محمد محسن خان ( راجپوت )
جنوبی ایشیا کی معاشی زندگی کے مرکز کراچی کی دھڑکنوں کو روشن رکھنے والے ایک اہم ادارے کا نام "کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن" ہے۔ یہ کمپنی، جو آج "کے الیکٹرک" کے نام سے مشہور ہے، صرف بجلی فراہم کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ شہر کی ترقی، صنعتوں کی رفتار، اور روزمرہ کی زندگی کی ضامن ایک اہم ترین اکائی ہے۔ ایک صدی پر محیط اس کا سفر برطانوی دور سے لے کر آزادی، قومیانے اور نجکاری کے اہم سنگِ میل عبور کرتا ہوا آج تک پہنچا ہے۔ یہ مضمون اس تاریخی ادارے کے پس منظر، قیام، تبدیلیوں اور چیلنجز کا احاطہ کرتا ہے
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی کہانی 1913ء کے اس برطانوی ہندوستان میں شروع ہوتی ہے جب کراچی ایک ابھرتی ہوئی بندرگاہ تھا۔ اس کی روشنیوں کو استحکام دینے کے لیے انگریزوں نے "کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی" کے نام سے ایک عوامی ادارے کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں اس کا دائرہ کار محدود تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہ ادارہ شہر کے صنعتی اور تجارتی مرکز بننے کی بنیاد بن گیا۔
آزادی کے بعد 1952ء میں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت نے اس کمپنی کو قومی تحویل میں لے لیا، اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام "کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (KESC)" رکھ دیا گیا۔ اس قومیانے کے بعد یہ مکمل طور پر ایک سرکاری ادارہ بن گیا اور آنے والی کئی دہائیوں تک اسی شکل میں شہر کو بجلی فراہم کرتا رہا۔
نجکاری کا نیا باب اور KES Power کا کردار
بیسویں صدی کے آخر تک آنے والی معاشی مشکلات اور توانائی کے بحران نے اس ادارے کو نئے سرے سے ڈھالنے کی ضرورت پیدا کردی۔ بالآخر 2005ء میں پاکستان کی تاریخ کے ایک بڑے معاشی فیصلے کے طور پر اس کی نجکاری کی گئی۔ اس فیصلے نے نہ صرف کمپنی کا مستقبل بدلا بلکہ اسے بچانے کے لیے ایک نئے کاروباری ڈھانچے کی تشکیل کی ضرورت تھی، جس کے لیے KES پاور کو تشکیل دیا گیا۔
یہ ایک نجی کنسورشیم تھا جسے خاص طور پر KESC کے اکثریتی حصص خریدنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کنسورشیم میں سعودی عرب کی الجومعہ گروپ، کویت کے نیشنل انڈسٹریز گروپ اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کار شامل تھے۔ جولائی 2005 میں ہونے والے اس سودے کے بعد KES پاور نے 66.4 فیصد حصص حاصل کرکے کمپنی کی باگ ڈور سنبھالی۔ یہ نجکاری کے بعد کے دور میں KES پاور کو کمپنی کا بڑا حصہ دار بنا دیتا ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان نے 24.36 فیصد حصص برقرار رکھے۔
2014ء میں کمپنی نے ایک اور اہم تبدیلی کی اور اپنا نام "کے الیکٹرک (K-Electric)" رکھ دیا، جس کے بعد یہ ایک نجی اور عوامی سطح پر منافع دینے والی کمپنی کی صورت میں سامنے آئی۔ آج کے الیکٹرک کا شمار پاکستان کی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے جس کی سالانہ آمدنی 2023 میں تقریباً 519 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
فی الوقت کمپنی کے چیئرمین شہریار ارشد چشتی ہیں، جبکہ سی ای او سید محمد طلحہ ہیں۔
کے الیکٹرک پاکستان کی واحد عمودی طور پر مربوط یوٹیلیٹی ہے، یعنی یہ خود بجلی پیدا کرتی ہے اور خود ہی اسے ترسیل اور تقسیم کا کام بھی سر انجام دیتی ہے۔ اس کی خدمات کا دائرہ کار تقریباً 6,500 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جو کراچی شہر اور سندھ کے علاقوں دھابیجی، گھارو کے علاوہ بلوچستان کے علاقوں اُتھل، وندر اور بیلہ تک پھیلا ہوا ہے۔ فی الوقت یہ تقریباً 37 لاکھ سے زائد صارفین کو بجلی فراہم کر رہی ہے اور اس میں 9,000 سے زائد افراد کام کر رہے ہیں۔
اس تاریخی اہمیت کے باوجود کے الیکٹرک کا سفر مشکلات سے خالی نہیں رہا۔ وقتاً فوقتاً بجلی کی بندش، پرانے اور ناقص انفراسٹرکچر، میٹرز کی غیر معیاری ریڈنگ اور بجلی کی چوری جیسے مسائل عوام میں شدید تنقید کا باعث بنتے رہے ہیں۔ خود کمپنی کے مالیاتی اعدادوشمار بھی تشویشناک رہے، جہاں 2023 میں اسے 30 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔
کے الیکٹرک نے 2025 میں ایک منفرد صورتحال کا سامنا کیا۔ ابتدائی طور پر اس نے 4 ارب 13 کروڑ روپے کے منافع کا اعلان کیا، لیکن بعد ازاں ٹیرف میں کمی کے فیصلے نے اسے بھاری نقصان میں بدل دیا۔
ابتدائی منافع (4.13 ارب روپے)
23 ستمبر 2025 کو کمپنی نے مالی سال 2024 کے لیے 4.13 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا:
· 3.56% ایکوئٹی پر واپسی
· 0.87% پراپرٹی اور آلات پر واپسی
· 3550 میگاواٹ ٹرانسمیشن کی گنجائش تک رسائی
اکتوبر 2025 میں نیپرا نے ٹیرف میں 7.6 روپے فی یونٹ کی کٹوتی کر کے اسے 32.37 روپے کر دیا۔ اس کے نتیجے میں سی ای او کا دعویٰ منافع 80 ارب روپے کے خالص نقصان میں بدل گیا اور کمپنی پر 260 ارب روپے کا قرضہ ہے۔
· ماہرین کا تخمینہ: سالانہ مالی خسارہ 79 ارب روپے لگایا گیا۔
· فی شیئر نقصان: مالی سال 2025 کے لیے 2.2 روپے فی شیئر نقصان متوقع ہے۔
· خدشہ: اگر یہی صورت حال رہی تو 2030 تک کل نقصان 600 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔
یہ صورتحال توانائی کے شعبے میں ریگولیٹری اتھارٹی اور کمپنیوں کے درمیان معاشی توازن کی ایک پیچیدہ مثال ہے۔
اس کے علاوہ نجکاری کے عمل پر بھی بار بار سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اسے شفاف نہ ہونے کا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں کمپنی کی فروخت کے لیے چینی کمپنی "شنگھائی الیکٹرک پاور" کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ بھی کیا گیا تھا، تاہم یہ سودا 2025 میں طے پانے میں ناکام رہا۔
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن، جو آج کے الیکٹرک کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک ایسی ادارہ ہے جس کی کہانی کراچی کی ترقی کی کہانی سے جدا نہیں کی جا سکتی۔ یہ ایک ایسا کردار ہے جس نے برطانوی دور کی ایک چھوٹی سی کوشش سے آغاز کر کے قومیانے، سرکاری ناکامیوں اور پھر نجکاری کے مراحل طے کرتے ہوئے آج کے جدید دور میں اپنی موجودہ شکل اختیار کی۔ شہر کے باشندوں کے لیے یہ روشنی اور امید کی علامت ہے تو وہیں بدانتظامی اور چیلنجز کی ایک جیتی جاگتی مثال بھی۔ اس کا مستقبل کا سفر اس کی ان چیلنجز سے نمٹنے اور خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
واپس کریں