دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکی صدر کے دورہ چین کے بعد امریکہ ایران کشیدگی میں مزید اضافہ
No image ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمبوں کے سوا سب کے لیئے کھلی ہے، پاکستان کی مصالحتی کوششیں ابھی ناکام نہیں ہوئیں، امریکہ سنجیدگی دکھائے، ہم جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز نئی دہلی میں برکس کانفرنس میں شرکت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے مصالحتی کوششیں ابھی جاری ہیں۔ پاکستان کا مشن تاحال ناکام نہیں البتہ کچھ طاقتیں سفارتی عمل ناکام بنانا چاہتی ہیں۔ بھارت فیصلہ کر لے کہ اسے ہمارے ساتھ کس قسم کا تعلق رکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات اور سٹریٹجک شراکت داری ہے جبکہ چین نے ہمارے سعودی عرب سے تعلقات میں بحالی میں معاونت کی تھی۔ ان کے بقول ٹرمپ کے متضاد پیغامات کی وجہ سے ہم امریکہ کے حقیقی ارادے سمجھنے سے قاصر ہیں تاہم امید ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے اور ایران اور عمان مشترکہ نظام کے تحت آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھال لیں گے۔ ہمارے پر امن نیوکلیئر پروگرام ہیں اور پر امن ہی رہیں گے۔ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں بنائیں گے۔ عراقچی کے بقول اگر دوسری طرف سے سنجیدگی دکھائی جائے تو ہم بھی مذاکرات چاہتے ہیں۔ امریکہ 40 روزہ جنگ میں کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا، ہم امریکہ پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ نے 2015ء کا معاہدہ بغیر کسی وجہ کے ختم کیا۔ ہم نے 2015 ء میں امریکیوں کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی حاصل کی تھی جبکہ امریکہ نے ایران پر بلاجواز حملہ کیا حالانکہ پوری دنیا نے مذاکرات کو ہماری سفارتی کامیابی قرار دیا تھا۔ 2025ء میں امریکہ ایران مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تو امریکہ نے پھر حملہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے مابین افزودہ یورینیئم کے معاملہ پر ڈیڈ لاک پیدا ہو چکا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب بھی سفارتی راستہ موجود ہے تاہم حالات پیچیدہ ہیں اور ایران ہر ممکن صورت حال سے نمٹنے کے لیئے تیار ہے۔ صورت حال بگڑتی ہے تو ایران لڑائی کے لیئے بھی تیار ہے۔ قبل ازیں برکس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ وہ صرف اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا ہے۔ ان کے بقول سلامتی کونسل عالمی سطح پر عدم مساوات کی علامت بن گئی ہے۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران کی دلیرانہ مزاحمت نے ملک کو امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لیئے مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ ایران نے حالیہ امریکی اورصیہونی حملوں کے خلاف ثابت کیا کہ دشمن کی جارحیت کے خلاف جدوجہد میں پوری قوم متحد ہے۔ دریں اثناء بھارت نے نئی دہلی برکس وزرائے خارجہ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ کی بجائے چئیر سٹیٹمنٹ جاری کردی جس میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بعض برکس رکن ممالک کے مابین اختلاف رائے تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ چین سے ملک واپس پہنچنے کے بعد واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے حامی نہیں تھے، انہوں نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی، انہیں توقع ہے کہ ایران یورینیئم افزودگی 20 سال تک معطل رکھنے کا معاہدہ کر لے گا تاہم ایران نے معاہدہ نہ کیا تو ہم اسے تباہ کر دیں گے۔ انہوں نے قیام امن کے لیئے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کی ستائش کی اور کہا کہ ہم نے ایران سے تیل خریدنے والی چینی کمپنیئوں سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تائیوان کے معاملہ پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہم نے تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی۔ اس لئے نہیں لگتا کہ تائیوان کے ایشو پر چین سے کوئی تنازعہ ہو گا۔ ان کے بقول چین نے ایران کو فوجی سامان نہ بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ ایران 20 سال کے لیئے جوہری پروگرام معطل کر دے تو اس کے ساتھ ڈیل کے لیئے تیار ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین سے عالمی امن و استحکام کی توقعات پیدا ہوئی تھیں اور خود صدر ٹرمپ کی بھی یہ خواہش تھی کہ چین کے دورے پر جانے سے پہلے ان کی ایران کے ساتھ کوئی ڈیل ہو جائے تاہم دوطرفہ لفظی گولہ باری نے امریکہ ایران مذاکرات کی دوبارہ نوبت نہ آنے دی اور اس کے برعکس امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہازوں پر حملے کرکے کشیدگی مزید بڑھا دی گئی۔ اس طرح اسلام آباد مذاکرات کے دوبارہ اجراء کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا۔ اس کے باوجود امریکہ اور ایران دونوں جانب سے پاکستان کی میزبانی اور سفارتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا جاتا رہا۔ اس دوران چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے امریکہ اہران تنازعہ حل کرانے کے لیئے ثالثی کی پیش کش بھی سامنے آگئی چنانچہ اس تناظر میں یہی توقع تھی کہ امریکی صدر کے دورہ چین سے برف پگھلے گی اور امریکہ ایران مفاہمت کا کوئی راستہ نکل آئے گا۔ چین کے صدر نے ملاقات کے دوران اسی بنیاد پر صدر ٹرمپ پر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے قیام امن کا راستہ نکالنے پر زور دیا جبکہ جرمنی کے چانسلر کی جانب سے ایران کو مشورہ دیا گیا کہ وہ مذاکرات کے راستے پد آجائے تاہم امریکہ اور ایران کی قیادتوں کے حالیہ بیانات سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ مستقل قیام امن کے لیئے "ہنوز دِلّی دُور است"۔ چنانچہ ایران اور امریکہ کے مابین یورینئم افزودگی کے معاملے پر جاری ڈیڈلاک، ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیوں، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیج میں بڑھتی عسکری کشیدگی نے عالمی برادری کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان، چین اور جرمنی کی جانب سے مذاکرات، مشاورت اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل کی تجاویز پہلے سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دہلی میں برکس کانفرنس کے موقع پر واضح کیا کہ پاکستان کا ثالثی کا عمل ناکام نہیں ہوا بلکہ یہ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس تعطل کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اب بھی مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے تباہ کر دیں گے، عالمی سفارتی آداب اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی محسوس ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ طاقت کے اظہار اور دھمکیوں کی سیاست نے کبھی پائیدار امن کی راہ ہموار نہیں کی۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں دنیا کے سامنے ہیں جہاں جنگوں نے مسائل حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کیں۔ پاکستان نے ہہرحال کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے اور موجودہ صورتحال میں یہی راستہ سب سے زیادہ مؤثر دکھائی دیتا ہے۔چین نے نہایت ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پورے خطے کو شدید نقصان پہنچا ہے، بحری راستے کھلے رہنے چاہیئں اور ایران کے جوہری مسئلے سمیت تمام تنازعات کا حل مشاورت سے نکالنا چاہیے۔ چین خود دنیا کی بڑی معیشت ہونے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ وہاں کی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ جرمن چانسلر کی جانب سے بھی ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے کا مشورہ اسی عالمی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری ہی مسائل کا دیرپا حل فراہم کر سکتی ہے۔ بے شک اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایران کا بھارت کو یہ پیغام کہ وہ واضح کرے، وہ ایران سے کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے، خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندیوں کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ درحقیقت خطے میں کشیدگی بڑھانے میں بھارت کی دہری پالیسیوں کا بھی عمل دخل ہے۔ اس کا ایک طرف امریکہ کی جانب جھکاؤ ہے اور وہ پاکستان کی میزبانی میں امریکہ ایران مذاکرات سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں بھی مصروف ہے۔ جبکہ دوسری جانب وہ ایران کے ساتھ اقتصادی اور تزویراتی روابط بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ توازن برقرار رکھنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور ذمہ دارانہ نظر آتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی بلکہ خطے کے امن اور استحکام کو ترجیح دی اور کسی بھی فریق کی اندھی حمایت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو فروغ دیا۔ موجودہ عالمی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بڑی طاقتیں انا اور طاقت کے مظاہرے سے گریز کریں اور تحمل، برداشت اور باہمی احترام کے اصولوں کو اپنائیں۔ امریکہ اور ایران اگر ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کے بجائے مذاکرات کی میز پر آئیں تو نہ صرف خطہ ایک بڑی جنگ سے محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ عالمی امن اور اقتصادی استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔دنیا پہلے ہی جنگوں، مہنگائی، توانائی بحران اور انسانی المیوں سے دوچار ہے۔ ایسے میں ممکنہ عالمی جنگ جو یقینناً ایٹمی جنگ ہو گی، شروع ہو گئی تو پورے عالمی نظام کی تباہی پر منتج ہوگی۔ اس لیئے فریقین کو چاہیے کہ وہ مذاکرات، مشاورت اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کریں تاکہ دنیا غیر یقینی کی فضا سے باہر نکل کر ترقی و خوشحالی کے راستے پر دوبارہ گامزن ہو سکے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں