دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاک بھارت بیک ڈور ڈپلومیسی: حقیقت، امکان یا محض بیانیاتی سیاست؟
No image محمد محسن خان ( راجپوت ) برصغیر کی سیاست ہمیشہ سے ظاہری سفارت کاری اور پردۂ خفا میں جاری رابطہ کاری کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کی اسیر رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں جہاں کھلے مذاکرات کی ناکامی کے بعد اکثر اوقات غیر اعلانیہ رابطوں، پسِ پردہ سفارتی اشاروں اور غیر رسمی چینلز کے ذریعے تناؤ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ موجودہ مباحث میں بھی ایک بار پھر یہی سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا واقعی دونوں ممالک کے درمیان کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے یا یہ محض میڈیا کے تخلیق کردہ ایک ایسے بیانیے کی صورت ہے جس کا مقصد داخلی اور خارجی سیاسی فضا کو مخصوص سمت دینا ہے۔
حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی، بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) منوج نروانے اور آر ایس ایس کے سیکریٹری جنرل دتاتریہ ہوسبالے کے بیانات نے اس بحث کو نئی جہت عطا کی ہے۔ ان بیانات میں اگرچہ مختلف زاویے اور سیاسی پس منظر کارفرما ہیں، تاہم ایک مشترک نکتہ نمایاں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیانیہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ دونوں ریاستوں کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچنے کے باوجود مکمل سفارتی تعطل ایک دیرپا آپشن نہیں ہو سکتا۔
تاہم دوسری جانب پاکستان کے بعض سابق سرکاری افسران اور سفارتی حلقوں کی جانب سے ان خبروں کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے اور اسے محض ایک منظم اطلاعاتی یا پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد خطے میں سفارتی ابہام پیدا کرنا اور داخلی رائے عامہ کو مخصوص زاویے کی طرف موڑنا ہو سکتا ہے۔ اس تضاد نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ ایک طرف بھارتی میڈیا اور بعض سیاسی حلقے پسِ پردہ رابطوں کے امکانات کو اجاگر کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستانی موقف اسے یکسر غیر حقیقی اور سیاسی طور پر محرک قرار دیتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بیک ڈور ڈپلومیسی کوئی نئی اصطلاح نہیں بلکہ یہ عالمی سفارت کاری کا ایک تسلیم شدہ مگر غیر رسمی پہلو ہے۔ ریاستیں اکثر اوقات ایسے مراحل میں جب کھلے مذاکرات سیاسی دباؤ، عوامی جذبات یا عسکری کشیدگی کے باعث ناکام ہو جائیں تو غیر رسمی ذرائع سے رابطہ کاری کو جاری رکھتی ہیں تاکہ کم از کم بنیادی سطح پر اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکے۔ تاہم پاکستان اور بھارت کے درمیان اس نوعیت کی کسی بھی ممکنہ سفارتی سرگرمی کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا اس وقت تک دشوار ہے جب تک دونوں ریاستیں خود اس کی تصدیق یا تردید نہ کریں۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا میں پاک بھارت تعلقات ہمیشہ داخلی سیاست کے ساتھ گہرے طور پر جڑے رہے ہیں۔ بھارت میں انتخابی سیاست، قوم پرستانہ بیانیہ اور داخلی سیاسی تقاضے اکثر پاکستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی بھارت سے متعلق پالیسی اکثر اوقات قومی سلامتی، داخلی سیاسی ماحول اور عسکری حکمت عملی کے تناظر میں تشکیل پاتی رہی ہے۔ اس باہمی پیچیدگی نے براہِ راست مذاکرات کے عمل کو بارہا تعطل کا شکار کیا ہے۔
جنرل (ر) منوج نروانے اور آر ایس ایس رہنما کے بیانات کو اگر محض انفرادی آراء کے بجائے وسیع تر سیاسی اشاروں کے طور پر دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بھارت کے اندر بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مکمل سفارتی انجماد طویل مدت تک برقرار رکھنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ تاہم یہ آراء ریاستی پالیسی کا متبادل نہیں بلکہ محض فکری یا اسٹریٹجک مباحث کا حصہ ہیں جن کا لازمی طور پر حکومتی فیصلوں سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔
پاکستانی موقف کی طرف دیکھا جائے تو یہاں سرکاری سطح پر عموماً اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ مذاکرات صرف اس وقت ممکن ہیں جب اعتماد سازی کے بنیادی اقدامات کیے جائیں اور باہمی احترام کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔ دوسری جانب بعض سابق اہلکاروں کی جانب سے ان حالیہ خبروں کو مسترد کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے اس نوعیت کی رپورٹس کا مقصد عالمی اور علاقائی سطح پر ایک مخصوص تاثر پیدا کرنا ہو سکتا ہے جس کے ذریعے سفارتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس ساری بحث کے تناظر میں اصل سوال یہ نہیں کہ آیا بیک ڈور ڈپلومیسی موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان اس وقت ایسا کوئی سیاسی اور سفارتی ماحول موجود ہے جو اس نوعیت کی غیر رسمی رابطہ کاری کو ممکن بنا سکے۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ سرکاری سطح پر اعتماد کا شدید فقدان، سرحدی کشیدگی، مسئلہ کشمیر کی پیچیدگی اور باہمی الزامات کا تسلسل اس عمل کو انتہائی محدود کر دیتا ہے۔
تاہم بین الاقوامی سفارت کاری کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ سخت ترین تنازعات کے دوران بھی غیر اعلانیہ رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوتے۔ اکثر اوقات یہ رابطے نہایت محدود دائرے میں، مخصوص سفارتی یا انٹیلی جنس چینلز کے ذریعے برقرار رہتے ہیں، جن کا مقصد فوری حل نہیں بلکہ بحران کے مکمل انہدام کو روکنا ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرین یہ رائے دیتے ہیں کہ اگر اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی غیر رسمی رابطہ موجود بھی ہے تو وہ زیادہ تر معلوماتی تبادلے یا تناؤ کے انتظام تک محدود ہو سکتا ہے، نہ کہ کسی بڑے سفارتی بریک تھرو کی طرف بڑھنے والا کوئی جامع عمل۔
دوسری طرف میڈیا کا کردار اس پورے منظرنامے میں نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ جدید دور میں میڈیا نہ صرف معلومات کا ذریعہ ہے بلکہ بعض اوقات بیانیہ سازی کا بنیادی ہتھیار بھی بن جاتا ہے۔ جب تک کسی خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہو، اس وقت تک اسے مکمل حقیقت یا مکمل افسانہ قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔ موجودہ صورتحال بھی اسی ابہام کی عکاس ہے جہاں مختلف بیانیے ایک دوسرے کے متوازی چل رہے ہیں مگر کوئی بھی حتمی سطح پر فیصلہ کن حیثیت اختیار نہیں کر سکا۔
یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک بھارت تعلقات اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں حقیقت اور بیانیہ ایک دوسرے میں اس قدر مدغم ہو گئے ہیں کہ انہیں علیحدہ کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ بیک ڈور ڈپلومیسی کی موجودگی یا عدم موجودگی سے قطع نظر اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران اپنی گہرائی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
آخرکار یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ آیا جنوبی ایشیا کے یہ دو ایٹمی ہمسائے آنے والے وقتوں میں محض بیانیاتی کشمکش میں الجھے رہیں گے یا کسی ایسی خاموش سفارتی حکمت عملی کی طرف بڑھیں گے جو خطے میں استحکام کی نئی راہیں کھول سکے۔ فی الحال اس کا جواب غیر یقینی کے دھندلے پردوں میں چھپا ہوا ہے، جہاں حقیقت اور قیاس آرائی ایک دوسرے سے جدا کرنا آسان نہیں۔
واپس کریں