
چین نے ایران کے خلاف اپریشن بند کرنے کا تقاضہ کیا ہے اور روس کے سابق صدر نے متنبہ کیا ہے کہ ٹرمپ نے ایران میں حکومت بدلنے کی کوششیں ترک نہ کیں تواس کے سنگین نتائج برامد ہو سکتے ہیں۔ دریں اثناء ایران نے مختلف ممالک بشمول خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ طور پر ایران کے اہم مقامات پر مسلسل بمباری اور میزائل حملے کیئے جارہے ہیں۔ اسرائیل نے گذشتہ روز ایران کے صدارتی دفتر اور سپریم لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر ایک سو طیاروں سے خوفناک حملہ کیا اور اڑھائی سو بم گرائے۔ جبکہ ایرانی حکام کے مطابق ایران نے سب سے بڑے امریکی راڈار پر حملہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں اب تک 787 شہادتیں ہوچکی ہیں جن میں ایرانی وزیر دفاع بھی شامل ہیں۔ یہ امر واقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو دنیا کے سب سے بڑے لیڈر کے طور پر منوانے کے لیئے اسرائیل کی خم ٹھونک کر مشرقِ وسطیٰ سمیت پوری دنیا کو آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے اور ایران اپنی لیڈرشپ کی شہادتوں کے بعد غم و الم میں ڈوب کر امریکہ اور اسرائیل سے انتقام لینے کی ٹھان چکا ہے چنانچہ اس دوطرفہ جنگ و جدل نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس صورت حال میں انسانی تباہی بعید از قیاس نہیں۔ اگر آج تیسری عالمی جنگ شروع ہوگئی، جس کا عندیہ روس کی جانب سے بھی دیا جا چکا ہے تو وہ لامحالہ ایٹمی جنگ ہوگی۔ اس صورت میں پورے کرہ ارض پر کسی بھی ذی روح کے زندہ بچنے کا کوئی امکان موجود نہیں۔ ریاض اور دبئی میں امریکی سفارت خانے اور قونصلیٹ پر ایرانی ڈرون حملوں کی اطلاعات نے خطے میں بے یقینی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے اور فضا میں پھیلی کشیدگی اس قدر شدید ہے کہ معمولی چنگاری بھی ہمہ گیر آگ کا روپ دھار سکتی ہے۔ ایسے میں جذباتی بیانات، دھمکی آمیز لہجہ اور عسکری نقل و حرکت عالمی امن کے لیے زہرِ قاتل بن سکتی ہے۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت بعض ممالک کے ساتھ سرحدی پابندیوں اور سفری قدغنوں کی اطلاعات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ واشنگٹن مسئلے کے سیاسی حل کے بجائے دباؤ اور محاذ آرائی کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اگر عراق کے کرد علاقوں کے ذریعے ایران میں عدم استحکام یا خانہ جنگی کی کسی مبینہ منصوبہ بندی کی بازگشت درست ہے تو یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ ماضی گواہ ہے کہ بیرونی مداخلتوں نے عراق، شام اور لیبیا کو کس انجام سے دوچار کیا۔
اسرائیل کی جانب سے ایران کے حساس مقامات، حتیٰ کہ صدارتی دفتر اور سپریم لیڈر شپ کمپاؤنڈ پر سو طیاروں سے حملے کھلی جارحیت کے زمرے میں آتے ہیں۔ کسی خودمختار ریاست کی اعلیٰ ترین قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانا عالمی قوانین اور سفارتی آداب کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف فوری جوابی کارروائی کے متقاضی ہوتے ہیں بلکہ وسیع تر جنگ کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے باہمی گٹھ جوڑ پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ اگر ان کی پالیسیاں خطے کو محاذ آرائی کی طرف دھکیل رہی ہیں تو عالمی برادری کو فوری کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ روس اور شمالی کوریا کی جانب سے ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کے اعلانات نے صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ عالمی طاقتوں کے ممکنہ بلاکس میں بٹ جانے سے کسی بھی علاقائی تصادم کا دائرہ کار لمحوں میں عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں چین، پاکستان اور ترکیہ کی محتاط سفارت کاری یقینناً اس منظرنامے میں اہمیت کی حامل ہے۔ اگر سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے ایران کے دعوے اور موساد ایجنٹس کی گرفتاری کی خبریں درست ہیں تو یہ صورتحال جنگ کے اس مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں پراکسی کارروائیاں کھلے تصادم میں بدل سکتی ہیں۔
مسلم ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو ہوا دینا بھی اسرائیل کا ایک پرانا ہتھکنڈا رہا ہے۔ اگر سعودی عرب اور قطر میں دھماکوں کی مبینہ منصوبہ بندی میں موساد کے ہاتھ ملوث ہیں تو اس کا مقصد واضح ہے کہ مسلم دنیا کو باہم دست و گریباں کر کے اسے منتشر کیا جائے۔ ایسے میں او آئی سی سمیت علاقائی فورمز کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ داخلی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی سلامتی کے تصور کو تقویت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کی ہے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا سینٹ میں خطاب اور وزیر اعظم شہباز شریف کا صدر ترکیہ رجب طیب اردگان سے رابطہ اسی سفارتی تسلسل کی کڑی ہے۔ ترکیہ خطے میں ایک مؤثر آواز رکھتا ہے اور اگر انقرہ، اسلام آباد اور دیگر ذمہ دار دارالحکومت مل کر مفاہمت کی راہ ہموار کریں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پیش پیش رہنا چاہیے۔
بے شک آج اقوام متحدہ کی فعالیت پر سوالات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ اگر عالمی ادارہ بڑی طاقتوں کے مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دے تو اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ٹرمپ، یاہو گٹھ جوڑ سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے لپکتے شعلے اس امر کے متقاضی ہیں کہ سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلا کر غیر جانبدارانہ تحقیقات اور جنگ بندی کی ٹھوس ضمانتوں کی طرف بڑھا جائے۔ عالمی قوانین کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ جنگ کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہری بھگتتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی یمن، شام اور غزہ جیسے بحرانوں سے لہولہان ہے۔ آج کی صورت حال میں توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گا، جس کا اثر ترقی پذیر ممالک، بالخصوص پاکستان جیسے معاشی دباؤ کا شکار ملک پر براہِ راست پڑے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ترسیلات اور تجارت میں تعطل اور سکیورٹی خدشات ہماری داخلی معیشت کو مزید کمزور کر سکتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق فوری طور پر عسکری آپریشن بند کریں، اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں اور بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین براہِ راست یا ثالثی کے ذریعے مکالمہ ناگزیر ہے۔ روس، چین اور یورپی یونین کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ دنیا ایک اور عالمی جنگ کے دہانے سے واپس لوٹ سکے۔
پاکستان کو بہر صورت اپنی خودمختاری، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمی امن کے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے تدبر، برداشت اور سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔ اگر عالمی قیادتوں نے بروقت دانش مندی کا مظاہرہ نہ کیا تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔ آج دنیا کو مزید خونریزی سے بچانے اور یو این چارٹر کے مطابق ایک دوسرے کی خود مختاری کی پاسداری کرتے ہوئے امن، مفاہمت اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔
واپس کریں