دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دو برس میں 9 کروڑ 47 لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے، پاکستان دنیا کا پانچواں غریب ترین ملک
No image (خصوصی رپورٹ خالد خان ) اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں تقریباً 9 کروڑ 47 لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں، جبکہ ملک دنیا کے پانچ غریب ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس رپورٹ کے بعض اعداد و شمار پر ماہرین کی مختلف آراء موجود ہیں، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک سنگین معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی عدم تحفظ نے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور متوسط طبقہ، جو کسی بھی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے۔
کبھی پاکستان کو ترقی پذیر دنیا کی امید قرار دیا جاتا تھا۔ زرخیز زمینیں، نوجوان آبادی، قدرتی وسائل اور اہم جغرافیائی محل وقوع اس ملک کے بڑے اثاثے سمجھے جاتے تھے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں میں پالیسیوں کے عدم تسلسل، سیاسی عدم استحکام، کمزور حکمرانی اور معاشی بدانتظامی نے ان امکانات کو بڑی حد تک محدود کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معیشت مسلسل قرضوں پر انحصار کرتی گئی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے فوری نوعیت کے معاشی فیصلوں کو ترجیح دی جاتی رہی۔
غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان سے اس کے مواقع، عزت، تعلیم، صحت اور بہتر مستقبل کی امید تک چھین لیتی ہے۔ جب ایک خاندان اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ صرف روٹی، آٹا، چینی، گھی اور بجلی کے بلوں پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جائے تو اس کے لیے بچوں کی تعلیم، علاج، بہتر رہائش یا کاروبار کا خواب دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں آج لاکھوں خاندان اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی نے عوام کی قوت خرید کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ریکارڈ بڑھوتری، ایندھن کی مہنگی قیمتیں اور روپے کی قدر میں نمایاں کمی نے عام شہری کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔ سرکاری ملازمین، مزدور، کسان، چھوٹے کاروباری افراد اور نجی شعبے کے کارکن سبھی کسی نہ کسی حد تک اس دباؤ کا شکار ہیں۔ بہت سے خاندان جو چند سال پہلے متوسط طبقے کا حصہ سمجھے جاتے تھے، آج غربت کے قریب یا اس کے اندر جا چکے ہیں۔
اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری بھی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہر سال لاکھوں نئے افراد روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، مگر معیشت اتنے روزگار پیدا نہیں کر پا رہی۔ صنعتوں کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی، سرمایہ کاری میں کمی اور توانائی کے بحران نے روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔ جب نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار حاصل نہ کر سکیں تو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرہ اس کے منفی اثرات محسوس کرتا ہے۔
زراعت، جو پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے، خود شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، مہنگی کھاد اور زرعی ادویات نے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت کا پھیلاؤ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ زرعی شعبہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق کارکردگی دکھانے سے قاصر ہے۔ جب کسان کی آمدنی کم ہوتی ہے تو اس کا اثر پورے معاشی نظام پر پڑتا ہے۔
غربت کے اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی ہوتے ہیں۔ جب ایک خاندان بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پاتا تو بچوں کی تعلیم سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔ لاکھوں بچے سکول چھوڑ کر مزدوری پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ صحت کی سہولیات تک رسائی محدود ہو جاتی ہے، غذائی قلت میں اضافہ ہوتا ہے اور معاشرے میں جرائم، منشیات اور دیگر سماجی برائیوں کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں غربت کو صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی ترقی اور قومی سلامتی کا مسئلہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بہت سے ممالک، جو کبھی پاکستان سے کمزور معاشی حیثیت رکھتے تھے، آج ترقی کی بہتر منزلوں تک پہنچ چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی مثال اکثر دی جاتی ہے جس نے برآمدات، خواتین کی معاشی شمولیت، آبادی پر بہتر کنٹرول اور صنعتی ترقی کے ذریعے غربت میں نمایاں کمی کی۔ بھارت نے ٹیکنالوجی، خدمات اور صنعتی شعبوں میں وسیع سرمایہ کاری کی، جبکہ کئی افریقی ممالک بھی معاشی اصلاحات کے ذریعے اپنی صورتحال بہتر بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے برعکس پاکستان میں پائیدار معاشی اصلاحات کا عمل مسلسل سیاسی تبدیلیوں اور مفادات کی سیاست کی نذر ہوتا رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ غربت صرف حکومتی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی پیداوار ہے جس میں وسائل کی تقسیم غیر مساوی ہو، ٹیکس کا بوجھ محدود طبقوں پر ہو، دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو، اور ریاستی ادارے اپنی مکمل استعداد کے ساتھ کام نہ کر رہے ہوں۔ پاکستان میں لاکھوں افراد ٹیکس دیتے ہیں جبکہ ایک بڑی معیشت اب بھی غیر دستاویزی شکل میں موجود ہے۔ جب ریاست کے پاس وسائل کم ہوں تو وہ تعلیم، صحت اور سماجی بہبود پر مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کر پاتی۔
اس بحران سے نکلنے کے لیے وقتی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ پاکستان کو ایسی معیشت کی ضرورت ہے جو روزگار پیدا کرے، سرمایہ کاری کو فروغ دے، برآمدات بڑھائے اور انسانی وسائل کو ترقی کا مرکز بنائے۔ تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، زراعت اور صنعت میں مسلسل سرمایہ کاری کے بغیر غربت کے خاتمے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح شفاف حکمرانی، قانون کی بالادستی اور پالیسیوں کے تسلسل کے بغیر معاشی استحکام حاصل کرنا بھی مشکل ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ خواہ جس زاویے سے دیکھی جائے، اس نے ایک خطرناک حقیقت کی نشاندہی ضرور کی ہے کہ پاکستان میں غربت کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں، خوابوں اور مستقبل کا معاملہ ہے۔ اگر ریاست، سیاسی قیادت، کاروباری طبقہ اور معاشرہ مل کر اس چیلنج کا مقابلہ نہ کر سکے تو غربت صرف ایک معاشی بحران نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسا قومی مسئلہ بن جائے گی جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ پاکستان کے پاس اب بھی وسائل، صلاحیت اور انسانی قوت موجود ہے، سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس بحران کو سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
واپس کریں