
حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ بجٹ کی اہم تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔ گزشتہ روز پاکستان کی اکنامک مینجمنٹ ٹیموں اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان بریفنگ کے کئی مراحل ہوئے، جن میں ایف بی آر ریونیو اہداف، پاور سیکٹر اصلاحات، سرکلر ڈیٹ، اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات اور بجٹ ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بجٹ میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے متعلق متعدد مراعات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کے لیے نئے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں لاگت کے مطابق اضافہ یا ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ایک عرصے سے حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا یہ آخری پروگرام ہوگا، مگر جیسے ہی ایک پروگرام مکمل ہونے کے قریب پہنچتا ہے، نئے پروگرام کے لیے مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں ملک مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے جبکہ عوام کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کے بجٹ اور معاشی فیصلے اس حد تک بیرونی اداروں کی ہدایات کے تابع کیوں ہو چکے ہیں؟ کسی بھی خودمختار ملک کے لیے یہ صورتحال لمحۂ فکریہ ہے کہ اس کا بجٹ بھی بیرونی مالیاتی اداروں کی شرائط اور ڈکٹیشن کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ بلاشبہ قرض دینے والے اداروں کو اپنی رقوم کی واپسی کی فکر ہوتی ہے، مگر جب معاشی پالیسیاں عوامی مفاد کے بجائے صرف قرضوں کی واپسی کو مدنظر رکھ کر بنائی جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام آدمی پر پڑتے ہیں۔آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں ٹیکس وصولیوں میں بھاری شارٹ فال سامنے آیا ہے۔ صرف دس ماہ میں یہ خسارہ 684 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کے بعد آئی ایم ایف نے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور مزید سخت اقدامات پر زور دیا ہے۔عالمی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط سے نجات اسی صورت ممکن ہے جب ملک اپنی معاشی بنیادیں مضبوط کرے، ٹیکس نظام میں انصاف لایا جائے، فضول اخراجات کم کیے جائیں اور مقامی صنعت و تجارت کو فروغ دیا جائے۔ کیونکہ آئی ایم ایف کو قرض اور سود کی واپسی سے غرض ہوتی ہے، عوام کی مشکلات سے نہیں۔ادھر مہنگائی نے پہلے ہی عام آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ ادارۂ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سالانہ مہنگائی کی شرح 14.52 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 64 فیصد، ڈیزل میں 61 فیصد، آٹے میں 57 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 52 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر بجٹ میں نئے ٹیکس عائد کیے گئے اور پٹرول و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا تو یہ عوام پر مہنگائی کا ایک اور طوفان مسلط کرنے کے مترادف ہوگا۔حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں محض پانچ روپے کمی کو ریلیف قرار دینا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔پٹرولیم مصنوعات میں پانچ روپے کمی مذاق سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔جب اضافہ کیا گیا تو ایک مرتبہ 55 روپے پھر 135 سے 187 روپے فی لٹر۔اب کمی صرف پانچ روپے کی گئی ہے۔حکومت عوام کا صبر نہ آزمائے مہنگائی کے طوفان عوام کا عرصہ حیات تنگ کیے ہوئے ہیں۔تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوام زندگی اجیرن کرنے والوں کے خلاف کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں