مشرقِ وسطیٰ میں انتشار، مسلم ممالک کا اتحاد وقت کا اہم تقاضا۔

امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کی طرف سے ایران پر حملے جاری ہیں جن میں شہید ہونے والوں کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پورے ملک میں ایک لاکھ کارکن امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ 40 لاکھ رضاکاروں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ امریکی و صہیونی دہشت گردی کے نتیجے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقر زادہ بھی شہید ہو گئی ہیں۔ وہ امریکی حملے میں شدید زخمی ہوئی تھیں جس کے بعد انھیں ہسپتال لے جایا گیا تاہم اب ان کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ دریں اثنا، سید علی خامنہ ای پر کیے گئے حملے کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ناجائز صہیونی ریاست نے حملے سے قبل تہران شہر کے تمام ٹریفک کیمرے ہیک کر لیے تھے تاکہ سید علی خامنہ ای اور دیگر اہم شخصیات کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
دوسری جانب، ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک مارے گئے امریکی فوجیوں کی تعداد 560 ہوگئی ہے۔ ایک بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکا اور برطانیہ کے 3 تیل بردار جہازوں پر بھی حملے کیے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا سے تعلق رکھنے والے تیل بردار جہاز پر حملہ کیا۔ جہاز پر دو ڈرونز سے حملہ کیا گیا جس سے ٹینکر کو آگ لگ گئی۔ اسی طرح، بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ مسقط کے قریب بھی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کے سربراہ جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایرانیوں کو غلام بنانے کا خواب قبروں میں جائے گا۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کے بیٹے دفاع وطن سے پیچھے نہیں ہٹے، طاقت سے جواب دیتے رہیں گے۔ پہلے سے تیار اور مشق شدہ منصوبے کے تحت حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ ڈرون، فضائی دفاع اور نیوی بھرپور کوآرڈی نیشن سے کام کررہی ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم خبر یہ بھی ہے کہ کویت میں امریکا کے تین جنگی طیارے گر کر تباہ ہو گئے، تاہم ان کے پائلٹ محفوظ رہے۔ ایران کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تباہ ہونے والے ایف 15 طیاروں میں سے ایک کو انھوں نے گرایا۔ علاوہ ازیں، روسی میڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کویت میں امریکی سفارت خانے کو ایران کے میزائل نے نشانہ بنایا ہے جس کے بعد عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ ویڈیو میں شدید دھواں اور آسمان پر کالے بادل صاف واضح ہیں۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ امریکی سفارت خانے نے بھی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کویت میں میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔ ایڈوائزری میں امریکی شہریوں سے سفارت خانے نہ آنے اور اپنے رہائشی مقامات پر کھڑکیوں سے دور رہنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔
ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، تل ابیب، بیت المقدس اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی میزائل حملے کیے گئے جس کے بعد سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو بنکروں میں منتقل کیا گیا۔ اسی طرح، منامہ، دوحہ اور ابوظہبی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ علاوہ ازیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی امریکی اڈوں پر ایران کی طرف سے حملے کیے گئے۔ ایران نے ابوظہبی پر ڈرون حملوں میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب عمارت کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ابوظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب عمارت میں اسرائیلیوں کی رہائش تھی۔ اسی طرح، قبرص میں حزب اللہ نے برطانوی ائیر بیس پر ڈرون حملہ کر دیا۔
ادھر، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ ان کا بیان امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد علی لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکا سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی۔ علی لاریجانی نے امریکی صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے خیالی تصورات کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو انتشار میں دھکیل دیا ہے اور اب مزید امریکی ہلاکتوں سے خوفزدہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے ’امریکا فرسٹ‘ کے نعرے کو ’اسرائیل فرسٹ‘ میں بدل دیا اور امریکی فوجیوں کو اسرائیل کے مفادات کی خاطر قربان کیا۔ اس کی قیمت امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو چکانا پڑے گی جبکہ ایران اپنے دفاع کا حق برقرار رکھے گا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جو افسوس ناک صورتحال پیدا ہوئی ہے یہ انتشار پسند اور تخریب کار صہیونیوں کے سوا کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔ گریٹر اسرائیل بنانے کے لیے وہ پہلے ہی عرب ممالک کے علاوہ ترکیہ اور شام جیسے ملکوں کے بھی مختلف حصوں پر قبضے کے لیے نقشے جاری کر چکے تھے اور نا جائز صہیونی ریاست میں تعینات امریکی سفیر سمیت صہیونیوں کے کئی اہم حمایتی بھی اس بات پر زور دیتے آ رہے ہیں کہ گریٹر اسرائیل کی تعمیر صہیونیوں کا حق ہے۔ اس کام کے لیے انھیں امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے اسی لیے یہ ممالک صہیونیوں کو صرف سفارتی مدد ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ فلسطینیوں اور ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اسلحہ اور گولا بارود انھی کی طرف سے مہیا کیا جاتا ہے۔ غزہ میں غاصب صہیونیوں کی جانب سے جو انسانی المیہ پیدا کیا گیا وہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک کے مکمل تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا۔
ناجائز صہیونی ریاست نے امریکا کو ساتھ ملا کر ایران پر حملہ بھی اسی لیے کیا تاکہ خطے میں موجود واحد مضبوط ملک کو کمزور کر کے اپنے مذموم عزائم کو آسانی سے آگے بڑھایا جا سکے لیکن اس حملے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کے اندازے میں نہیں تھی۔ امریکا کو اس جنگ میں جتنا نقصان اب تک اٹھانا پڑا ہے اور جتنا مزید نقصان ہونے کے امکانات واضح ہو رہے ہیں وہ کسی بھی طرح ڈونلڈ ٹرمپ اور انھیں جنگ کے لیے اکسا کر میدان میں لانے والوں کے علم میں نہیں تھا۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہو رہے ہیں لیکن اب انھیں سبق سیکھ لینا چاہیے کہ امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست ان کے خیر خواہ ہرگز نہیں ہیں۔ ابھی بھی موقع ہے کہ مسلم ممالک مل کر جنگ کی اس آگے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایران کی حمایت میں ٹھوس کردار ادا کریں اور امریکا اور اس کے حواریوں پر پوری طرح واضح کر دیں کہ آئندہ کسی بھی ایک مسلم ملک کے خلاف کارروائی سب کے خلاف کارروائی سمجھی جائے گی جس کا مسکت جواب متحد اور یک جہت ہو کر دیا جائے گا!
واپس کریں