
یہ ملک معاشی طور پر ایک ایسی زخمی اور لاغر گائے بن چکا ہے جس کے وسائل اور اس کی قسمت پر اندرونی و بیرنی کئی لٹیرے اور ''گدھ'' بیٹھے ہوئے ہیں۔ عوام بھوک، مہنگائی، بے روزگاری اور عدم معاشی استحکام کا شکار ہیں جبکہ بظاہر غیر سیاسی، سیاسی و معاشی اشرافیہ، بین الاقوامی ادارے اور بیرونی طاقتیں مل کر اس ملک کے جسم کو نوچ رہی ہیں۔پاکستان جیسا زرعی اور ایک بڑی نوجوان آبادی والا ملک، جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، آج بھاری اور مہنگے بیرونی قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔عالمی ساہو کار IMF کے پروگرامز، بیرونی دباؤ، کرپشن، بدعنوانی اور اداروں کے درمیان باہمی لڑائی نے ملک و عوام کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عام شہری صرف دو وقت کی روٹی کی فکر میں مبتلا ہے جبکہ اوپر والے ''گدھ'' اپنا حصہ وصول یا بندر بانٹ کرنے میں مصروف ہیں۔
اس ملک کا کل بیرونی قرضہ مارچ 2026 تک تقریباً 137.5 سے 138 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ پاکستان آئی ایم ایف کے آگے کئی مرتبہ ہاتھ پھیلانے والا واحد ملک بن چکا ہے۔ 1958 سے اب تک 25 سے زائد آئی ایم ایف پروگرامز حاصل کیے جا چکے ہیں۔
کچھ رپورٹس کے مطابق تو یہ قرضہ 70% سے تجاوز کر چکا ہے، جو قرضوں کی حد (Fiscal Responsibility Law) سے زیادہ ہے۔
عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 2024-25 میں تقریباً 105 ملین پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح، سرکاری اعداد کے مطابق تو 6-7% کے قریب، مگر حقیقی شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔
انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کی ناکامی کے باعث سیاسی عدم استحکام، کرپشن، ٹیکس بیس کی کمی یعنی صرف 2-3% لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور اداروں کے درمیان باہمی تنازعات نے معاشی اصلاحات کو روکا ہے جس کانتیجہ عوام کے بھاری ٹیکس اور مہنگائی کی صورت میں ادائیگی، جبکہ وسائل اشرافیہ اور قرض خواہوں کی جیب میں جاتے ہیں۔ باالفاظ دیگر ملک کے وسائل غریب عوام کی بجائے لٹیروں اورنوچنے والی گدھوں کے درمیان تقسیم ہو رہے ہیں اور دوسری جانب بیرونی طاقتیں بلخصوص امریکہ اور عالمی مالیاتی ادارے اپنے جغرافیائی سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اگر قومی مفاد کی بجائے ذاتی یا گروہی مفادات کو ترجیح دی جاتی رہی، امریکی حمایت یافتہ بیوروکریسی کو لگام نہ ڈالی گئی، کرپشن کو نہ روکا گیا تو زخمی اور لاغر گائے مزید کمزور ہوتی چلی جائے گی اور بل آخر ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ اس ملک کے ساتھ مخلص لوگ اور فیصلہ ساز لٹیروں اور گدھوں کو ملک نوچنے سے روکیں کیونکہ عام پاکستانی بھوک، مہنگائی اور عدم تحفظ کا شکار، جبکہ ملک قرضوں کے گہرے جال میں پھنسا ہوا ہے اور پھنستا چلا جا رہا ہے۔
اب دیکھنا ہے کہ مذکورہ بالا تشویشناک حقیقت کو دیکھ کوئی عملی اقدام اٹھایا جاتا ہے یا پھر خاموش تماشائی بن کر گائے کے ڈھانچہ کو دیکھنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔
واپس کریں