
پاکستان تحریک انصاف آذاد کشمیر برانچ والوں کے ذہن میں پاکستان میں ہونے والے آٹھ فروری2024 والے الیکشن کے نتائج ہیں،کہ انتخابی نشان الاٹ نہ ہونے کے باوجود بھی پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی تھی،اس لیئے اگر آذاد کشمیر میں پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن نے رجسٹرڈ نہ بھی کیا تو آذاد حیثیت میں پارٹی اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور میدان مار لے گی۔بظاہر تو یہ بات عام آدمی کے دماغ میں ڈالی جا سکتی ہے لیکن حقائق یکسر مختلف ہیں۔
پاکستان میں آٹھ فروری2024 کو ہونے والے عام انتخابات سے کچھ ہی عرصہ قبل کپتان صاحب اڈیالہ جیل کی نظر ہو گئے تھے، اشٹبلشمنٹ کے ساتھ کپتان کی ڈیل کی باتیں، دوبارہ پی ٹی آئی حکومت کی امید،پارٹی کا جذبہ اور جنون زوروں پر تھے اور سب سے بڑھ کر اہم کہ اس وقت پی ٹی آئی میں کسی قسم کی کوئی بڑی گروپ بندی نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پی ٹی آئی پارٹی کارکنان نے یکسو ہو کر اپنے اپنے حلقوں میں کپتان کی جانب سے نامزد کئے گئے امیدواروں کو جتوایا۔
اب اس حوالے سے آذاد کشمیر میں پی ٹی آئی بلکل مختلف صورت حال سے دوچار ہے۔پہلی بات وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں اور الیکشن کمیشن آذاد کشمیر میں یہ پارٹی ابھی تک رجسٹرڈ ہی نہیں ہو سکی،دوئم، پارٹی صدر عبدل قیوم نیازی متنازع ہو چکے ہیں،پارٹی کے ایک دھڑے کی جانب سے ان پر ایجنسیوں کے لیئے ٹاوٹ گیری کرنے کے الزامات عام ہیں،تیسری اور اہم بات کہ پی ٹی آئی آذاد کشمیر برانچ میں گروپ یا دھڑے بندی اپنے عروج پر ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ یہ اہم ہے کہ کپتان کے ٹائیگرز کے دماغوں میں ابھی بھی”غیبی امداد“ آنے کا عنصر موجود ہے لیکن کون انہیں بتائے کہ اب کوئی فیض حمید یا کوئی باجوہ موجود نہیں جو انہیں اقتدار پلیٹ میں سجا کر پیش کرے گا۔
ایک ایک انتخابی حلقے میں پانچ سے زائد امیدواران پارٹی ٹکٹ لینے کے خواہشمند ہیں۔پرانے کارکنان نئے آنے والوں کو قبول کرنے پر تیار نہیں اور پرانے کارکنان یا عہددیدار کام کرنے کو تیار نہیں۔
اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر برانچ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ فاروق احمد کا حالیہ بیان اہم ہے۔انہوں نے واضع کیا کہ”25 اپریل کے بعدتمام امیدواروں کے انٹرویو کیے جائیں گے پھر بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ امیدواروں کے نام مرکزی پارٹی کو بھیجے جائیں گے جو خود بھی ان تجویز کردہ ناموں کی جانچ پڑتال کرکے بانی چیئرمین عمران خان کو حتمی منظوری کے لیے ارسال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی بورڈ کی سفارشات حتمی نہ ہوں گی ان سفارشات کو مرکزی پارٹی اچھی طرح جانچ پڑتال کرسکے گی تاکہ آمدہ انتخابات میں عمران خان کے وفادار ساتھیوں کو ہی ٹکٹ جاری کیے جاسکیں“
گویا واضع ہوا کہ پارٹی ٹکٹ، انتخابی نشان یا کپتان کے نامزد کردہ امیدوار صرف وہی ہوں گے جو خان کے وفادار ساتھیوں میں شامل ہوں گے،مطلب صاف ہے کہ نئے شامل ہونے والوں یا پیرا شوٹرز کے لیئے پارٹی ٹکٹ یا نامزدگی وغیرہ اہم نہیں ہو گی۔اس صورت میں یہی ہو گا کہ اصل پی ٹی آئی امیدوار کی ٹانگیں کھینچی جائیں گی اور اسے الیکشن ہروانے کے لیئے کسی دوسری سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ یہ کام خود نظر انداز کیئے گئے پی ٹی آئی کے امیدواران سر انجام دیں گے۔جب مقبولیت اور سیاسی شہرت کو راہنمائی ملنے کا فقدان ہو تو ایساہی ہوتا ہے۔
گزشتہ روز آذاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد میں پی ٹی آئی کا جلسہ تھا، جس میں وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی نے شرکت کی، تیاری ایک ماہ سے جاری تھی۔پی ٹی آئی کے مطابق جلسہ گاہ میں گیارہ سو کرسیاں لگائی گئی تھیں لیکن جب سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے گرینڈ شو خطاب کر رہے تھے اس وقت نصف سے بھی زیادہ کرسیاں خالی پڑی تھیں۔ اس لیئے لگتا ہے آذاد کشمیر میں بھی پی ٹی آئی کی شہرت اور مقبولیت ہی اس کے زوال کی بڑی وجہ بنے گی۔
واپس کریں