دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایک نئی عالمی سازش؟فرحان رضا
No image عالمی بینک (World Bank) نے اچانک پاکستان کو جنوبی ایشیا سے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کے بلاک میں شامل کردیا ہے۔بظاہر یہ ایک انتظامی تبدیلی بتائی گئی ہے، لیکن یہ ایک گہرا جیو پولیٹیکل اشارہ بھی ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے جو سب سے خطرناک جواز دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان میں پانی کی قلت کی صورتحال مڈل ایسٹ جیسی ہونے والی ہے، اس لیے پالیسی سازی میں آسانی ہوگی،یہاں چند سنگین سوالات جنم لیتے ہیں
جب تک ہمالیہ کے گلیشیئرز سے سندھو دریا بہہ رہا ہے، پاکستان کا مڈل ایسٹ کے ریگستانوں جیسا ہونا ناممکن ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک ہی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے اگر بھارت پاکستان کا پانی مکمل طور پر روک لے۔
کیا ورلڈ بینک کی یہ درجہ بندی اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ بھارت کو کشمیر میں دریاؤں کا رخ موڑنے کی خاموش اجازت دے چکا ہے؟
ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کا ضامن ہے۔ پاکستان کو پانی کی قلت والے ریجن میں ڈال کر عالمی بینک دراصل بھارت کے ان منصوبوں کو ڈھال فراہم کر رہا ہے جو کئی دہائیوں سے متنازعہ ڈیموں اور نہروں کے ذریعے سندھو کا رخ بدل رہے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ اب ان غیر قانونی منصوبوں کو موسمیاتی تبدیلی کا نام دے کر جائز قرار دینے کی تیاری کی جارہی ہے۔
حالیہ برسوں میں اس کا جھکاؤ یا خاموشی بھارت کے حق میں دکھائی دیا ہے۔ پاکستان کو مڈل ایسٹ کی کیٹیگری میں ڈالنا بھارت کو یہ موقع دے سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر یہ ثابت کرے کہ پاکستان کی پانی کی قلت قدرتی یا انتظامی ہے، نہ کہ بھارت کی مداخلت کا نتیجہ اور ثبوت کے طور پر عالمی بینک کی درجہ بندی پیش کرے
پانی کی یہ نئی درجہ بندی براہِ راست مسئلہ کشمیر سے جڑی ہے۔ اگر عالمی ادارے پاکستان کو ایک خشک ملک کے طور پر دیکھ رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مستقبل کے نقشے میں کشمیر کے پانیوں پر پاکستان کا حق کمزور ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ تو معاملہ پانیوں تک ہے یا جغرافیہ بھی تبدیل ہونے کا اشارہ ہے؟
کیا ورلڈ بینک کیا ایک نیا جیو پولیٹیکل کھیل کھیل رہا ہے؟ ایران کا معاملہ سدھارتے سدھارتے ہمارے اپنے حالات نا بگڑ جائیں
واپس کریں