ایل اے 23 پلندری کا انتخابی دنگل اور بدلتے سیاسی منظرنامے

تحریر: سہیل الطاف خان ۔ ایل اے 23 پلندری کے انتخابی منظرنامے پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک انتہائی دلچسپ، سنسنی خیز اور کانٹے دار معرکہ جنم لیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ جوں جوں آئندہ عام انتخابات کے دن قریب آ رہے ہیں، حلقے کی سیاسی فضا میں ہلچل اور جوڑ توڑ کا عمل تیز تر ہو گیا ہے۔ اس بار پلندری کی سیاسی بساط پر پے در پے ایسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو روایتی انتخابی نتائج کو یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔حلقے کی موجودہ سیاسی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس بار اصل اور سب سے بڑا انتخابی دنگل سابق وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی اور معروف مذہبی و سیاسی شخصیت مولانا سعید یوسف صاحب کے درمیان متوقع ہے۔ خصوصاً اب یہ امکانات انتہائی واضح ہو رہے ہیں کہ اگر مولانا سعید یوسف صاحب پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے اتحادی ٹکٹ کی صورت میں میدان میں اترتے ہیں، تو یہ مقابلہ پچھلی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔ موجودہ سیاسی جوڑ توڑ کے مطابق اس اتحاد کے چانسز سب سے زیادہ نظر آ رہے ہیں۔اس سارے انتخابی ماحول میں تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کا ووٹ بینک ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن فیکٹر بن کر ابھرا ہے۔ حلقے میں تحریک لبیک کا ایک مضبوط نظریاتی ووٹ بینک موجود ہے۔ اگر تحریک لبیک کا یہ نظریاتی ووٹ نون لیگ یا مولانا سعید یوسف کی طرف منتقل ہوتا ہے، یا وہ کسی بڑی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد کا فیصلہ کرتے ہیں، تو یہ ووٹ کسی کی بھی جیت میں حتمی اور فیصلہ کن کردار ادا کرے گا اور مقابلہ حد درجہ سخت ہو جائے گا۔ تاہم، اگر تحریک لبیک نے کوئی اتحاد نہ کیا اور اپنا الگ امیدوار میدان میں اتارا، تو پھر یہ ووٹ بینک فیصلہ کن پوزیشن برقرار رکھنے کے بجائے روایتی انداز میں تقسیم ہو جائے گا۔دوسری جانب، موجودہ ممبر اسمبلی سردار محمد حسین خان صاحب نے اگرچہ اپنے دورِ اقتدار میں حلقے کے اندر ریکارڈ اور تاریخی ترقیاتی کام کروائے ہیں، لیکن ان تمام تر ترقیاتی منصوبوں کے باوجود وہ اس بار شدید سیاسی مشکلات کا شکار نظر آتے ہیں۔ محمد حسین صاحب کی اس پوزیشن کی سب سے بڑی وجہ ان کے اردگرد موجود وہ مخصوص اور خاص لوگ ہیں جو انہیں مسلسل غلط مشورے دیتے رہے۔ انھی خاص مصلحت پسندوں کی غلط کونسلنگ اور ناقص مشوروں کے خمیازے کے طور پر، محمد حسین صاحب اس بار وہ روایتی اور فیصلہ کن ووٹ حاصل کرنے سے محروم رہیں گے جو ماضی میں ان کی بڑی طاقت رہا ہے۔پلندری کے اس انتخابی اکھاڑے میں نوجوان بھی صف اول میں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سیاسی خلا کو پُر کرنے کے لیے سردار امان کشمیری بھی انتخابی میدان میں اترنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ سردار امان کشمیری حلقے کے نوجوانوں کے ایک انتہائی مقبول اور مشہور لیڈر ہیں اور نوجوان طبقہ انہیں بہت بڑی تعداد میں پسند کرتا ہے۔ پلندری کی ہر یونین کونسل میں ایسے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جو سردار امان کشمیری کی بھرپور حمایت اور سپورٹ کر رہی ہے۔ اگر امان کشمیری کو الیکشن لڑنے کی اجازت ملتی ہے، تو وہ انتخابی دنگل میں اچھے ووٹ لے سکتے ہیں، جس سے حلقے کی روایتی سیاست میں ایک نیا رخ پیدا ہو گا۔ اسی طرح نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے وکالت کے شعبے سے منسلک ایک متحرک نوجوان وکیل، کمانڈر جنید بھی آزاد امیدوار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں اور وہ بھی انتخابی میدان میں حصہ لے کر نوجوانوں کے ووٹ بینک پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔پلندری کے اس پورے انتخابی نقشے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا نظریاتی ووٹ بھی ایک فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اس تبدیلی پسند ووٹ بینک کا رخ کیا ہوگا؟ یہ مکمل طور پر پارٹی ٹکٹ کی تقسیم پر منحصر ہے۔ اس تناظر میں سردار جنید الطاف کا نام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سردار جنید الطاف کا حلقے میں اپنا ایک مضبوط اور فعال ذاتی ووٹ بینک پہلے سے موجود ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی قیادت انہیں اپنا باقاعدہ امیدوار نامزد کرتی ہے اور انہیں پارٹی ٹکٹ مل جاتا ہے، تو پی ٹی آئی کا نظریاتی ووٹ اور ان کا ذاتی اثر و رسوخ مل کر ایک طاقتور اتحاد کی شکل اختیار کر جائے گا۔ ایسی صورت میں سردار جنید الطاف حلقے سے ایک اچھا ووٹ حاصل کر سکتے ہیں۔حلقہ ایل اے-23 پلندری کی سیاسی تاریخ میں جماعت اسلامی کا ایک مخصوص، مضبوط اور غیر متزلزل نظریاتی ووٹ بینک ہمیشہ موجود رہا ہے۔ یہ وہ ووٹ ہے جو کسی دنیاوی لالچ، برادری ازم یا عارضی مفاد کے تحت نہیں، بلکہ خالصتاً ایک نظریے، دیانت داری اور خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت کاسٹ ہوتا ہے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں اس نظریاتی ووٹ بینک کی سب سے مضبوط اور معتبر آواز ارشد ندیم صاحب ہیں۔
ان تمام ممکنہ تحرکات، ٹکٹوں کے فیصلوں اور نئے چہروں کی آمد کے باوجود، پلندری کی سیاسی زمین کا سچ یہی ہے کہ حتمی اور فیصلہ کن دنگل ڈاکٹر نجیب نقی اور پیپلز پارٹی کے ممکنہ اتحادی چہرے مولانا سعید یوسف کے مابین ہی لڑا جائے گا۔ دونوں دھڑے ووٹرز کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پلندری کے باشعور عوام اس بار ترقیاتی کاموں، ذاتی اثر و رسوخ یا پھر سیاسی و نظریاتی وابستگیوں میں سے کس کے حق میں اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہیں۔
واپس کریں