دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تہران کا سفارتی معرکہ۔محمد محسن خان ( راجپوت )
No image مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سفارت، سلامتی، تزویرات اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے اس انداز میں متصادم دکھائی دیتے ہیں کہ معمولی لغزش بھی پورے خطے کو غیرمعمولی اضطراب میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی خطے کی غیر یقینی کیفیت، عالمی توانائی منڈیوں کا اضطراب اور علاقائی اتحادیوں کی بے چینی اس امر کی غماز ہے کہ دنیا ایک نئے سفارتی امتحان کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے مابین تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے متحرک کردار ادا کرنا محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی خارجہ حکمتِ عملی میں ایک نئے تزویراتی شعور کی علامت بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا تہران کا حالیہ دورہ بظاہر ایک روایتی سرکاری سفر محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں کارفرما سفارتی حرکیات نہایت گہری اور دور رس نوعیت کی حامل ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی تعطل خطے میں ایک نئے جغرافیائی اضطراب کو جنم دے رہا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا ثالثی کردار اس لیے بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اسلام آباد نہ صرف تہران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی روابط رکھتا ہے بلکہ واشنگٹن کے ساتھ بھی ایک طویل سفارتی و تزویراتی تعلقات کا حامل رہا ہے۔ یہی دوہری سفارتی استعداد پاکستان کو ایک ایسے ممکنہ رابطہ کار کے طور پر پیش کرتی ہے جو کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی ماحول کی بحالی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ تہران پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو محض رسمی بیانات کے دائرے میں نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے ایک سنجیدہ اور تعمیری کوشش تصور کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ داخلہ کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہنا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کی تحسین دراصل اس بدلتے ہوئے علاقائی منظرنامے کی عکاسی ہے جس میں پاکستان بتدریج ایک فعال سفارتی قوت کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماضی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اکثر ردِعمل پر مبنی یا محدود علاقائی ترجیحات کے گرد گھومتی رہی، مگر حالیہ مہینوں میں یہ تاثر ابھرتا دکھائی دیتا ہے کہ اسلام آباد اب خود کو محض ایک جغرافیائی ریاست کے بجائے ایک فعال علاقائی شراکت دار کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس تمام صورتحال میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ ان کا حالیہ دورۂ تہران اور اس کے بعد محسن نقوی کی ایران آمد اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کی ریاستی پالیسی میں عسکری و سفارتی اداروں کے درمیان ایک مربوط ہم آہنگی موجود ہے۔ جدید عالمی سیاست میں وہی ریاستیں مؤثر سفارتی کردار ادا کر پاتی ہیں جن کے داخلی ادارے باہمی تضادات کے بجائے مشترکہ تزویراتی وژن کے تحت حرکت کرتے ہوں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت اسی ادارہ جاتی ہم آہنگی کا اظہار محسوس ہوتی ہے۔
امریکا کے رکنِ کانگریس جیک برگمین کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام ارسال کردہ تعریفی خط بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں ایسے خطوط محض رسمی تحسین نہیں ہوتے بلکہ وہ طاقتور حلقوں کے سیاسی تاثر، سفارتی اعتماد اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے اشاریے بھی سمجھے جاتے ہیں۔ جیک برگمین کا یہ کہنا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر کے “حقیقی ریاستی بصیرت” کا مظاہرہ کیا ہے، دراصل واشنگٹن کے بعض حلقوں میں پاکستان کے مثبت کردار کے اعتراف کی علامت ہے۔ یہ امر اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان۔امریکا تعلقات سردمہری، بداعتمادی اور محدود تعاون کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔ ایسے میں اگر امریکی سیاسی حلقوں کی جانب سے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا جا رہا ہے تو اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس تمام صورتحال کا ایک نہایت پیچیدہ پہلو بھی موجود ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی محض دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کی سیاست، اسرائیل کا سکیورٹی بیانیہ، خلیجی ریاستوں کے مفادات، عالمی توانائی کی منڈیاں اور بڑی عالمی طاقتوں کے تزویراتی عزائم بھی کارفرما ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ راستہ بظاہر جتنا باوقار دکھائی دیتا ہے، عملی اعتبار سے اتنا ہی حساس اور نازک بھی ہے۔ اسلام آباد کو اس پورے عمل میں غیرجانبداری، سفارتی توازن اور علاقائی اعتماد کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ دکھائی دینے کے بجائے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر اپنی حیثیت قائم رکھ سکے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان خود داخلی معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں ایک فعال علاقائی سفارتی کردار اختیار کرنا بلاشبہ ایک جرات مندانہ اقدام ہے۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض اوقات داخلی استحکام کے لیے خارجی سفارتی کامیابیاں نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ اگر پاکستان واقعی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے یا مذاکراتی عمل کی بحالی میں کوئی قابلِ ذکر کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سفارتی منظرنامے پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ یہاں جنگیں صرف سرحدوں کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، بین الاقوامی منڈیوں اور انسانی سلامتی کے تصورات کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کے اثرات خلیج فارس سے لے کر جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے خطے کی دانشمند قوتیں اب عسکری تصادم کے بجائے سفارتی راستوں کو ترجیح دینے پر زور دے رہی ہیں۔ پاکستان کی حالیہ کوششیں اسی سفارتی رجحان کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جدید عالمی سیاست میں وہی ریاستیں زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہیں جو محض اپنے داخلی مسائل میں الجھنے کے بجائے علاقائی و عالمی تنازعات میں تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ پاکستان اگر اس نازک مرحلے پر ایک متوازن، دانشمند اور فعال سفارتی قوت کے طور پر ابھرتا ہے تو یہ اس کی عالمی ساکھ، علاقائی اہمیت اور تزویراتی وزن میں نمایاں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ سفارت کاری کو وقتی سیاسی تشہیر کے بجائے طویل المدتی قومی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جائے۔
دنیا اس وقت ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت کی روایتی تعریفیں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اب صرف عسکری قوت ہی ریاستوں کی اصل طاقت نہیں رہی بلکہ سفارتی بصیرت، بحرانوں میں ثالثی کی صلاحیت، علاقائی اعتماد سازی اور عالمی استحکام میں کردار بھی ریاستی اثرورسوخ کے اہم پیمانے بن چکے ہیں۔ پاکستان اگر اس حقیقت کو مستقل ریاستی پالیسی میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں اسلام آباد محض ایک جغرافیائی اہمیت رکھنے والی ریاست نہیں بلکہ ایک فعال اور مؤثر سفارتی مرکز کے طور پر بھی پہچانا جانے لگے۔
واپس کریں