دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پرانا کھیل نئے کردار۔احتشام الحق شامی
No image استعمار سے آئی ایم ایف تک کا طاقت ور شیطانی چکر وہ تسلسل ہے جو برصغیر کے تاریخی استحصال کے تسلسل کو اجاگر کرتا ہے۔ برطانوی استعماری دور کے ''لگان'' یعنی زمینی محصول سے آج کے جدید مالیاتی استحصال نظام آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط، ٹیکسز اور لیویز وغیر تک کے نہ ختم ہونے والے دائروں کا سفر ہے۔ استعمار کی شکل بدل گئی ہے، لیکن مقصد وہی ہے، عوام کا خون چوسنا۔
پرانے جاگیردارانہ اور نوابی نظام کے بعد اب وزیر،مشیر اور وزرائے اعظم اس گھن چکر کا حصہ ہیں۔
ریکوری ایجنٹ ہی ہیں جو بیرونی طاقتوں چاہے وہ کمپنی ہو، آئی ایم ایف ہو، یا کوئی اور عالمی مالیاتی ادارہ،اس کے لیے ان اداروں کی مرضی و منشاء کے مطابق پالیسیاں بناتے ہیں اور عوام کے وسائل کو باہر منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔استعمار ختم نہیں ہوا صرف اس کا روپ بدلا ہے۔مقامی حکمران اب خود استعماری ایجنٹ بن چکے ہیں۔عوام آج بھی لگان اور ٹیکس کی بھاری چادر تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ ان کے ''لیڈران'' بیرونی اداروں کے سامنے اپنے سر جھکائے باادب کھڑے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان جتنا بھی اختلاف نظر آتا ہے لیکن جب بات وسائل کی لوٹ مار، قرضوں اور بیرونی شرطوں پر عملدرآمد کی آتی ہے تو سب ایک صفحے پر نظر آتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف شکل بدلنے والے استحصال کو پہچاننے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے تیار ہیں یا پھر ہم اسی پرانے کھیل کو نئے کرداروں کے ساتھ دیکھتے رہیں گے؟
واپس کریں