دوست کے لیئے خوش آمدی ٹوئیٹس اور مخالف کے لیئے سرمایہ کاری

احتشام الحق شامی۔ہماری پالشوں، تعریفوں، ثالثیوں اور اتھل پتھل کے باوجود امریکہ اپنے سب سے بڑے مخالف اور حالیہ ایران امریکہ جنگ ایران کو بیک اپ اور خفیہ دفاعی سپورٹ فراہم کرنے والے ملک چین کے ساتھ کئی ارب ڈالرز کے تجارتی معاہدے کر رہا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس وقت پاکستان کو تجارتی معاہدوں یا غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے، ہمیں ہمارا اصل دکھایا جا رہا ہے۔
ایران سے بری طرح حزیمت اٹھانے والا اپسٹین فائلر صدر ٹرمپ پاکستان اور بلخصوص فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی بار رہا تعریفیں کرتا رہاہے لیکن پتہ اب چلا کہ بظاہر ٹرمپ اور امریکہ پالیسی سازوں کا دل پاکستان میں تھا لیکن جیب چین میں تھی۔ جی ہاں، پاکستان کے لیے محض خوش آمدی ٹوئیٹس اور بیانات کی بوندا باندی، اور اپنے پرانے مخالف چین کے لیے ڈالروں کی بارش۔
اپنے مخالف کو گلے لگانا اور استعمال کرنے والے کو صرف تعریفی الفاظ دینا، یہ ہے ٹرمپ کی ''America First'' کی نئی تشریح، باالفاظ دیگر دوست پاکستان کی تو تعریفیں کرتے ہیں لیکن اپنے مخالف چین کے ساتھ کاروبار اور تجارت
ٹرمپ پاکستان کی جتنی تعریفیں کرتا ہے اس سے تو یہی لگتا رہا ہے ہم ہی اس کے سب سے بڑے اتحادی ہیں اور جب جبکہ حقیقت آشکارا ہوئی تو معلوم پڑا کہ چین امریکہ کا سب سے بڑا بزنس پارٹنر ہے۔ واقعی الفاظ اور ڈیلز میں بہت فرق ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے معاشی طور پر زبوں حال اپنے پرانے دوست پاکستان کی جتنی تعریفیں کی ہیں اس سے تو چین والے بھی شرما گئے ہوں گے جب، چین سے اربوں ڈالرز کے تجارتی معاہدے ہوئے ہیں۔ یہ وہ ایکشن مووی تھی جس میں ہیرو بل آخر اپنے مخالف کے ساتھ مل جاتا ہے۔
پالشوں اور جھکنے کے باوجود یہ یہود،نصاری اور ہنود ہمارے کبھی نہیں ہو سکتے،ہم یہ بار بار دیکھتے ہیں اور اب بھی دیکھ رہے ہیں لیکن لالچ، بزدلی،بے غیرتی اور دنیا کی لالچ کی سیاہ پٹی جو ہمارے بے ضمیر اور موقع پرست حکمرانوں کی آنکھوں پر باندھی گئی ہے اسے کون اتارے؟
واپس کریں