پختونخوا میں پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کے حل کے لیے چھ رکنی کمیٹی قائم

پشاور(رپورٹ خالد خان)پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں مسلسل تردیدوں اور پروپیگنڈا کے بیانیے کے باوجود زمینی حقائق نے صورتحال کو مختلف رخ دے دیا ہے۔ گزشتہ روز ہونے والا پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اس سیاسی کشمکش میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس کے بعد پارٹی قیادت نے باضابطہ طور پر مفاہمت اور رابطہ کاری کے لیے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس پیش رفت سے ایک روز قبل یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ تمام اراکینِ صوبائی اسمبلی اجلاس میں شریک ہوں گے، جبکہ حکومت کے ترجمان شفیع جان اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بار بار اس تاثر کو رد کرتے رہے کہ کسی قسم کی ناراضگی یا اختلافات موجود ہیں۔ ان کی جانب سے ان خبروں کو من گھڑت اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مکمل شرکت کا یقین دلایا گیا تھا، تاہم عملی صورتحال اس کے برعکس سامنے آئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس سے قبل رات گئے تک ناراض اراکین کو منانے کی کوششیں جاری رہیں، حتیٰ کہ بعض قریبی ناراض اراکین سے ملاقاتیں بھی کی گئیں، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود تقریباً تیس ناراض اراکین نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ اس غیر حاضری نے نہ صرف پارٹی ڈسپلن پر سوالات اٹھائے بلکہ اندرونی اختلافات کی سنگینی کو بھی واضح کر دیا ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق یہ صورتحال اس وقت مزید حساس ہو گئی ہے جب صوبائی بجٹ کی منظوری کا مرحلہ قریب ہے، اور کسی بھی قسم کی سیاسی تقسیم حکومت کے لیے آئینی اور انتظامی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ مبصرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر بجٹ منظور نہ ہو سکا تو حکومت بغیر کسی عدم اعتماد کی تحریک کے ختم ہو جائے گی۔
ان حالات کے تناظر میں اب جو چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس میں سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان، صوبائی وزیر مینا خان، صوبائی وزیر اکبر ایوب خان اور پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر عاطف خان شامل ہیں۔ یہ کمیٹی پارٹی کے پارلیمانی ارکان، صوبائی حکومت اور تنظیمی ڈھانچے کے درمیان رابطہ کاری اور اختلافات کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر واقعی کسی اختلاف یا ناراضگی کی موجودگی کو مسلسل رد کیا جاتا رہا، تو پھر اس نوعیت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کس ضرورت کے تحت عمل میں لائی گئی۔ یہی تضاد اس وقت خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں بے یقینی اور دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے، جہاں بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔
واپس کریں