محمد ریاض ایڈووکیٹ
بلاشبہ قوموں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں رہتے بلکہ اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے دن قوموں کے اعتماد، وقار اور حوصلے کی علامت بن کر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ پاکستانی تاریخ میں دس مئی 2025 کا دن بھی یقیناً انہی یادگار ایام میں شمار کیا جاتا رہے گا، جب پاکستانی مسلح افواج نے“بنیان المرصوص”کے نام سے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا کر دنیا کو یہ باور کروایا کہ پاکستان صرف جغرافیہ کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست ہے جو اپنے دفاع اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ یہ کامیابی محض ایک عسکری فتح نہ تھی، بلکہ قومی یکجہتی، اجتماعی عزم اور بے مثال قربانیوں کا روشن ثمر تھی۔ وطنِ عزیز کے ہر شہری نے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی یا مذہبی فکر سے ہو، اس کامیابی کو اپنی عزت، قومی وقار اور اجتماعی سربلندی کی علامت سمجھا۔ پاکستانی افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جراتِ عمل اور غیر متزلزل عزم کے ذریعے نہ صرف دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بھی بلند کیا۔ راقم الحروف نے بھی گزشتہ برس انہی ایام میں متعدد کالم تحریر کیے، جن میں مملکتِ پاکستان اور پاکستانی مسلح افواج کی کامیابیوں کو فخر و اعتزاز کے ساتھ اجاگر کیا گیا۔ بلاشبہ ایسی فتوحات جشن و مسرت کی متقاضی ہوتی ہیں، کیونکہ اپنی کامیابیوں کی خوشی منانا زندہ اور باوقار قوموں کی روشن روایات ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جشن کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟ کیا ہر خوشی کا اظہار شور شرابے، ناچ گانے اور سرکاری خزانے کے بے دریغ استعمال سے ہی ممکن ہے؟ کیا قومی وقار کی علامت بننے والے کسی مقدس نام یا قرآنی اصطلاح کو ایسے اندازِ جشن سے منسوب کرنا مناسب ہے جو خود اس نام کی روح سے متصادم محسوس ہو؟
“بنیان المرصوص”محض ایک عسکری آپریشن کا نام نہیں، بلکہ قرآن کریم سے ماخوذ ایک عظیم اصطلاح ہے، جو نظم، اتحاد، استقامت اور اللہ کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہونے کا استعارہ ہے۔ جب اسی عنوان کے تحت منعقدہ تقریبات میں ڈھول، دھمال، موسیقی،مرد و خواتین کے مخلوط ناچ گانے، آتش بازی اور غیر سنجیدہ سرگرمیاں غالب آجائیں تو حساس ذہنوں میں سوال پیدا ہونا فطری امر ہے کہ کیا ہم اپنی فتوحات کی روح کو سمجھنے میں کامیاب ہو سکے ہیں یا صرف نمائشی انداز اختیار کر لیا ہے؟ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ایک عام آدمی روز بروز بڑھتی مہنگائی، بجلی و گیس کے ناقابل برداشت بلوں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے۔ ایک مزدور اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ متوسط طبقہ مسلسل سکڑ رہا ہے جبکہ غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان دکھائی دیتا ہے۔
ایسے حالات میں اگر قومی خزانے سے کروڑوں روپے جشن اور نمائشی تقریبات پر خرچ کیے جائیں تو سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا ریاست کی اولین ترجیح عوامی فلاح ہے یا وقتی تاثر پیدا کرنا؟ قومی خزانہ کسی حکومت، ادارے یا شخصیت کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہوتا ہے۔ اس امانت کا مصرف ہمیشہ قومی ضرورت، عوامی ریلیف اور بنیادی سہولیات ہونا چاہیے، نہ کہ ایسی تقاریب جو چند گھنٹوں کی رونق کے بعد محض تصویروں اور خبروں تک محدود رہ جائیں۔ حب الوطنی کا تقاضا ہرگز یہ نہیں کہ سوال کرنے والے کو حب الوطن نہ سمجھا جائے۔ اصل حب الوطنی تو یہی ہے کہ ریاستی وسائل کے درست استعمال کے لئے آواز اٹھائی جائے، قومی ترجیحات پر غور کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قوم کا پیسہ قوم کی بہتری پر خرچ ہو۔ ایک باشعور قوم جشن ضرور مناتی ہے مگر اسراف نہیں کرتی؛ خوشی ضرور مناتی ہے مگر احساسِ ذمہ داری کو فراموش نہیں کرتی۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عین انہی اوقات میں جب جشن منایا جارہا تھا، بنوں میں دہشتگردی کے ایک افسوسناک واقعے میں ہمارے متعدد پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے۔ وہ جوان بھی اسی سبز ہلالی پرچم کے محافظ تھے، وہ بھی اسی وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان شہداء کی قربانیاں اتنی معمولی تھیں کہ قوم ڈھول کی تھاپ پر ناچ گانا، موج مستی اور جشن مناتی رہے اور شہادتوں کے غم کو پس منظر میں دھکیل دیا جائے؟ 10 مئی کو جشن کے نام پر سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں کے باعث کئی شہروں کی اہم شاہراہیں بند رہیں، جس سے شہریوں کو ٹریفک مسائل، روزمرہ معمولات میں خلل اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاشبہ کامیابیوں کا جشن قوموں کی روایت ہے، مگر ایسا طرزِ جشن جو عوام کے لیے دشواری کا باعث بنے، اس پر سوال اٹھانا منفی سوچ نہیں بلکہ قومی شعور کی علامت ہے۔ غزوہ بدر اور غزوہ حنین کے واقعات ہمیں یہ اہم سبق دیتے ہیں کہ نہ عددی یا عسکری کمزوری مایوسی کا سبب بننی چاہیے اور نہ ہی برتری گھمنڈ کا باعث؛ اصل بھروسا ہمیشہ اللہ کی مدد پر ہونا چاہیے، کیونکہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اللہ کریم ہمیشہ مملکت پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین
واپس کریں