
خطے میں امن کی خاطر ہمسایہ ممالک سے جتنے جوش و جذبے کے ساتھ بلکہ جنگی بنیادوں پر ہمارے لیڈران سفارت کاری میں مصروف عمل ہیں،اگر ایسے ہی جذبے،لگن اور جوش و خروش کے ساتھ اپنے ملک اور اس میں بسنے والے پچیس کروڑ عوام(جن میں نصف غربت کی لکیر سے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں) کے لیئے معاشی جدوجہد کریں، جس سے مشکلات کے شکار عوام کی زندگیاں آسان ہوں تو کوئی وجہ نہیں ہمارے لیڈران کو کامیابی حاصل نہ ہو کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ قومی قیادت ہر قسم کا ٹیلنٹ رکھتی ہے۔
بے روزگاری،پہاڑ جیسے غیر ملکی سودی قرضے،معاشی بدحالی،تاجروں اور سرمایہ لگانے والوں کے بے چینی اور مہنگائی جس بجلی اور گیس کے مہنگے بل نمایاں ہیں، جیسے مسائل تو ہمارے لیڈران کے لیئے سر فہرست ہونے چاہیئں لیکن ترجیحات بلکل مختلف دکھائی دیتی ہیں۔مثلاً آئی ایم ایف سے کب اور کتنا قرضہ ملنا ہے،اس کا سود ادا کرنے کے لیئے عوام پر کتنے ٹیکس لگانے ہیں،کون سے ملک سے مذید قرضہ کب تک ملنا ہے،پٹرول اور گیس کو کب اور کتنا مہنگا کرنا ہے وغیرہ اور مزید قرضوں یا قسط کے حصول کے لیئے آئی ایم ایف کے نمائندوں سے مذید ملاقات یا اسٹاف لیول مذاکرات کب ہوں گے؟
وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے کبھی یہ سننے کو نہیں ملے گا کہ اس ملک میں کتنی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی ہے،ملک میں کارخانوں اور فیکٹریوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا ہے،ڈالر کا ریٹ کتنا نیچے اور روپیہ کتنا مستحکم ہوا اور ہم نے کتنا بیرونی قرضہ واپس کیا، بے روزگاری کی شرح کتنے فیصد کم ہوئی ہے، ہمارا کرنٹ خسارہ کتنا کم ہوا اور یہ کہ ہمارے قومی خزانے میں موجود سرمایہ ہمارا اپنا کتنا ہے؟
قومی معاشی اور اقتصادی پالیسی اگر صرف آئی ایم ایف سے قرضے لیتے جانا اور اس عالمی ساہو کار کے مطالبات ماننے کا نام ہے(جو ہو رہا ہے) تو اس کام کے لیئے وزارت خزانہ میں اتنی بڑی اور بھاری بھرکم نفری(تقریباً دس ہزار کے قریب) کو پالنے پوسنے کی کیاضرورت ہے،یہ کام تو صرف وہ پانچ ایسے بندے بیٹھ کر بھی چلا سکتے ہیں،جو آئی ایم ایف کی ڈیکٹیشن پر اپنا سر ہلاتے ہوئے یس سر،یس سر کرنا جانتے ہوں۔
ہماری جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 2 فیصد رہ گئی ہے،یہ معمول کی سست روی نہیں ہے بلکہ دنیا کی سب سے کم عمر آبادی والے ہمارے اس ملک میں معاشی خطرے کی گھنٹی ہے۔ ٹوٹل قرض تقریباً 51 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 80 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے،پٹرول کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں،بجلی کے نرخ تین گنا بڑھ گئے ہیں اورروپیہ اپنی قدر تقریباً نصف کھو چکا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے مسلسل راگ الاپا جاتا تھا کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے،اب ٹیکس ریونیو بھی دوگنا ہو گیا ہے یعنی 7 ٹریلین روپے سے 14 ٹریلین روپے لیکن یہ وہ کامیابی نہیں ہے جو نظر آنی چاہیئے بلکہ ترقی مذید سست ہو گئی ہے، قرض بڑھ گیا ہے، کرنسی کمزور ہو گئی ہے اور اس سب کا بوجھ فیصلہ کن طور پر عام پاکستانیوں پر ڈال دیا گیا ہے۔یہ معاشی ٹیک آف نہیں بلکہ معاشی زوال کا انتظام ہے۔
احباب گلہ کرتے ہیں کہ مایوسی نہ لکھا کروں،چلیں میں بھی امید شجر بہار رکھ لیتا ہوں اور دلی دعا کرتا ہوں کہ جس برق رفتاری سے ہمارے لیڈران دوست ممالک کے لیئے آجکل سفارت کاری یا سہولت کاری کر رہے ہیں،اسی برق رفتاری سے اور جنگی بنیادوں پر اپنی دگرگوں قومی معیشت کے لیئے بھی محنت کریں جو ایک عرصے سے سنجیدگی اور توجہ کی طالب ہے۔آمین
واپس کریں