
ہر گاہ کہ ریاست جموں کشمیر میں بسنے والے ایک کروڑ 125 کے عوام ابھی تک بھارت کے پنجہ استبداد میں گرفتار ہیں اور انہیں حق خود ارادیت سے محروم رکھا گیا جس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے تسلیم کیا ہے اور خود بھارت بھی ان کے اس بنیادی حق کو تسلیم کر چکا ہے اور یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی، وعدہ خلافی اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کے باوجود کونسل کا شمیر مناسب کار روائی پر آمادہ نہ ہوسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بدستور محبان وطن بھارت کے استبدادی ہتھکنڈوں اور جھوٹے مقدمات کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
ہرگاہ کہ حد متارکہ جنگ کے اس طرف کا آزاد علاقہ جو تحریک آزادی کا بنیادی کیمپ اور جہاں بدستور سیاسی جماعتیں ہماری رائے میں عوام کے سامنے اس نازک دور میں جاندار لائحہ عمل رکھنے کے بجائے جیسا کہ لوگوں کی خواہش ہے ، جامد حیثیت اختیار کر چکی ہیں اور ان کی صحیح راہنمائی کے بجائے جذباتی نعرہ بازی کا شکار ہوگئی ہیں لہٰذا جموں کشمیر کے عوامی نمائندوں کا یہ اجتماع اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ اقوام متحدہ سے انصاف کی توقع رکھنا یا جارحبھارت کی نیک نیتی پر بھروسہ کرنا لا حاصل ہے اور وقت آچکا ہے کہ مادر وطن کے چپے چپے کو آزاد کرانے کے لئے طفل تسلیوں کے بجائے ٹھوس اور موثر ذرائع اختیار کئے جائیں ان حالات میں ریاست جموں کشمیر کے عوام کا یہ نمائندہ اجلاس با اتفاق رائے جموں کشمیر لبریشن لیگ کے نام سے سیاسی تنظیم کے قیام کا اعلان کرتا ہے اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر منتظر آباد میں ہوگا۔
اس تنظیم کا اولین مقصد ریاست کے عوام کو تحریک آزادی کے فیصلہ کن مرحلہ کے لئے تیار کرنا آزاد حکومت کو ریاست جموں کشمیر کی جائز حکومت تسلیم کرانا اور آزاد علاقے میں نمائندہ نظام کے استحکام کے لئے کام کرنا ایسے اقدامات کرنا جن سے جمہوریت، آزادی، اسلامی اقتدار کے تحفظ کے علاوہ پاکستان کے ساتھ سیاسی معاشرتی اور دینی رشتوں کو مزید استو را کرنا اور رائے عامہ کی تنظیم کرنا ہوگا۔
ریاست جموں کشمیر جو کہ ۸۵ ہزار مربع میل پر مشتمل ہے ، کی وحدت کو قائم رکھنا اور آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کو پوری ریاست کی نمائندہ اور آئینی حکومت کے طور پر تسلیم کرانا اور شمیریوں کے حق خود ارادیت اور آزادی کی جدو جہد کرتا۔
11 اگست 1962ء
(راولپنڈی میں جماعت کی ابتدائی میٹنگ میں منظور شدہ)
واپس کریں