دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اے آئی کی دنیا میں خوش رہنے کا راز کیا ہے؟
No image ہماری زندگی کا تقریباً ہر پہلو اب پیش گوئیوں کے ذریعے کنٹرول ہو رہا ہے۔ لیکن ہمیں اس بات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس پر اور کس چیز پر یقین کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے نام نہاد ’گرو‘ آج سلیبرٹیز کیسے بن گئے؟ اور آپ کے بارے میں ان کے پاس موجود ڈیٹا آپ کی زندگی کیسے تباہ کر سکتا ہے؟
آپ کی زندگی کا تقریباً ہر پہلو اب پیش گوئیوں کے ذریعے کنٹرول ہو رہا ہے۔ لیکن ہمیں اس بات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس پر اور کس چیز پر یقین کرتے ہیں۔
پیش گوئیاں اب ہر جگہ موجود ہیں۔ وہ مچھلی کے لیے پانی کی طرح ہیں، جس میں وہ تیرتی تو رہتی ہے مگر اردگرد پیدا ہونے والی لہروں سے بے خبر ہوتی ہے۔
پیش گوئی کا فن انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے، حتیٰ کہ قدیم یونان کے ’اوریکل آف ڈیلفی‘ تک، لیکن اب یہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی طاقت کا بنیادی جزو بن چکا ہے۔
قرض سے لے کر ملازمت تک اور آپ ٹی وی پر کیا دیکھتے ہیں، آپ کی زندگی کا تقریباً ہر پہلو اب پیش گوئیوں کے ذریعے کنٹرول ہو رہا ہے۔
لیکن ہمیں اس بات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس پر اور کس چیز پر یقین کرتے ہیں۔ یہ کہنا ہے کیریسا ویلز کا، جن کی نئی کتاب اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پیش گوئیاں اس ڈیٹا پر مبنی دنیا میں کس طرح بے پناہ طاقت حاصل کر چکی ہیں، جو انہوں نے خود تخلیق کی ہے۔آج ہم جس قسم کی اے آئی استعمال کرتے ہیں اسے ’مشین لرننگ‘ کہا جاتا ہے، ایک ایسا نظام جو کمپیوٹرز کو فیصلے کرنے اور پیش گوئیاں کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
ممکن ہے آپ یہ سن کر توجہ کھو بیٹھیں یا سمجھیں کہ اس کا آپ سے کوئی تعلق نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کی زندگی اسی پر منحصر ہوتی جا رہی ہے۔
آپ کو اچھا ملازم سمجھا جائے گا یا نہیں، آپ کو قرض ملے گا یا نوکری، گھر کے قرض کی منظوری ہو گی یا ڈیٹنگ ایپس پر کون آپ کے سامنے آئے گا، یہ سب پیش گوئیوں پر مبنی ڈیٹا سے متاثر ہو رہا ہے۔
ہم عموماً پیش گوئی کو علم کے مترادف سمجھتے ہیں، لیکن اکثر پیش گوئیاں دراصل طاقت کے کھیل ہوتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ آج کے حکمرانوں کے کانوں میں اسی طرح سرگوشیاں کرتے ہیں جیسے ماضی میں نجومی کیا کرتے تھے۔ وہ اقدار پر مبنی فیصلوں کو حقائق کا روپ دے کر پیش کرتے ہیں۔ اور اے آئی کے ساتھ ہماری پیش گوئیوں پر انحصار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
اگرچہ اے آئی نئی اینٹی بایوٹکس کی تلاش میں مالیکیولز سے متعلق پیش گوئیاں کرنے میں مفید ثابت ہو سکتی ہے، لیکن انسانوں کے بارے میں پیش گوئیاں بنیادی طور پر مختلف نوعیت رکھتی ہیں۔
پیش گوئیاں ہیرا پھیری کی دعوت دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر ’پریڈکشن مارکیٹس‘ کو دیکھیں۔ اگر آپ کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہو تو آپ کسی معاملے پر بھاری رقم لگا کر عوامی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
سیاست دان خود اپنے حق میں شرطیں لگا چکے ہیں۔ رواں سال فروری میں چھ نامعلوم اکاؤنٹس نے ایران پر حملے سے متعلق شرط لگا کر 12 لاکھ ڈالر کمائے۔ ان میں سے بعض اکاؤنٹس کو حملے سے چند گھنٹے پہلے فنڈ کیا گیا تھا۔
پیش گوئیاں کبھی حقیقت نہیں ہوتیں، مگر ان کی خطرناک بات یہ ہے کہ وہ حقیقت جیسی محسوس ہوتی ہیں۔ سماجی پیش گوئیاں دراصل پردے میں چھپے احکامات ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں بالواسطہ بتاتی ہیں کہ ہمیں کیسے عمل کرنا چاہیے۔
مثال کے طور پر جب کوئی ٹیکنالوجی کمپنی کا سربراہ کہتا ہے کہ مستقبل میں اے آئی ہر جگہ استعمال ہو گی، تو وہ دراصل آپ کو ایسے فیصلے کرنے پر آمادہ کر رہا ہوتا ہے جو اس کے تصور کردہ مستقبل کو حقیقت بنا دیں، یعنی ایسا مستقبل جو اس کی جیبیں بھرے۔
اور جب آپ ان پیش گوئیوں پر یقین کر لیتے ہیں، جیسے وہ واقعی مستقبل کے بارے میں حتمی سچ ہوں، تو آپ خود اس خود کو سچ ثابت کرنے والی پیش گوئی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
تو پھر اس جال میں پھنسنے سے بچنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ بہت کچھ۔ سب سے اہم چیز شعور اور آگاہی ہے۔ ہم اکثر ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کو حد سے زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ جمہوریت کے تحفظ کا ایک مطلب طاقت کا مذاق اڑانا بھی ہے۔ بے تکلفی اور طنز بہت ضروری ہیں۔گرو اپنی طاقت لوگوں کے یقین سے حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے خود سے یہ سوال ضرور کریں کہ کیا آپ واقعی وہ مستقبل چاہتے ہیں جس کی پیش گوئی کی جا رہی ہے؟
پیش گوئیاں اسی وقت کام کرتی ہیں جب لوگ ان پر یقین کر لیتے ہیں، اور پھر وہ خود کو سچ ثابت کرنے والی حقیقت بن جاتی ہیں۔
اگرچہ پیش گوئیاں حقیقت نہیں ہوتیں، لیکن وہ ناانصافی پیدا بھی کر سکتی ہیں اور اسے چھپا بھی سکتی ہیں۔ الگورتھمز پر مبنی پیش گوئیاں ایک ایسی دنیا بنا رہی ہیں جو فرانز کافکا کے ناولوں جیسی پیچیدہ اور بے رحم ہے، جہاں ہم فیصلوں کو چیلنج بھی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ واضح اصولوں پر مبنی نہیں ہوتے۔
اگر میں آپ کا قرض اس لیے مسترد کروں کہ آپ کسی مخصوص شرط پر پورا نہیں اترتے، تو آپ اسے چیلنج کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر میں اسے کسی پیش گوئی کی بنیاد پر مسترد کروں، تو آپ کے پاس اعتراض کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ کیونکہ پیش گوئیاں مستقبل سے متعلق ہوتی ہیں، اس لیے انہیں غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا، اور یہی پوشیدہ ناانصافی کی سب سے خطرناک شکل ہے۔
اسی لیے ہر دعوے پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ کمپنیاں جو کچھ کہتی ہیں وہ ہمیشہ سچ نہیں ہوتا، اکثر وہ صرف مارکیٹنگ ہوتی ہے۔
ہارورڈ بزنس ریویو میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں کہا گیا کہ اے آئی نے ابھی تک کارکردگی بہتر بنانے کو ثابت نہیں کیا کیونکہ اگرچہ بظاہر وقت بچتا محسوس ہوتا ہے، لیکن جب بڑے لینگویج ماڈلز غلطیاں کرتے ہیں تو کام مزید طویل ہو جاتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ سوال اٹھاتے رہیں۔ چاہے اے آئی واقعی زندگی آسان بناتی ہو، پھر بھی یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ زندگی کی ہر قیمتی چیز کچھ نہ کچھ دشواری رکھتی ہے۔ ورزش کرنا، ووٹ دینا، بچوں کی پرورش کرنا یا اچھی غذا لینا، یہ سب آسان نہیں ہوتا۔الگورتھمز ہماری اسی سہولت پسندی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا کے ’کانٹینٹ‘ میں، جہاں آپ کو وہی چیزیں دکھائی جاتی ہیں جو باقی سب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کا علاج صرف ایک ہے: اپنی ذاتی رائے اور فیصلے کی صلاحیت استعمال کریں۔
زیادہ مطالعہ کریں۔ آج کے دور میں کتاب پڑھنا تقریباً بغاوت کے مترادف ہے۔ آپ پیچیدہ خیالات سے جڑتے ہیں، کسی دوسرے انسان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور اس دوران آپ کی نگرانی نہیں ہو رہی ہوتی۔
نوجوانوں کو سمجھنا ہو گا کہ اصل کھیل کیا ہے اور پس پردہ طاقت کیسے استعمال ہو رہی ہے۔ انہیں بہادر اور تخلیقی ہونا ہو گا، اور مشکلات کے خلاف کھڑے ہونا سیکھنا ہو گا۔ پیش گوئیوں کو حقیقت سمجھنے کے بجائے انہیں مزاحمت کی دعوت سمجھیں۔ زیادہ سوالات کریں۔
کیریسا ویلز کہتی ہیں کہ وہ مکمل طور پر پیش گوئیوں کے خاتمے کی بات نہیں کر رہیں۔ وہ خود بھی روزانہ موسم کی ایپ استعمال کرتی ہیں۔ لیکن موسم کی پیش گوئی موسم کو تبدیل نہیں کرتی، جبکہ انسانوں کے بارے میں پیش گوئیاں انسانوں کو بدل دیتی ہیں۔سماجی پیش گوئیاں مقناطیس کی طرح کام کرتی ہیں۔ وہ حقیقت کو اپنی طرف موڑ دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی الگورتھم کی پیش گوئی ہو کہ کسی شخص کو مستقبل میں بیماری لاحق ہو سکتی ہے، تو اس کی انشورنس مہنگی ہو سکتی ہے، اور صرف ذہنی دباؤ ہی اس کی صحت مزید خراب کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق ہمیں اس بات پر عوامی بحث کی ضرورت ہے کہ پیش گوئیوں کا کون سا استعمال قابل قبول ہے اور کون سا نہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ گفتگو ہو ہی نہیں رہی۔
وہ کہتی ہیں کہ ہم اکثر غیر یقینی صورتحال سے خوفزدہ ہو کر ’پیشگوئی والے ٹیک گروز‘ کی طرف رجوع کرتے ہیں، حالانکہ غیر یقینی دراصل اچھی خبر ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ مستقبل ابھی لکھا نہیں گیا، اور اسے لکھنے کا اختیار ہمارے پاس ہے۔
مستقبل کی پیش گوئی کرنے کی کوششیں اکثر اسے کنٹرول کرنے کی کوششوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں، اس لیے پیش گوئی کرنے والوں اور ان کی پیش گوئیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
مضمون کے اختتام پر وہ 1971 کی مشہور باکسنگ فائٹ کا حوالہ دیتی ہیں، جب محمد علی اور جو فریزیئر، دونوں ناقابل شکست ہیوی ویٹ چیمپیئن، ایک دوسرے کے مدِ مقابل آئے۔
پریس کانفرنس میں محمد علی نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ جو فریزیئر کو شکست دیں گے، لیکن فریزیئر مرعوب ہونے کے بجائے مزید پُرجوش ہو گئے اور آخرکار علی کو ہرا دیا۔
کیریسا ویلز کہتی ہیں کہ اگلی بار جب آپ کسی ایسے مستقبل کی مایوس کن پیش گوئی سنیں جس میں آپ جینا نہیں چاہتے، تو اپنے اندر کے ’جو فریزیئر‘ کو تلاش کریں، جابرانہ پیش گوئیوں کے خلاف بغاوت کریں، اور وہ مستقبل خود تخلیق کریں جس میں آپ واقعی جینا چاہتے ہیں۔
واپس کریں