دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکہ کی ناکہ بندی ، ایرانی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔طاہر سواتی
No image صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم ہمارے حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔ ایران کی یورینیم افزودگی پر بیس سال کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے پابندی ہوگی۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں؛ اگر اس کے پاس ایسے ہتھیار آ گئے تو دنیا کا ہر ملک خطرے میں پڑ جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب وہ سب کچھ مان رہا ہے جسے وہ دو ماہ قبل ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اگر معاہدہ طے پا گیا تو میں پاکستان جا سکتا ہوں۔ پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور اس نے بہت مثبت کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، اگر معاہدہ طے نہ پایا تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
کل لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ میں مذاکرات ہوئے، جس کے بعد اسرائیلی کابینہ اپنے خصوصی اجلاس میں جنگ بندی سے متعلق کوئی فیصلہ نہ کر سکی۔ آج ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فون کر کے جنگ بندی کا مطالبہ کیا، جس پر نیتن یاہو نے “کچھ شرائط کے تحت” دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
نیتن یاہو نے کہا:
“ہمارے پاس لبنان کے ساتھ ایک تاریخی امن معاہدہ کرنے کا موقع ہے۔ صدر ٹرمپ مجھے اور لبنان کے صدر کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اس معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے۔”
اس معاملے پر جب صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ لبنان کے ساتھ پہلے بھی معاہدے ہو چکے ہیں، تو اس نئے معاہدے میں کیا فرق ہے، تو ٹرمپ کا جواب تھا:
“میں—میں ہی فرق ہوں، اور بہت بڑا فرق ہوں۔”
ایران کی وزارتِ خارجہ نے بھی اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ناکہ بندی کے بعد امریکہ نے بھی وہی حربہ استعمال کرتے ہوئے ہرمز کا محاصرہ کر دیا، اور امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں سے تیل لے جانے والے جہازوں کو روکنا شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ دو دن سے کوئی تیل بردار جہاز ایرانی بندرگاہوں سے باہر نہیں جا سکا۔
آج اقوامِ متحدہ میں ایرانی نمائندے نے کہا:
“ایران ایک ذمہ دار ملک ہے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ نقل و حرکت کی حمایت کرتا ہے۔”
اب ان سے کوئی پوچھے کہ ہرمز میں بارودی سرنگیں اسرائیل نے بچھائی تھیں ؟
یہاں بھتہ ٹیکس امریکہ وصول کر رہا تھا؟
یاد رہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے پاس اس وقت بھی تقریباً 800 تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں، جو ساحلی علاقوں کی مخصوص سرنگوں میں چھپی رہتی ہیں اور اچانک حملہ کر کے تیل بردار جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب اور قطر کے خصوصی دورے کے بعد اب ترکی پہنچ چکے ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر ہیں۔ ممکنہ طور پر ایران کو یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ کرنے میں ان کا کردار ہو سکتا ہے۔
ایران کا موقف ہے کہ اس کا سارا افزودہ یورینیم زیرِ زمین مراکز میں موجود ہے، جنہیں امریکی بمباری سے نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں حافظ نے انہیں سمجھایا ہوگا کہ جو یورینیم آپ کے کسی کام کے نہیں اس کے لئے پورے ملک کو کیوں داوُ پر لگا رہے ہو۔ اور اگر اسے نکالنے کی کوشش کی گئی تو دوبارہ حملے ہو سکتے ہیں۔
اب اگر امریکہ ان سرنگوں کو کھول کر یورینیم حاصل کرتا ہے لیکن اس میں 60 فیصد تک افزودہ 450 کلو یورینیم موجود نہ ہوا، تو ایک نیا کٹا کھلے گا،
کیونکہُ ایرانی اتنے بھی سیدھے نہیں جو یکدم اتنی بڑی بات پر راضی ہوگئے ۔
مزید یہ کہ ایران کو ماضی میں قطر اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے بڑی مالی معاونت حاصل ہوتی رہی، جو اب ممکن نہیں رہی۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق خلیجی ممالک نے ایران سے متعلق اپنے مالیاتی ریکارڈ امریکہ کے ساتھ شیئر کر دیے ہیں۔
اوپرُ سے اگر امریکہ کی ناکہ بندی مزید دو ماہ جاری رہتی ہے تو ایرانی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سرکاری ملازمین کو گزشتہ دو ماہ سے مکمل تنخواہیں نہیں مل سکیں۔
اس وقت ایران دفاعی اور معاشی لحاظ سے شدید دباؤ میں ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کے لیے راستے تلاش کر رہا ہے۔لیکن ساتھ ہی خمینی کی میراث کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا ۔
واپس کریں