آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی سفارت کاری عالمی برادری کا کڑا امتحان

دنیا کی سیاست ایک بار پھر خلیجِ فارس کے گرد گھوم رہی ہے۔ دنیا کی توانائی کی شہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کی صورتحال ایسی ہے کہ ہر بیان اور ہر سفارتی قدم عالمی معیشت اور امن پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، اس میں پاکستان کا کردار، چین کا رویہ اور یورپی افواج کی نقل و حرکت، یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو نہایت پیچیدہ بھی ہے اور خطرناک بھی۔ اس صورتحال میں امریکا اور ایران کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ فریقین معاملات کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھائے رکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کے ایسے اقدامات پوری دنیا کی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس معاملے میں سب سے اہم کردار پاکستان کا ہے جو مذاکرات کے ذریعے قیامِ امن کے لیے کوشش کر رہا ہے لیکن جب تک فریقین آمادہ نہ ہوں، پاکستان کی کوششیں ثمر آور نہیں ہو سکتیں۔
اب اقوامِ متحدہ میں امریکا کے مندوب مائیکل والٹز نے ایک اہم دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ کے بعد چین نے ایران سے اپنا رویہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ والٹز کے مطابق، بیجنگ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان اگر درست ثابت ہو تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے کیونکہ چین اس وقت ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور بیجنگ کا دباؤ تہران کی پالیسیوں کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم چین کے اپنے سفیر نے اقوامِ متحدہ میں ایک مختلف لہجہ اختیار کیا اور آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی قرارداد کے متن اور وقت کو نامناسب قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضرورت یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو سنجیدہ اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات پر آمادہ کیا جائے، نہ کہ قراردادوں کا بوجھ لادا جائے۔ چین کا یہ لہجہ اس کی روایتی سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سلسلے میں زمینی سطح پر صورتحال بھی کم دلچسپ نہیں۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے وضع کردہ قانونی پروٹوکول کے تحت آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ اس اقدام کو کچھ حلقوں نے لچک کی علامت قرار دیا ہے تو کچھ نے اسے محض تکنیکی دباؤ کا نتیجہ۔ دوسری طرف، فرانس کی وزیر دفاع الیس روفو نے اعلان کیا کہ طیارہ بردار بحری جہاز شارل ڈیگول اور اس کے ساتھ چلنے والے جہاز جزیرہ نما عرب کے ساحلوں کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ ان کا مشن آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آمد و رفت کو بحال کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار کردار ادا کرنا ہے۔ شارل ڈیگول نے نہر سویز عبور کر کے بحیرۂ عرب کی طرف پیش قدمی کی، تاہم وزیر دفاع نے واضح کیا کہ جہاز ابھی آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہوا۔ یورپ کی یہ فوجی موجودگی ایک خاموش پیغام ہے کہ مغربی دنیا اس آبی گزرگاہ پر کسی ایک ملک کو قابض نہیں ہونے دے گی۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے حیران کن اور قابلِ توجہ پہلو پاکستان کا کردار ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے واپسی پر ایئرفورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بعض اہم شخصیات کی درخواست پر روکا گیا۔ انھوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور پاک فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاندار شخصیات ہیں جنھوں نے انھیں حملے سے روک کر کہا کہ ہم ڈیل کرا دیں گے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ جنگ بندی پاکستان پر ایک نوازش تھی۔ یہ بیان بظاہر سادہ لگتا ہے مگر اس کے پیچھے ایک گہری سفارتی کہانی ہے۔ پاکستان نے ایک ایسے وقت میں خطے کی بین الاقومی سطح پر قیامِ امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا جب بڑی طاقتیں ٹکراؤ کی راہ پر تھیں۔ امریکی کانگریس نے بھی پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کیا۔ کانگریشنل پاکستان کاکس کے شریک چیئرمین جیک برگمین نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تعریفی خط ارسال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا حقیقی ریاستی بصیرت کا ثبوت ہے۔ یہ اعتراف محض رسمی نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سفارت کاری میں اپنی ساکھ بحال کرنے کی راہ پر ہے۔
دوسری طرف، ایران کا موقف بھی واضح ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ارلوانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور اس کے عالمی معاشی اثرات کی ذمہ داری ان قوتوں پر عائد ہوتی ہے جنھوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران کو دو غیر قانونی جارحانہ اقدامات کا سامنا کرنا پڑا جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی تھے اور ان کے اثرات جنگ کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر محمد مخبر نے خلیجی ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے برسوں تک انھیں دوست اور برادر سمجھا مگر انھوں نے اپنی سرزمین اور وسائل ایران اور فلسطین کے دشمنوں کے حوالے کر دیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ جنگ کے دوران تہران نے تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن یہ تحمل ہمیشہ قائم نہیں رہے گا۔اس صورتحال میں صدر ٹرمپ نے ایران کے بارے میں ایک دلچسپ تبصرہ بھی کیا۔ انھوں نے امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بار جب وہ ڈیل کرتے ہیں تو اگلے روز ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بات ہوئی ہی نہیں۔ یہ بیان ایک طرف تو مذاکراتی عمل کے طول پکڑنے سے پیدا ہونے والی تھکاوٹ کی عکاسی کرتا ہے اور دوسری طرف اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی خلیج ابھی بہت گہری ہے۔ مجموعی صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایک طرف سفارتی سرگرمیاں، مذاکرات، قراردادیں اور تعریفی خطوط ہیں تو دوسری طرف فوجی جہازوں کی نقل و حرکت، خبردار کرنے والے بیانات اور اقتصادی مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ اس پیچیدہ کھیل میں پاکستان جو کردار ادا کر رہا ہے وہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ بظاہر ناممکن نظر آنے والے معاملات کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔ آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا پاکستان کی سفارتی کامیابی ایک پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے یا یہ محض ایک عارضی وقفہ ہے جس کے بعد کشیدگی پھر سر اٹھائے گی۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں