یہ ہے وہ خمینی سوچ جو امت مسلمہ کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران سے امن کی جو ہلکی سی امید پیدا ہوئی تھی اور اب وہ دوبارہ مدھم ہورہی ہے ۔ عاصم منیر کے مطالبے پر صدر ٹرمپ نے نتنیاہو کو دس روزہ جنگ بندی پر مجبور کیا، اور دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سے آبنائے ہرمز کھولنے کا بیان دلوایا تاکہ فریقین کے بنیادی مطالبات پورے ہوں اور اعتماد سازی ہو سکے۔
لیکن پاکستانی وفد کی واپسی کے ساتھ ہی ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ "یورینیم ہمیں ایران کی سرزمین کی طرح مقدس ہے، اسے کسی کے حوالے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"
اس کے بعد قالیباف نے بھی ہرمز کے بند ہونے کا اعلان کر دیا۔ اور پاسداران انقلاب نیوی نے اپنے ریڈیو پیغام میں وزیر خارجہ کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنے اہلکاروں کو ہدایت دی کہ آبنائے ہرمز "اب بھی بند ہے" اور "ہم اسے اپنے رہنما خامنہ ای کے حکم سے کھولیں گے، نہ کہ کسی احمق کی ٹویٹس سے۔"
اور پھر اس کے بعد ایران کے آرمی ڈے کے موقع پر مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ تحریری پیغام سامنے آیا کہ "ایرانی بحریہ دشمنوں کو نئی شکستوں کا مزہ چکھانے کے لیے تیار ہے۔"
عاصم منیر کے دورے کے بعد آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “ فیلڈ مارشل نے مستقل سفارتی مصروفیات کے ذریعے بات چیت، کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے معاہدوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔"
لیکن آئی ایس پی آر نے یہ نہیں بتایا کہ جن ضرورتوں پر وہ زور دے رہے تھے، کیا ایرانیوں کو بھی اس کا احساس تھا؟
کیونکہ ان کے نائب وزیر خارجہ تو فرما رہے ہیں کہ "ایران، امریکہ کے ساتھ مزید براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں" اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد رضا نقدی دھمکی دے رہے ہیں کہ اب تیسری عالمی جنگ ہوگی۔
امریکہ نے یورپی ممالک میں تعینات اپنے ایک لاکھ فوجیوں کو واپس بلانے اور کھربوں ڈالرز کی فنڈنگ روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب خلیج میں پچاس ہزار نئے فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں اور بہت ذیادہ امریکی جنگی سازوسامان خلیج پہنچ رہا ہے۔
کل ٹرمپ نے سیچویشن روم میں خصوصی اجلاس کی صدارت کی، جس میں نائب صدر وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ، وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، وائٹ ہاؤس کے نمائندہ اسٹیو وِٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ڈین کین نے شرکت کی۔
جس کے بعد امریکہ نے کہا ہے کہ "آنے والے دنوں میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔"
اور لبنان کی جنگ بندی کو ابھی دو دن بھی نہیں گزرے کہ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اعلان کیا ہے کہ "جنگ جاری رہے گی، ہم اپنی آخری سانس تک لڑیں گے، کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے؛ شمالی اسرائیلی شہر کبھی محفوظ نہیں ہوں گے۔"
یہ وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے یہ خطہ گزشتہ نصف صدی سے جھلس رہا ہے۔
ایران میں 8 ہزار کے قریب یہودی آباد ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی یہودی آبادی ہے۔ کل انہوں نے ایک خصوصی سیمینار میں ایران سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ ایران اور اسرائیل کی جنگ ہے اور ہم اپنے ملک ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔
دوسری جانب دنیا کے کسی بھی کونے میں خمینیُ کی ولایت فقیہ سے متاثرہ شخص صرف ایران کا وفادار رہیگا۔
اب عاصم منیر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک ایسے وقت میں ایران گئے جہاں ان کے اپنے لیڈر ڈر کے مارے غاروں میں چھپے ہوئے ہیں اور سامنے نہیں آ رہے، تو پاکستان میں جواد نقوی ہمیں ایرانی جرنیلوں کی بہادری اور پاک فوج کی بزدلی کی داستانیں سنا رہے تھے۔
یہ ہے وہ خمینی سوچ جو امت مسلمہ کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
واپس کریں