خورشید ملت: وہ شخص جو اقتدار سے بڑا خواب دیکھتا تھا۔ راشد ہاشمی

تاریخ بعض لوگوں کو عہدے دیتی ہے اور بعض لوگوں کو کردار۔ عہدے وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں مگر کردار نسلوں کی یادداشت میں زندہ رہتے ہیں۔ خورشید حسن خورشید، جنہیں عوام محبت سے "خورشید ملت" کہتے ہیں، انہی کرداروں میں سے ایک تھے۔
ان کی زندگی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ نہیں کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری رہے، نہ یہ کہ وہ آزاد کشمیر کے صدر بنے اور نہ ہی یہ کہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے سیاست کی۔ ان کی زندگی کا اصل المیہ اور عظمت یہ ہے کہ وہ ایک ایسے شخص تھے جو ہمیشہ اپنے وقت سے آگے سوچتا رہا۔
برصغیر کی سیاست میں اکثر لوگ اقتدار حاصل کرنے کے لیے نظریات اپناتے ہیں، مگر خورشید ملت ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نظریات کی خاطر اقتدار کو قربان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جتنے بڑے سیاست دان تھے، اس سے کہیں زیادہ بڑے جمہوریت پسند تھے۔
اگر ہم ان کی زندگی کو ایک جملے میں سمیٹنا چاہیں تو شاید یوں کہیں کہ وہ "ریاست کے شہری" تھے، کسی ایک علاقے، خاندان یا گروہ کے نمائندے نہیں۔ انہوں نے خود ہجرت کا دکھ جھیلا، بے گھری کا کرب دیکھا، مگر کبھی مہاجر ہونے کو اپنی سیاسی شناخت نہیں بنایا۔ وہ جانتے تھے کہ جب انسان صرف اپنے گروہ کی سیاست کرتا ہے تو قومیں تقسیم ہوتی ہیں، اور جب پورے معاشرے کی سیاست کرتا ہے تو قومیں بنتی ہیں۔
خورشید ملت کی سیاست کا سب سے کم زیرِ بحث آنے والا پہلو ان کا عوام پر اعتماد تھا۔ ہمارے ہاں سیاست دان عوام سے ووٹ تو مانگتے ہیں مگر عوام کی سیاسی بصیرت پر اعتماد کم کرتے ہیں۔ خورشید ملت اس معاملے میں مختلف تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ غلطی کا حق بھی عوام کو حاصل ہونا چاہیے، کیونکہ جمہوریت میں عوام کی غلطی بھی آمریت کے درست فیصلے سے بہتر ہوتی ہے۔
یہی سوچ انہیں عوامی حقِ رائے دہی کے حامیوں میں ممتاز کرتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں، بلکہ عام آدمی کی عزتِ نفس کا اظہار ہے۔ ایک کسان، مزدور، استاد یا مہاجر جب ووٹ ڈالتا ہے تو وہ صرف نمائندہ منتخب نہیں کرتا بلکہ اپنے وجود کا اعلان بھی کرتا ہے۔
خورشید ملت کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ وہ قائداعظم کے بہت قریب رہے، مگر انہوں نے اس قربت کو ذاتی مفاد کی سیڑھی نہیں بنایا۔ ہمارے سیاسی کلچر میں کسی بڑے رہنما سے تعلق نسلوں تک سیاسی سرمایہ سمجھا جاتا ہے، مگر خورشید ملت نے اپنے لیے شخصیت پرستی کا راستہ نہیں چنا۔ انہوں نے قائداعظم کی تصویر کو نہیں، ان کے اصولوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
شاید اسی لیے ان کی زندگی میں ایک عجیب سا تنہائی کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ ہر دور میں موجود رہے مگر کسی دور کے مکمل آدمی نہ بن سکے۔ اصولوں کی سیاست اکثر انسان کو مقبول تو بنا دیتی ہے، طاقتور نہیں بناتی۔
آزاد کشمیر کی تاریخ میں بہت سے حکمران آئے، بہت سے نعرے لگے، بہت سی جماعتیں بنیں اور ٹوٹ گئیں، مگر خورشید ملت آج بھی ایک سوال بن کر زندہ ہیں۔ سوال یہ کہ کیا سیاست اقتدار کے لیے ہونی چاہیے یا عوام کے اختیار کے لیے؟
ان کی قبر پر کھڑے ہو کر شاید سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہی ہو سکتا ہے کہ ہم انہیں صرف ایک سابق صدر، ایک سابق اپوزیشن لیڈر یا ایک مہاجر رہنما کے طور پر نہ یاد کریں، بلکہ اس شخص کے طور پر یاد کریں جس نے عوام کے حق کو حکمرانوں کی طاقت سے زیادہ اہم سمجھا۔
خورشید ملت کی اصل میراث کوئی سرکاری عمارت، کوئی یادگار یا کوئی سیاسی جماعت نہیں۔ ان کی اصل میراث وہ تصور ہے کہ ریاستیں بندوقوں، سرحدوں اور ایوانوں سے نہیں بلکہ بااختیار عوام سے مضبوط ہوتی ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے شور میں بھی ان کا نام ایک خاموش روشنی کی طرح محسوس ہوتا ہے؛ ایسی روشنی جو راستہ تو دکھاتی ہے مگر خود کبھی مرکزِ نگاہ بننے کی خواہش نہیں رکھتی۔
یہ کالم خورشید ملت کی زندگی کے کم زیرِ بحث فکری اور جمہوری پہلوؤں پر مرکوز ہے، بجائے اس کے کہ صرف ان کے عہدوں اور سیاسی واقعات کو دہرایا جائے۔
واپس کریں