دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عاصم منیر کیسے چیف بنے ؟ اظہر سید
No image عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری کے فیصلہ کا کریڈٹ اگر میاں نواز شریف کو اکیلے دینا ہے تو پھر نوسر باز کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے فیصلہ کا کریڈٹ بھی میاں نواز شریف کو دیا جائے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کو اس فیصلے سے نکال دیا جائے ۔اسٹیبلشمنٹ کے کمانڈ سٹرکچر کو جب نوسر باز مسلط کرنے کی غلطی کا احساس ہوا،بہت تاخیر ہو چکی تھی ۔اس تاخیر کی وجہ نوسر باز کیلئے عدلیہ ،میڈیا اور پاور سٹرکچر میں قائم کردہ انفراسٹرکچر تھا جو قدم قدم پر مزاحمت کر رہا تھا ۔جب مالکوں نے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا تو عملدرآمد میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے کرنا تھا کہ ان دونوں جماعتوں کے میثاق جمہوریت کی وجہ سے ہی کھوتے کو لیڈر بنایا گیا اور میثاق جمہوریت کرنے والوں کو چور ڈاکو مشہور کیا گیا تھا ۔
تحریک عدم اعتماد کے جھانسے میں کوئی نہیں آرہا تھا ۔میاں نواز شریف،اصف علی زرداری اور نہ مولانا فضل الرحمٰن ۔اس وقت آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر
"پاکستان کھپے" کا نعرہ لگایا اور ریاست کو نوسر باز سے نجات دلانے کی حامی بھر لی ۔
کمانڈ سٹرکچر نے زبیر نامی پالتو کے زریعے میاں نواز شریف سے تجدید تعلقات کی کوشش کی لیکن ایک بے نامی افسر نے ایک گندی ویڈیو کے زریعے یہ کوشش ناکام بنا دی ۔
کہتے ہیں کوئی لندن میں میاں نواز شریف سے ملا تب مسلم لیگ ن تحریک عدم اعتماد کا بھاری پتھر اٹھانے پر تیار ہوئی ۔
سچ تو یہ ہے پہلے آصف علی زرداری تیار ہوئے اور پھر آصف علی زرداری کے دلائل پر میاں نواز شریف تیار ہوئے ۔
تحریک عدم اعتماد سے پہلے کمانڈ سٹرکچر سے بہت سارے فیصلے ،ضمانتیں اور یقین دہانیاں لی گئی تھیں انہی کا نتیجہ تھا سیاستدان اپنی مرضی کا چیف تعینات کرنے میں کامیاب ہوئے ۔
اس سارے عمل میں آصف علی زرداری یا عوامی جمہوریہ چین کو باہر کرنا ہے تو وہ صرف سیاسی وابستگی ہے اور کچھ نہیں ۔
مرشد آیا نہیں لایا گیا تھا ۔مرشد سی پیک اور پاک چین تعلقات ختم کرانے کیلئے لایا گیا تھا اور اس کے پیچھے وہی لابی تھی جو چین کو روکنے کیلئے کبھی وینزویلا کے صدر کو اغوا کرتی ہے کبھی یورنیم افزودگی کے بہانے ایران پر حملہ آور ہو جاتی ہے ۔
یہ دو سپر پاورز کی کشمکش ہے ۔پہلے مرحلہ میں امریکی کامیاب ہوئے دوسرے مرحلہ میں چینیوں نے کامیابی حاصل کی ۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں محب وطن جماعتیں ہیں ۔پاک چین تعلقات کی بنا پیپلز پارٹی نے ڈالی اور سی پیک کے زریعے اسے انتہا پر ن لیگ لے کر گئی ۔
گوادر پورٹ امریکی پراکسی سنگاپور پورٹ سے لے کر چینی کمپنی کو دینے کا فیصلہ آصف علی زرداری کا تھا ۔سی پیک معاہدوں پر دستخط کے فیصلے میاں نواز شریف کے تھے ۔
نوسر باز کی حکومت میں جب چینیوں کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا ریاستی سطح پر عجیب و غریب ردعمل دیا جاتا تھا ۔
آصف علی زرداری ،میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن تینوں ہدف تھے ۔اس خوفناک دور میں تینوں جماعتوں کو چینی قیادت کی حمائت حاصل تھی اور بنیادی وجہ سی پیک کا تحفظ تھا ۔
سئنیر ترین افسران کو کمانڈ سٹرکچر کی قیادت دینے کا فیصلہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کا تھا ۔یہ نری بکواس ہے آصف علی زرداری جنرل ساحر شمشاد کو چیف بنانا چاہتے تھے ۔تینوں مسلح افواج کی رسمی قیادت جنرل شمشاد کو ملی اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر بنے اور یہ فیصلہ میاں نواز شریف کا اکیلے کا نہیں تھا بلکہ تحریک عدم اعتماد پر رضامندی ظاہر کرنے سے پہلے دونوں لیڈروں کا تھا اور کمانڈ سٹرکچر سے منوایا گیا تھا ۔یہی فیصلہ تھا جنرل باجوہ میڈیا،عدلیہ اور پاور سٹرکچر میں اپنے بہت بڑے انفراسٹرکچر کے باوجود جنرل عاصم منیر کی تعیناتی روک نہیں پایا کہ کمانڈ سٹرکچر ہاتھی کا پاؤں ہے ۔
واپس کریں