
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 26 روپے77 پیسے فی لیٹر کا اضافہ۔
ملک ِپاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا کے مہنگے ترین ریٹس میں پہلے 4/5 ممالک تک آچکی ہیں اور بجلی دنیا کی تقریباً مہنگی ترین ہوچکی ہے اور امر واقع یہ ہے کہ پاکستان کی ماہانہ اوست آمدن تمام ہمسایہ ممالک سے کم ہے اور بجلی کا یونٹ ہمسایہ ممالک سے کئی سو فیصد زیادہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق عوامی حکومت بذریعہ عالمی ساہو کار آئی ایم ایف(مائی باپ) بجلی اور گیس کو مزید مہنگا کرنے جارہی ہے۔جی ہاں،، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اگلے ہفتے پٹرول، ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان ظاہر کر دیاہے،وزیر صاحب کے مطابق آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیوی پیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
لیوی کی قیمت پہلے ہی 80 روپے سے اٹھا کر 107 کر دی گئی ہے اور عوامی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 1468 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ ابتدائی نو ماہ میں اس مد میں 1234 ارب روپے اکٹھے کیے جا چکے ہیں یعنی کہ پٹرولیم مصنوعات عوامی حکومتی ریونیو(پیدا گیری) کا بڑا ذریعہ بن چکی ہیں۔
حکومت نے ایران جنگ کو اپنے لیے پیسے بنانے کا موقع سمجھ لیا ہے اس لیئے اب جنگ کے نام پر تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔یاد رہے کہ جب ایران جنگ شروع ہوئی تھی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 258 روپے لیٹر تھی آج 393روپے ہو چکی ہے یعنی دوران جنگ پیٹرول میں 135 روپے اضافہ ہو چکا ہے۔ جب کہ بھارت میں مذکورہ جنگ کے شروع کے وقت دہلی میں پیٹرول 94 روپے لیٹر تھا آج بھی اتنے کا ہے، بھارت نے اس دوران پیٹرول اور ڈیزل سے ٹیکس ہٹا دیا اور قیمت مستحکم رکھی، لیکن یورپ اور امریکہ کی قیمتیں بتانے والے معاشی ارسطو آپ کو یہ حقائق نہی بتائیں گے۔
امر واقع یہ ہے کہ پٹرول تقریباً چار سو روپے فی لیٹر تک تو پہنچ گیا ہے، یہ پانچ سو بھی کراس کرے گا بولنا پھر بھی کسی نے نہیں ہے کیونکہ حکمران یہ فارمولا سمجھ چکے کہ اس عوام کو جوتوں سے مسئلہ نہیں ہے جوتے مارنے والوں کی کم تعداد سے مسئلہ ہے۔اس لئے ممکن ہے کوئی مذید نئی فورس بنا کر جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دی جائے تا کہ عوامی بے چینی دور ہو سکے اوردوسرا یہ کہ حکمرانوں کو جوتے کا معیار بھی بہتر کرنا ہو گا کیونکہ یہ عوام کی تشریف کو ٹھیک سے صحیح لال نہیں کرتے اور جوتے نشان بھی ٹھیک سے نہیں پڑتا۔ اخے سیاست نہیں ریاست بچائیں گے۔
واپس کریں