دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل
No image اسرائیل نے صدر ٹرمپ کے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے فیصلے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے،دوسری جانب چین نے کھلی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ”چین کے ایران کیساتھ معاہدے ہیں،ہم ایسا اعلان مسترد کرتے ہیں ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں“
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ -13 12 اپریل کو اعلان کیا ہے اس اعلان کی مخالفت کرنے والے اہم امریکی اتحادی ممالک میں جرمنی،فرانس،اٹلی،برطانیہ،آسٹریلیا،جاپان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح طور پر کہا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے گا اور وسیع تر تنازع میں نہیں پھنسیں گے۔
جرمنی کے دفاع وزیر بورس پیسٹوریئس نے کہا ہے ”یہ ہماری جنگ نہیں ہے، ہم نے اسے شروع نہیں کیا“(جرمنی نے اضافی جنگی جہاز بھیجنے سے بھی انکار کر دیا)
فرانس کی خارجہ وزارت نے کہا کہ فرانس کا نیول ڈیپلائمنٹ تبدیل نہیں ہوگا اور آبنائے ہرمز میں کوئی فوجی کردار ادا نہیں کرے گا۔
اٹلی کے خارجہ وزیر انتونیو تاجانی نے آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ بھیجنے کی تجاویز مسترد کر دیں، اسپین نے امریکہ ایران فوجی شمولیت سے انکار کر دیا، آسٹریلیا کی حکومت نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں کوئی جہاز نہیں بھیجے گی،جاپان اور جنوبی کوریا دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں فوجی مداخلت یا جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا جبکہ یورپی یونین نے مجموعی طور پر امریکی فوجی کارروائی سے دور رہنے کا موقف دیا ہے۔
دیگرکئی یورپی اور نیٹو ممالک بشمول ایسٹونیا اور یونان وغیرہ نے بھی صدر ٹرمپ کی“نیول کوالیشن”کی کال کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ”یہ ہماری جنگ نہیں ہے“
واضع رہے کہ صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ“زیادہ تر نیٹو اتحادی“مدد دینے کو تیار نہیں، اور امریکہ اکیلے ہی یہ کام کرے گا۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے اعلان کے حوالے سے عالمی صورتحال نہ صرف تیزی سے بدل رہی ہے بلکہ نئی صف بندیاں بھی ہو رہی ہیں اور ان نئی عالمی صف بندیوں میں امریکہ اکیلا ہوتا ہوا واضع طور پر نظر آ رہا ہے۔
واپس کریں