ٹرمپ کا دورہ چین۔ 18 بڑے امریکی کارپوریٹ عہدیدار اس وفد کا حصہ ہیں۔ شعیب احمد ملک

عمومی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ 17 امریکی سی ای اوز کے ساتھ بیجنگ گئے ہیں، مگر تفصیلی مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ درحقیقت کل 18 بڑے امریکی کارپوریٹ عہدیدار اس وفد کا حصہ تھے، جن میں CEOs، Chairmen اور اعلیٰ سطحی executives شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ محض کاروباری شخصیات نہیں بلکہ عالمی معیشت، AI، چپس، بینکاری، سرمایہ کاری، سپلائی چینز، ایرو اسپیس، EVs، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پیمنٹس اور عالمی مالیاتی نظام کی وہ شخصیات ہیں جن کی کمپنیاں مجموعی طور پر دنیا کی معیشت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی پر غیرمعمولی اثر رکھتی ہیں۔
“اگر ان کمپنیوں کی مجموعی market capitalization اور managed assets کو دیکھا جائے تو ان کا مشترکہ مالیاتی حجم تقریباً 30 سے 35 ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ یہ حجم دنیا کی سالانہ GDP کے تقریباً ایک چوتھائی جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹ capitalization کے لگ بھگ ایک پانچویں سے ایک چوتھائی حصے کے مساوی بنتا ہے۔ اسی لیے یہ وفد محض کاروباری شخصیات کا مجموعہ نہیں بلکہ عالمی سرمایہ، ٹیکنالوجی، AI، چپس، مالیاتی نظام اور سپلائی چینز کے ایک بہت بڑے حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔
ذیل میں ان اہم شخصیات، ان کی کمپنیوں، مالیاتی حجم، چین میں موجودہ کاروباری حیثیت اور مستقبل کی ممکنہ سرمایہ کاری و دلچسپی کی مختصر تفصیل پیش کی جا رہی ہے، جو یقیناً بہت دلچسپ ہے۔
1۔ Tim Cook — Apple
مالیاتی حجم: تقریباً 4.4 ٹریلین ڈالر
چین میں حیثیت: Apple کی مینوفیکچرنگ کا بڑا حصہ اب بھی چین سے جڑا ہوا ہے۔
ممکنہ مستقبل: چین + انڈیا ماڈل، مگر چین بدستور مرکزی حیثیت رکھے گا۔
2۔ Elon Musk — Tesla / SpaceX
مالیاتی حجم: تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر
چین میں حیثیت: شنگھائی گیگا فیکٹری Tesla کی عالمی پیداوار کا اہم مرکز ہے۔
ممکنہ مستقبل: EVs، بیٹریز، AI اور self-driving ٹیکنالوجی میں مزید توسیع۔
3۔ Jensen Huang — Nvidia
مالیاتی حجم: تقریباً 5.5 ٹریلین ڈالر
چین میں حیثیت: AI chips کی چینی demand بہت بڑی ہے، اگرچہ امریکی پابندیاں موجود ہیں۔
ممکنہ مستقبل: China-specific AI chips اور محدود مگر اہم AI expansion۔
4۔ Larry Fink — BlackRock
مالیاتی حجم / Assets Under Management: تقریباً 14 ٹریلین ڈالر
چین میں حیثیت: Chinese capital markets اور funds میں دلچسپی۔
ممکنہ مستقبل: wealth management، pension funds اور infrastructure سرمایہ کاری۔
5۔ Stephen Schwarzman — Blackstone
مالیاتی حجم: تقریباً 1.3 ٹریلین ڈالر managed assets
چین میں حیثیت: real estate، logistics اور private equity۔
ممکنہ مستقبل: warehouses، data centers اور distressed assets۔
6۔ Kelly Ortberg — Boeing
مالیاتی حجم: تقریباً 190 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: چین دنیا کی بڑی aviation markets میں سے ایک ہے۔
ممکنہ مستقبل: aircraft orders، aviation services اور maintenance۔
7۔ Brian Sikes — Cargill
مالیاتی حجم: تقریباً 154 ارب ڈالر annual revenue
چین میں حیثیت: food security، grains اور agriculture supply chains۔
ممکنہ مستقبل: agriculture trade اور خوراک کی supply chains میں مزید گہرائی۔
8۔ Jane Fraser — Citi
مالیاتی حجم: تقریباً 220 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: banking اور cross-border finance۔
ممکنہ مستقبل: RMB financing اور corporate banking۔
9۔ Chuck Robbins — Cisco
مالیاتی حجم: تقریباً 400 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: networking اور enterprise systems۔
ممکنہ مستقبل: cloud infrastructure اور cyber security۔
10۔ Jim Anderson — Coherent
مالیاتی حجم: تقریباً 79 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: optics، lasers اور photonics industry۔
ممکنہ مستقبل: AI data centers اور semiconductor networking۔
11۔ H. Lawrence Culp — GE Aerospace
مالیاتی حجم: تقریباً 300 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: aviation engines اور aerospace services۔
ممکنہ مستقبل: aircraft engines اور technical services۔
12۔ David Solomon — Goldman Sachs
مالیاتی حجم: تقریباً 294 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: investment banking اور wealth management۔
ممکنہ مستقبل: IPOs، M&A اور financial advisory۔
13۔ Jacob Thaysen — Illumina
مالیاتی حجم: تقریباً 22 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: genomics اور biotech research۔
ممکنہ مستقبل: precision medicine اور biotech partnerships۔
14۔ Michael Miebach — Mastercard
مالیاتی حجم: تقریباً 438 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: cross-border payments۔
ممکنہ مستقبل: digital payments اور fintech۔
15۔ Dina Powell McCormick — Meta
مالیاتی حجم: تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر
چین میں حیثیت: Meta apps چین میں بند ہیں مگر Chinese advertisers Meta platforms استعمال کرتے ہیں۔
ممکنہ مستقبل: AI، VR اور advertising ecosystem۔
16۔ Sanjay Mehrotra — Micron
مالیاتی حجم: تقریباً 900 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: memory chips اور semiconductor supply chains۔
ممکنہ مستقبل: AI storage اور advanced memory systems۔
17۔ Cristiano Amon — Qualcomm
مالیاتی حجم: تقریباً 229 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: Chinese smartphone makers Qualcomm کے بڑے خریدار ہیں۔
ممکنہ مستقبل: 5G، AI phones اور auto chips۔
18۔ Ryan McInerney — Visa
مالیاتی حجم: تقریباً 650 ارب ڈالر
چین میں حیثیت: cross-border financial systems۔
ممکنہ مستقبل: tourism، digital commerce اور international payments۔
ان تمام حقائق کو سامنے رکھا جائے تو اس دورے اور مستقبل کے منظر نامہ کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش ہو سکتی ہے ۔
واپس کریں