دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرمپ کا دورہ چین،عالمی قیادت کا اصل امتحان
No image امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دو روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق بیجنگ پہنچنے پر چینی نائب صدر ہان ژینگ نے صدر ٹرمپ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر چین میں امریکی سفیر اور چین کے ایگزیکٹو نائب وزیر خارجہ ماژا وشو بھی موجود تھے۔ امریکی صدر کے استقبال کے لیئے 300 چینی فوجی جوان بھی بیجنگ ائیر پورٹ پر تعینات تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں چینی اور امریکی پرچم تھام رکھے تھے۔ ٹرمپ کے ساتھ ان کا بیٹا، بہو اور ایلون مسک بھی دورہ چین پر آئے ہیں۔ چینی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے اس دورے کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ بیجنگ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کی چینی صدر سے ایران جنگ پر تفصیلی بات ہوگی۔ وہ چین کو امریکہ کی منڈیوں کے لیئے کھولنے کا بھی کہیں گے۔ دریں اثناء چین نے امریکی صدر کے دورہ چین کا خیر مقدم کیا ہے۔ چینی ترجمان کے مطابق دونوں صدور دو طرفہ تعلقات اور عالمی امن پر تبادلہ خیال کریں گے۔ چین امریکہ سے برابری اور باہمی احترام کے ساتھ اختلافات مؤثر انداز میں سنبھالنے کو تیار ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی کوریج پر امریکی میڈیا کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹس، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تہران عسکری طور پر واشنگٹن کے مقابلے میں اچھی پوزیشن پر ہے، دراصل امریکہ سے غداری کے مترادف ہیں۔ اس سلسلہ میں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر لکھا کہ یہ لوگ دشمن کی مدد اور سہولت کاری کر رہے ہیں۔ اس کا واحد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایران کو جھوٹی امید ملتی ہے حالانکہ ایسی کوئی امید ہونی ہی نہیں چاہیئے۔ دریں اثناء عالمی میڈیا کی جانب سے صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے حوالے سے جو رپورٹس دی گئی ہیں ان کے مطابق چین نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں چار اہم سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں۔ چین نے واضح طور پر باور کرایا ہے کہ تائیوان، سیاسی نظام، جمہوریت و انسانی حقوق اور ترقیاتی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ چین نے امریکہ کی جانب سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی بھی مخالفت کی ہے۔ یہ امر واقع ہے کہ اپنے دورہ چین سے قبل امریکی صدر ٹرمپ کسی نہ کسی صورت میں ایران امریکہ مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھنے اور امن معاہدہ طے پا جانے کے خواہاں تھے جس کے لیئے ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ بھی دیا جاتا رہا اور انہوں نے امن معاہدے کے لیئے چینی صدر شی جن پنگ کی ثالثی کی پیش کش کو بھی سراہا۔ اس کے باوجود انہوں نے دنیا کی تھانیداری کے زعم میں اور محض اپنی انا کی تسکین کے لیئے اسلام آباد مذاکرات کی جانب کوئی عملی پیش رفت نہ کی اور اس کے برعکس جنگ بندی کے دوران امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرکے ایران کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھائی جس پر ایران کی قیادت کی جانب سے بھی سخت لب و لہجہ اختیار کیا گیا۔ دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے خلاف لفظی گولہ باری ہنوز جاری ہے جس کے باعث پوری دنیا کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے، عالمی منڈیاں اور معیشتیں دیوالیہ ہونے کے دہانے تک جا پہنچی ہیں اور انسانی بقا خطرے میں پڑی نظر آتی ہے۔ ان حالات میں امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین عالمی امن کے لیئے ایک امید کی کرن محسوس ہو رہا ہے کیونکہ چین پہلے ہی علاقائی امن کی سفارتی کوششوں میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس تناظر میں صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے عالمی امن کے لیئے مثبت نتاٰئج برامد ہونے کی توقع ہے۔ بے شک آج ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے معاملہ میں ٹرمپ انتظامیہ اپنے ملک کے اندر بھی سخت دباؤ میں اور تنقید کی زد میں ہے۔ گذشتہ روز امریکی سینٹ میں ایران کے خلاف مستقل جنگ بندی کے لیئے امریکی ڈیموکریٹس کی قرارداد صرف ایک ووٹ کے فرق سے منظور نہیں ہو سکی مگر مگر ٹرمپ کے جنگی عزائم پر انہیں ڈیموکریٹس کے علاوہ ری پبلکن ارکان کی بھی کڑی تنقید کا نشانہ بننا پڑا اور ڈیموکریٹ رکن کانگرس ایڈورڈ کیس نے تو ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کے کامیابیوں کے دعوؤں کا یہ کہہ کر پول کھول دیا کہ اس جنگ میں امریکہ کے 39 جنگی جہاز تباہ ہوئے ہیں۔ سینٹ کے اجلاس میں اس کے علاوہ بھی ٹرمپ انتظامیہ کی ہزیمتوں کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اور امریکہ کو ایران کی جانب سے جس سخت مزاحمت کا سامنا ہے جبکہ ٹرمپ ایران کی یہ دھمکی اپنے پلّے باندھ کر چین آئے ہیں کہ آبنائے ہرمز امریکہ کے لیئے قبرستان بن سکتی ہے، اس کے تناظر میں ٹرمپ کو چینی صدر کے ساتھ مذاکرات میں ایران سے مستقل جنگ بندی کا کوئی راستہ نکلتا نظر آئے گا تو اپنی برتری کے زعم کے باوجود وہ طوہاً و کرحاً اسے قبول کر لیں گے۔ موجودہ عالمی حالات میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر سخت کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی نے عالمی امن کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے اور دنیا ایک غیر یقینی صورت حال سے گزر رہی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ چین اور بیجنگ میں ان کا پرتپاک استقبال ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ چین کی جانب سے امریکہ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات کی خواہش اور اختلافات کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کے عزم کا اظہار عالمی سیاست میں اعتدال اور تدبر کی عکاسی کر رہا ہے۔
بے شک چین نے ہمیشہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی چین نے ثالثی کی پیش کش کرکے یہ واضح کیا کہ وہ خطے میں جنگ کے بجائے امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔ چین بخوبی جانتا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے مزید بھڑکے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی امن بری طرح متاثر ہوگا۔ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اسی خطرناک منظرنامے کی نشاندہی کر رہی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران چینی منڈیوں کو امریکہ تک وسعت دینے کی خواہش کا اظہار اس امر کا ثبوت ہے کہ امریکہ بھی چین کی معاشی اہمیت سے صرفِِ نظر نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتیں تصادم کی راہ اپنائیں گی تو اس کے تباہ کن اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری ٹرمپ کے دورۂ چین کو امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری نہ صرف عالمی تجارت کے لیے مفید ہوگی بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔یہ امر واقع ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس وقت دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ انسانی تباہی کی نوبت لاتی ہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا کی مثالیں امریکہ کے سامنے ہیں جہاں عسکری مداخلت نے امن قائم کرنے کے بجائے مزید تباہی، بدامنی اور انسانی المیوں کو جنم دیا۔ ایران کے معاملے میں بھی اگر مزید طاقت کے استعمال کی راہ اختیار کی گئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر یہ راستہ متاثر ہوا تو عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گی کیونکہ تیل کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی مشکلات ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکی ہیں۔ پاکستان اور چین اس نازک صورتحال میں امن اور استحکام کے داعی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں توازن اور مذاکرات کی سیاست کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مسلم دنیا اور عالمی طاقتوں کے مابین مفاہمت کی کوشش کی ہے۔ چین بھی اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کے مابین اس معاملے پر مکمل ہم آہنگی ہے۔ سی پیک سمیت مختلف منصوبے اس امر کے متقاضی ہیں کہ خطے میں امن قائم رہے اور بڑی طاقتیں تصادم کے بجائے تعاون کی راہ اپنائیں۔یہ امر خوش آئند ہے کہ چین نے اختلافات کو مؤثر انداز میں سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ بے شک یہی رویہ عالمی سیاست میں استحکام لا سکتا ہے۔ اگر امریکہ اور چین باہمی اختلافات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات مشرقِ وسطیٰ سمیت تمام عالمی اور علاقائی تنازعات پر مرتب ہوں گے۔ دنیا کو اس وقت جنگی بیانیے کے بجائے امن، تجارت، ترقی اور انسانی فلاح کے ایجنڈے کی ضرورت ہے۔اس تناظر میں امریکی صدر کے دورۂ چین سے دنیا کو امن و آشتی کا پیغام ملنا چاہیے اور یہ دورہ اس حقیقت کا مظہر ہونا چاہیے کہ عالمی طاقتیں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے جنگوں کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے سفارت کاری، باہمی احترام اور اقتصادی تعاون کو ترجیح دیتی ہیں۔ موجودہ عالمی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ امریکہ ایران کشیدگی کو فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے کم کیا جائے، کیونکہ ایک بڑی جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تباہ کن نتائج سے دوچار کر سکتی ہے۔ عالمی قیادت کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ انسانیت کو جنگ کے دہانے سے واپس لائے اور دنیا کو امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں