ہنگھم معاشرے میں،ان دونوں جنسوں کا ایک دوسرے سے آخرکار کلیہ میں آمنا سامنا ہوتا اور بیشتر جواں عمر لڑکے و لڑکیاں اس ناگہانی ملاقات سے خائف ہوتے ہیں۔گھریلو و دینی تعلیم جنسوں کی دوری پر پلے بڑھے ہوتے ہیں،اس آگ اور پانی کے تصادم سے پیدا کردہ جذبات، ذہنوں میں ہلچل مچا دیتے ہیں اور نتیجتا آپس میں دوستی یاری کے بجائے،شکوک و شبہات کی آہنی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔لڑکے فقرہ بازی و بازاری گفتگو کا ماسوا کچھ نہیں جانتے،وہ صنف نازک کو انہی ہتھکنڈوں سے زیر کرنے کے خواہاں دکھائ دیتے ہیں اور دوشیزائیں اس قسم کے رویے سے بھڑک اٹھتی ہیں۔وہ گھریلو پیار و محبت سے لیس فضاء میں پروان چڑھی ہوتی ہیں، رومانوی قصوں پر پلی بڑھی ہیں اور بازاری نازیبا گفت و شنید سے نا آشنا ہوتی ہیں،بلکہ متنفر ہوتی ہیں۔اس تناظر میں دوستی یاری کی امید ایک بھونڈے مذاق کا مصداق ہے،معدودے چند جوان عمر اس ذہنی گرداب سے نکل پاتے ہیں اور آپس کی خلوت کی خلیج عبور کر کے،دیرپا دوستیاں کر پاتے ہیں۔دوستی میں ہنسی مزاح ضروری عنصر ہے،پر ساری عمر کی جنسی خلیج خواہ مخواہ کے شکوک کو جنم دیتی ہے اور بسا اوقات ہلکا پھلکا مزاح بھی، مزاج اعلی پر گراں گزرتا ہے۔آس پاس کھڑے رفقاء، اس رنجش کو ہوا دیتے ہیں،چھوٹی سی چنگاری آگ کا بگولا بن جاتی ہے اور نوزائیدہ دوستی جل کر راکھ ہو جاتی ہے۔
اب ان دونوں جنسوں کے ملاپ کا وقت قریب ہے،سالوں کی دوری نکاح کے دو بول پڑھا کر، ختم کرنے کی روایت آج بھی قائم و دائم ہے۔چند خوش نصیب جوڑوں کو اس دائمی عمل سے پہلے،آپس میں شیر و شکر ہونے کا موقع ملتا ہے اور ذہنی ہم آنگی اور خیالات و جذبات کے دریا میں ایک ساتھ تیرنے لگتے ہیں۔پر بیشتر نوخیز نوجوان جنسی جوڑے،ان عملیات سے نا آشنا رہتے ہیں اور ان دو اجنبیوں کی آپس میں دینی بندش کر دی جاتی ہے۔یہ ایک انتہائ غیر فطری عمل ہے،برسوں سے ایک دوسرے کی ضروریات سے لاعلم جوڑا، بیچ منجھدار میں پھینک دیا جاتا ہے اور اسے تیرنے کے اصولوں سے بھی ناواقف رکھا،سو اب پیراکی کرو یا ڈوب جاو۔
ایک ہی رات میں نا آشنائ سے شناسائ کا سفر ،یہ ایک ایسی داستان ہے جس کا نہ کوئ ذکر کرتا ہے اور نہ کسی کو فکر ہے۔ایک طبقہ اس قسم کی گفتگو کو بے شرمی قرار دے گا،دوسرا طبقہ اسے ذاتیات کے زمرے میں ڈال کر خاموشی اختیار کر لے گا اور آخری طبقہ ان جذبات و احساسات کی گہرائ سے نامانوس نظر آئے گا۔ہم جس دین کے پیروکار ہیں،اس کا مولا قرآن میں ہر قسم کی مثال دیتا ہے اور وہ خود شرم و حیاء کا پیکر ہونےکے باوجود،مرد و عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیتا ہے۔لباس سارے ظاہری عیب چھپا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،پر اپنے اندرونی جسمانی خد و خال سے مرد و عورت کا پردہ ہٹا دیتا ہے اور یہی سے نا آشنائی سے آشنائ کا سفر شروع ہوتا ہے۔
جنسی و جسمانی تسکین شدہ جوڑے کو آپ دور سے پہچان سکتے ہیں،چہرے پر مسکراہٹ عیاں ہو گی اور باہنوں میں بانہیں ڈالے ساتھ چلنا۔اس کے برعکس ایک جنسی تسکین سے مبرا جوڑا ،ایک دوسرے سے چار گز دور چلتا نظر آئے گا اور ان میں نہ قربت دکھائ دے گی اور نہ ہی چہرے پر خوشی کے اثرات۔مباشرت کا عمل جسمانی و ذہنی تسکین کا تیر بہدف نسخہ ہے اور بقول ہماری دادی جان کے،میاں بیوی میں دن بھر چپقلش رہے اور رات کو تکیے پر سر رکھ کر لوٹ پوٹ ہوئے اور الصبح ہشاش بشاش اٹھے۔
آج کل بیشمار جوڑے علیحدہ زندگیاں گزار رہے ہیں،مرد حضرات اپنے کاروباری مصروفیات
میں الجھے رہتے ہیں اور اپنی ازداوجی زندگی کی تلخیاں اسی ہنگامے میں بھلانے کی جستجو کرتے ہیں۔دوسرا طبقہ دینی فرائض منصبی ادا کرنے میں ،صوفیانہ منشی اختیار کر لیتا ہے اور مسجد و منبر کو زندگی کا محور بنا کر، ازداوجی دوریوں کی یادیں بھلانا چاہتا ہے۔خواتین کی زندگی میں بچوں کا عمل دخل فطری امر ہے،ان کی پیدائش سے لے کر،جوانی کی حدود تک اور پھر شادی بیاہ اور نانی دادی بننے کا عمل،ازدواجی فرائض سے راہ فرار کا عنقا موقع فراہم کرتا ہے۔دوسری جانب صوم و صلات کی ادائیگی میں،پاکی و طہارت کے معمولات قدم رہتے ہیں اور ازداجی تعلقات کو پس پشت ڈالنے کا نادر موقع فراہم کرتے ہیں۔حضرت عمر رح نے اپنی صاحبزادی حفصہ رح سے دریافت فرمایا،عورت کتنے دن مرد سے دور رہ سکتی ہے اور جواب ملا قریبا تین مہینے،شاید اسی لیئے چار شادیوں کی اجازت رکھی گئ ہے۔
عورت و مرد کی ضروریات مخلتف ہیں،ان کے جسمانی تقاضے جدا جدا ہیں اور یہی مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔دونوں فریقین اپنی اپنی راہ پر گامزن رہتے ہیں،بسا اوقات ایک دوسرے کے وجود سے لاتعلق اور اپنی اپنی زندگی میں مگن۔یہ دوری کے اسباب پیدا کرتے ہیں،مرد حضرات کی طبیعت جزبز ہو کر، خوں خوں کرتے نظر آتے ہیں اور بات بے بات ایک دوسرے سے لڑائ جھگڑا،ان کا معمول بن جاتا ہے۔اس قسم کے جھگڑالو مرد، ہر ادبی و معاشرتی محفل میں دکھائ دیتے ہیں اور ان کے قبلے کا رخ، ہر دوسرے شخص سے ہر بات میں مختلف ہوتا ہے۔خواتین بھی ان باتوں سے مبرا نہیں،کوئ ایک دوسرے سے گھریلو باتوں میں الجھیں گی،دوسری دینی بحث و مبحثے کا شکار ہو گی اور چند پکوان کو ،اپنی گرما گرم بحث سے تلیں گی۔الغرض معاشرہ اس قسم کے جوڑوں سے بھرا پڑا ہے،جو بے کیف و بے لذت زندگیاں گزار رہے ہیں اور یہ مباشرت کو گناہ بنا بیٹھے ہیں۔کچھ جوڑے اسے ایک دوسرے کو، جسمانی و ذہنی اذیت دینے کے لیئے بھی استعمال کرتے ہیں اور یقینا یہ قہر الہی کے وارثین ہیں۔
جس معاشرے میں اس قدر ذہنی مریض ہوں،وہ کیونکر پھلے پھولے گا اور اس میں تحقیق و تجسس کی راہیں مسدود ہو جائیں گی۔یہ افراد اپنی خوہشات نفسانی کی خاطر،مختلف حربوں سے اس کا مداوا کرتے ہیں اور بعض جرائم تک کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کرتے۔دنیا بھر میں جنسی تعلیم عام ہے،لڑکے و لڑکیاں کم عمری میں خلط ملط ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی ذہنی نشو و نما اور صحت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اور دنیاوی سمجھ بوجھ میں، آپس میں مددگار بنتے ہیں۔مرد و عورت جسمانی و ذہنی کحاظ سے الگ ضرور ہیں،پر یہ گاڑی کے دو پہیے ہیں،جن کی سمت جب تلک ایک نہ ہوگی،ہماری معاشرتی گاڑی پرسکون انداز میں نہ دوڑ سکے گی۔
واپس کریں