بیجنگ، ہرمز اور نئی عالمی کشمکش۔محمد محسن خان ( راجپوت )

امریکی عالمی بالادستی کے بیانیے کو اس وقت ایک غیر معمولی سفارتی اور تزویراتی آزمائش کا سامنا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ امریکی۔چین قیادت ملاقات نے محض دو طاقتوں کے مابین رسمی مذاکرات کا منظر پیش نہیں کیا بلکہ اس نے بدلتے ہوئے عالمی توازنِ قوت، بحرانی جغرافیائی سیاست، معاشی انحصار اور عسکری نفسیات کے کئی پوشیدہ زاویوں کو بھی نمایاں کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص عوامی اور نمائشی انداز کے ساتھ چین پہنچے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر گرم جوشی کا مظہر بنے بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ میں ایک ایسی علامتی تصویر بھی ابھرے جس میں واشنگٹن اور بیجنگ ذاتی تعلقات کی قربت کے تاثر کے ساتھ نظر آئیں، مگر چینی صدر شی جن پنگ نے غیر معمولی احتیاط، تہذیبی وقار اور ریاستی سنجیدگی کے ساتھ اس خواہش کو محض رسمی مصافحے تک محدود رکھا۔
یہ معمولی سفارتی جزئیات دراصل بین الاقوامی تعلقات کی عمیق نفسیات کی آئینہ دار تھیں۔ ٹرمپ مسلسل شی جن پنگ کو “دوست” قرار دیتے رہے، مگر چینی قیادت نے اس جذباتی اصطلاح سے شعوری اجتناب کیا۔ بیجنگ بخوبی جانتا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں الفاظ بھی تزویراتی ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر شی نے تعلقات کی نوعیت بیان کرتے ہوئے “شراکت داری” کی محتاط اصطلاح اختیار کی، گویا چین یہ پیغام دے رہا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ وقتی مفادات کا اشتراک تو کرسکتا ہے مگر تہذیبی یا تزویراتی وابستگی کے کسی جذباتی تصور کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں۔
اس دورے کا ایک نہایت اہم اور فکری پہلو وہ تھا جب شی جن پنگ نے “تھیوسیڈائڈز ٹریپ” کا حوالہ دیا۔ قدیم یونانی مورخ تھیوسیڈائڈز کے اس نظریے کے مطابق جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت کسی غالب طاقت کو چیلنج کرتی ہے تو تصادم تقریباً ناگزیر ہوجاتا ہے۔ چینی صدر کا یہ حوالہ دراصل ایک تہذیبی و تزویراتی انتباہ تھا کہ واشنگٹن اگر بیجنگ کو محض معاشی حریف سمجھنے کی غلطی کرے گا تو یہ کشیدگی عالمی نظام کو خطرناک تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ چین اب عالمی سیاست میں ثانوی کردار ادا کرنے کیلئے تیار نہیں اور امریکا اپنی روایتی بالادستی سے دستبردار ہونے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وہ نفسیاتی اور سیاسی خلا ہے جہاں سے نئے عالمی بحران جنم لے رہے ہیں۔
اس ملاقات کے دوران تائیوان کا مسئلہ غیر معمولی شدت کے ساتھ ابھرا۔ شی جن پنگ نے واضح کردیا کہ اگر امریکا نے اس حساس معاملے پر کسی بھی قسم کی مداخلت یا غلط تزویراتی قدم اٹھایا تو دونوں طاقتیں براہِ راست محاذ آرائی کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔ یہ محض سفارتی بیان نہیں تھا بلکہ بحرالکاہل کے خطے میں مستقبل کے ممکنہ عسکری منظرنامے کی سنگین جھلک تھی۔ چین کیلئے تائیوان صرف جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ قومی خودمختاری، تہذیبی وحدت اور ریاستی وقار کا مسئلہ ہے، جبکہ امریکا اسے ایشیائی طاقت کے توازن میں ایک اہم مورچے کے طور پر دیکھتا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی نئی کشیدگی نے اس دورے کو مزید حساس بنادیا۔ جہازوں پر حملے، ایرانی کارروائیاں، بھارتی بحری جہاز کی تباہی اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری بے یقینی اس امر کی علامت ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اب محض علاقائی سیاست کا میدان نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کی معاشی شہ رگ بن چکا ہے۔ دنیا کی توانائی رسد کا بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے وابستہ ہے، اسی لئے امریکا اور چین دونوں اس کے کھلے رہنے میں اپنی معاشی بقا دیکھتے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ چین نے ایران کو اسلحہ نہ دینے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، بظاہر امریکی سفارتی کامیابی دکھائی دیتا ہے، مگر بیجنگ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں ان دعوؤں کا نمایاں ذکر نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ چین عمومی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کا قائل ہے۔ وہ ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور توانائی تعلقات کو بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی امریکا کے ساتھ کھلی محاذ آرائی سے بھی گریز کررہا ہے۔ یہی چینی حکمتِ عملی کا بنیادی وصف ہے کہ وہ تصادم کے بجائے تدریجی اثرورسوخ کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ امریکا اور چین کے درمیان معاشی وابستگی اس حد تک گہری ہوچکی ہے کہ مکمل علیحدگی دونوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے بوئنگ طیاروں کی خریداری کے دعوے اور چینی منڈی میں امریکی کمپنیوں کیلئے مزید امکانات کی بات دراصل اسی معاشی مجبوری کا اظہار ہے۔ سیاسی کشیدگی کے باوجود دونوں طاقتیں ایک دوسرے کی معیشت سے مکمل لاتعلقی کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔
عالمی منظرنامہ اس وقت ایک نئے عبوری دور سے گزر رہا ہے جہاں سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا یک قطبی نظام بتدریج تحلیل ہورہا ہے اور اس کی جگہ ایک پیچیدہ، غیر یقینی اور کثیرالجہتی عالمی ڈھانچہ ابھر رہا ہے۔ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان جاری یہ سفارتی مسابقت دراصل اکیسویں صدی کے عالمی نظم کی تشکیل کی جنگ ہے۔ اس کشمکش میں زبان، مصافحہ، بیانات، بحری راستے، تجارتی معاہدے اور حتیٰ کہ خاموشی بھی غیر معمولی سیاسی معنی اختیار کرچکی ہے۔ دنیا شاید ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں طاقت کا اظہار توپوں اور میزائلوں سے زیادہ نفسیاتی دباؤ، معاشی انحصار، سفارتی علامتوں اور تزویراتی بیانیوں کے ذریعے کیا جائے گا۔
واپس کریں