دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ریاستی سیاسی جماعتوں کی تنہاء پروازیں
No image آذاد کشمیرکی ریاستی سیاسی جماعتیں اگر اپنے آپ کو فعال اور سیاسی طور پر زندہ رکھنا چاہتی ہیں تو”ریاستی تشخص“ہی وہ واحد نعرہ ہے جس کی بنیاد پر وہ پاور پالیٹکس کر سکتی ہیں وگرنہ وقت کے ساتھ ساتھ ریاستی سیاسی جماعتوں کا سروایو کرنا مشکل ہو جائے گا لیکن ہاں، اگر ریاستی جماعتوں کے لیڈران کو اپنی اپنی پارٹی صدارت یا چیئرمینی چمکانی ہو، اخباری بیان بازی یا اپنا سیاسی ٹھرک پورا کرنا یا تنہاء پرواز کرنا مقصود ہو تو پھر وہ ایک علیحدہ بات ہو گی۔
اب کرنا کیا چاہیئے، بہت سادہ فارمولا ہے، مسلم کانفرنس(جوپہلے خود اپنی پارٹی کو دوبارہ منظم کرے)،جموں کشمیر پیپلز پارٹی، جموں کشمیرلیبریشن لیگ، دیگر ریاستی سیاسی جماعتیں،قوم پرست سیاسی جماعتوں کی خاموش حمایت(جو الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتیں) اور بلخصوص جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، اگر اپنے اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر آپس میں سیاسی اتحاد کر لیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آمدہ عام انتخابات میں ریاستی سیاسی جماعتوں کا سیاسی اتحاد غیر ریاستی سیاسی جماعتوں (وفاقی سیاست) کو ٹف دینے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
آذاد کشمیر کی مختلف ریاستی سیاسی جماعتیں اگر”ریاستی تشخص“ کا راگ مسلسل الاپ رہی ہیں اور تنہاء پرواز کر رہی ہیں تو آپس میں سیاسی اتحاد کیوں نہیں کر سکتیں؟
کل تک ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک اور ملک دشمن قرار دینے والی غیر ریاستی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی اگر آپ میں ”سیاسی اتحاد“ کر سکتی ہیں تو آذاد کشمیر کی ریاستی سیاسی جماعتیں ”ریاستی تشخص“ کے تحفظ کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے کیوں نہیں ہو سکتیں؟
آذاد کشمیر کی ریاستی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو کوئی سمجھائے کہ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے سیاسی اتحاد جمہوری و سیاسی نظام کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ اس تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھا جائے۔
واپس کریں