
ناجائز صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم اور جارحیت پر مبنی اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس سلسلے کی ایک تازہ کارروائی میں غاصب صہیونی فوج نے لبنان کے اندر ایک اہم پہاڑی اور اس پر قائم تاریخی قلعہ بیوفورٹ یاشقیف کے قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جسے فوجی حکام کے مطابق پچھلے پچیس سال سے زیادہ عرصے میں لبنان کے اندر کی جانے والی سب سے گہری پیش قدمی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی فوجی پیش قدمی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند توسیع پسندانہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو دہائیوں سے بتدریج آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ وہ بیوفورٹ قلعہ جس پر کبھی صلاح الدین ایوبی جیسے عظیم سپہ سالار کا پرچم لہرایا کرتا تھا، آج اس پر ناجائز صہیونی ریاست کا جھنڈا لگا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور یہ منظر صرف ایک قلعے کی فتح نہیں بلکہ یہ پورے عالمِ اسلام کی تذلیل کی علامت ہے لیکن مسلم دنیا کے حکمران جو دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں انھیں اس بات کا احساس تک نہیں ہو رہا۔
غاصب صہیونی فوج نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے دریائے لیطانی کو بھی عبور کیا ہے جو پہلے ایک غیر رسمی حد تصور کی جاتی تھی۔ فوج نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں سے شہریوں کو انخلا کی ہدایت بھی کی ہے۔ رہائشی عمارتوں پر بمباری، شہری آبادیوں کی نقل مکانی اور تاریخی مقامات پر قبضہ، یہ سب وہ اقدامات ہیں جنھیں مہذب دنیا دہشت گردی کے سوا کسی اور نام سے نہیں پکار سکتی۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید اکتیس افراد شہید ہوئے۔ لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ 2026ء سے اب تک دہشت گرد صہیونیوں کی کارروائیوں کے باعث تین ہزار دو سو تیرہ سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض ہندسے نہیں بلکہ ہر ہندسے کے پیچھے ایک انسانی زندگی کی کہانی ہے جو مسلم امہ کی بے حسی کا اعلان کرتی ہے۔
ادھر، نا جائز صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل شام، غزہ اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر اقدامات کر رہا ہے اور سرحدوں سے باہر سکیورٹی زون قائم کیے جا رہے ہیں۔ نیتن یاہو کی اس بیان بازی میں ‘‘سکیورٹی زون’’ کی اصطلاح دراصل قبضے اور الحاق کی پالیسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ گزشتہ پون صدی سے زائد عرصے کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اسرائیل نے ’’سکیورٹی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کسی علاقے میں قدم رکھا وہاں سے اس کا واپسی کا سفر بہت طویل رہا یا پھر ہوا ہی نہیں۔
ایک طرف نا جائز صہیونی ریاست کے یہ توسیع پسندانہ اقدامات جاری ہیں تو دوسری جانب غزہ کا المیہ ہے جو ان واقعات سے بھی زیادہ دلدوز ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک جاری صہیونی دہشت گردی کے نتیجے میں غزہ می، محتاط اندازوں کے مطابق، 75 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، غزہ میں ہر روز شہید کیئے جانے والوں کی اوسطاً تعداد ایک سو کے لگ بھگ ہے۔ صہیونی دہشت گردی سے بچے اور خواتین بڑی تعداد میں متاثر ہوئی ہیں اور شہادتوں میں بھی زیادہ حصہ انہی کا ہے۔ امریکا اور یورپ کی پشت پناہی سے غاصب صہیونی غزہ میں جو دہشت گردی کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد پونے دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو سرکاری طور پر ریکارڈ ہوئے ہیں۔ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے کتنی لاشیں دفن ہیں، اس کا اندازہ لگانا بھی نا ممکن ہے۔ غزہ میں ہسپتال، سکول، مساجد، گرجا گھر، صحافی، ڈاکٹر، کوئی بھی صہیونی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہا۔ اس سلسلے میں ایک تکلیف دہ بات یہ بھی ہے کہ غزہ کا چھوٹا سا علاقہ آج دنیا میں فی کس سب سے زیادہ معذور بچوں کا خطہ بن چکا ہے۔
نا جائز صہیونی ریاست کو اس دہشت گردی کے لیے امریکا اور یورپ کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔ دہشت گرد صہیونیوں کو امریکی ہتھیار، امریکی ویٹو پاور اور امریکی سفارتی ڈھال مہیا ہوتی ہے اور اس سب کے بغیر ان کے لیے ان کارروائیوں کو جاری رکھنا ممکن نہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جو مذاکرات کا عمل چل رہا ہے، صہیونی اس پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بھی معاہدہ اسرائیل کی علاقائی بالادستی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیہ اور دیگر ممالک سے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا۔ ابراہیمی معاہدہ دراصل اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت مسلم ممالک کو فلسطینی مسئلے کو پسِ پشت ڈال کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ ابراہیمی معاہدے کا بنیادی مقصد مسلم ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کروانا اور پھر اسے تسلیم کروانا ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں فلسطین کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس معاہدے میں شمولیت کو فلسطین کے مسئلے کے حل سے مشروط کرتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔
ترکیہ کا موقف اس ضمن میں سب سے واضح اور اصولی رہا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بار ہا کہا ہے کہ جب تک اسرائیل آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا اور غزہ و مغربی کنارے پر قبضہ ختم نہیں کرتا اسے کسی بھی مشترکہ سفارتی پلیٹ فارم پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ موقف نہ صرف اصولی ہے بلکہ عملی لحاظ سے بھی درست ہے کیونکہ جو ریاست مظلوم مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہو اور جس کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمات زیرِ سماعت ہوں، اسے بین الاقوامی برادری میں باعزت مقام دینا انصاف اور قانون کی کھلم کھلا توہین ہے۔
لبنان کے خلاف کی جانے والے ناجائز صہیونی ریاست کی عسکری کارروائی پر فرانس کے وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا اور اسرائیلی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں توسیع اور اندرونِ ملک قبضہ کسی صورت جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مغربی مذمتوں اور سلامتی کونسل کے اجلاسوں سے نا جائز صہیونی ریاست کو اب تک کیا فرق پڑا ہے؟ جب تک امریکا ویٹو پاور استعمال کرتا رہے گا، سلامتی کونسل کے قراردادیں بے اثر رہیں گی اور نا جائز صہیونی ریاست قانون سے بالاتر رہے گی۔ اس صورتحال میں مسلم دنیا اگر متحد ہو کر معاشی، سفارتی اور سیاسی سطح پر ایک ہی موقف اختیار کرتی ہے تو یہ ناممکن نہیں کہ ناجائز صہیونی ریاست اور اس کے پشت پناہوں کو لگام نہ ڈالی جا سکے۔ پچاس سے زائد مسلم اکثریتی ممالک دنیا کے تیل کے بیشتر ذخائر کے حامل ہیں، اہم تجارتی راستوں کے مالک ہیں اور عالمی آبادی کے ایک بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر یہ سب ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں تو غاصب صہیونیوں کو سبق سکھانے سے نہ تو کوئی معاہدہ روک سکتا ہے اور نہ ہی امریکی دباؤ۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں