دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کشمیر ایک خطہ نہیں،ہماری تاریخ،غیرت اور ہمارے قومی تشخص کا حصہ ہے
No image لاہور(نامہ نگار خصوصی) کشمیرسنٹرلاہور کے زیراہتمام آپریشن بنیان مرصوص کی فتح کو ایک سال پورا ہو نے پر خصوصی سیمینار کا ا نعقاد کیا گیا۔ سیمینا رکا موضوع تھا ”آپریشن بنیان مرصوص کے تناظر میں مسئلہ کشمیر اور ہماری قومی ذمہ داریاں“۔ سیمینارسے سابق صدارتی مشیر نصیب اللہ گردیزی، سابق جج بختیار علی سیال،مولاناشفیع جوش،پروفیسر اسماء حسن، رہنماکل جماعتی حریت کا نفر نس انجینئرمشتاق، چیئرمین فکراقبال فاؤ ڈیشن انجینئرعبدالوحید خواجہ،مرکزی جوائنٹ سیکرٹری مسلم لیگ ن راجہ شیرزمان ایڈووکیٹ،ا نچارج سنٹرانعام الحسن، صدر ن لیگ لاہور ڈویژ ن آزادکشمیرراجہ شہزاداحمد،جنرل سیکرٹری بلال بٹ، رہنما محاذ رائے شماری آفتاب نازکی، سینئرصحافی نصیر الحق ہاشمی، علامہ مشتاق قادری، مولا نافداء حیدری،چوہدری محمد صدیق، چیئرمین بزم وارث شاہ نذربھنڈر، عالمی سیاح مقصودچغتائی، معراج دین شاہین، شیخ امجد، زبیرقمر،قاری خالدمحمود،کیپٹن (ر) مشتاق، محموداے ترازی، ریاض چشتی، معروف فنکار اسلم مغل، عثمان ڈار، اسلم منہاس، معروف ادیب متین کاشمیری اور دیگر نے خطاب کیا۔ سیمینار کے ا نعقاد میں بزم وارث شاہ پاکستان کا اشتراک تھا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کی شا ندار فتح دراصل پاک فوج کی پیشہ ورا نہ صلاحیت کابھرپوراظہاراور کشمیریوں کی دعاؤں کی قبولیت کا نتیجہ تھا۔ ہم پاک فوج کو شا ندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس فتح سے پاکستان کا وقار د نیا بھر میں بلند ہوا۔ کشمیریوں کی ہمیشہ پاکستا ن کو ایک طاقتور، مضبوط اور مستحکم وکیل کے روپ میں دیکھنے کی خواہش رہی۔ کشمیر ہی سے شروع ہو نے والے آپریشن نے پاکستان کو یہ شا ندار مقام دلایا کہ آج پاکستان سپرپاور امریکہ اور ایران کے درمیا ن ثالثی کا فریضہ سرا نجام دے رہاہے۔ مقررین نے کہا کہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کامقصد پاکستا ن کو پہلگام واقعہ میں ملوث کرکے عالمی سطح پر بد نام کر نا تھا۔ بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کومجبور کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف بات کریں لیکن ایک بھی کشمیری شہری نے پاکستان کے اس واقعہ میں ملوث ہو نے کا اقرار نہیں کیابلکہ بندوقوں کے سائے میں برملا اس کا الزام بھارتی فوج اور بھارت کے خفیہ اداروں پر عائد کیا۔ بھارتی میڈیا کی یہی ناکامی آخرکار بھارتی فوج کی نا کامی کاپیش خیمہ ثابت ہوئی۔ بھارت سمجھ دار ہوتا تو وہ کبھی پاکستان کے خلاف آپریشن نہ کرتا۔ مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک خطے کا تنازع نہیں، بلکہ یہ ا نسا نی حقوق، آزادی، ا نصاف اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد ہے۔ کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے ظلم، جبر اور پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ا ن کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ ان کی قربا نیاں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ آزادی کی شمع قربا نیوں سے روشن رہتی ہے۔کشمیر کاز صرف کشمیری عوام کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری پاکستا نی قوم اور امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بنیان ِ مرصوص کا تصور ہمیں اتحاد، یکجہتی اور اجتماعی قوت کا درس دیتا ہے۔ جب قومیں متحد ہوتی ہیں تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم کشمیر کے مسئلے کو ز ندہ رکھیں۔دنیاکے سامنے کشمیری عوام کی آواز بنیں۔ سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر ا ن کی حمایت جاری رکھیں۔ نوجوا ن نسل کو کشمیر کی تاریخ اور حقیقت سے آگاہ کریں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط قوم بنیں۔ سیاسی، مذہبی اور لسا نی تقسیم سے نکل کر ایک آواز بنیں، کیوں کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ ہماری تاریخ، ہماری غیرت اور ہمارے قومی تشخص کا حصہ ہے۔
واپس کریں