
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے میزائل حملوں اور ایرانی ردعمل کے بعد مشرق وسطیٰ کا خطہ خطرناک صورتحال سے دوچار ہے۔ خطے کے اہم ممالک بشمول متحدہ عرب امارات‘ قطر‘ کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے اس اندیشے کو مزید تقویت ملتی ہے۔ یہ دوسری بار ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر عین اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ امریکہ کیساتھ جوہری مذاکرات میں مصروف تھا۔اگرچہ امریکی صدر پچھلے کئی ہفتوں سے ایران پر حملوں کی دھمکیاں دے رہے تھے‘ امریکہ نے ایران کے گرد اپنی عسکری قوت کو بھی بہت بڑے پیمانے پر جمع کر لیا تھا‘ مگر امریکہ اور ایران میں جوہری معاملات پر مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری تھا ‘جس کے عمان میں ہونے والے پہلے دور کے بعد حالیہ دنوں فریقین کے سفارتی نمائندے جنیوا میں مذاکرات میں مصروف تھے۔ جنیوا میں ہونیوالے دو نوں مذاکراتی ادوار کا نتیجہ تسلی بخش قرار دیا گیا اور 26 فروری کو مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد فریقین کی جانب سے اپنے اپنے ملک کے دارالحکومتوں میں مشاورت کے بعد جلد ہی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا۔کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ اگلے 48گھنٹے میں یکطرفہ جارحیت پر منتج ہونیوالا ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ کا یہ حملہ جہاں مشرق وسطیٰ کے امن کیلئے دیرپا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے وہیں مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کے امکانات کو بھی تہس نہس کر دیا گیا ہے۔ سفارتکاری سے مسائل کے حل کی کوشش اقوام عالم کا ایک آزمودہ اور سب سے کارآمد ذریعہ سمجھا جاتا تھا‘ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں امریکہ کی جانب سے دوسری بار مذاکرات کو بیچ میں چھوڑ کر حملہ کر دینے کے عمل نے دنیا میں ایسی خوفناک مثال قائم کر دی ہے جو عالمی امن کیلئے نہایت خوفناک اثرات کی حامل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا عملی طور پر کسی نظم کے ماتحت نہیں‘ جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا دستور ہی فرمانِ امروزہے اورملکوں کی خودمختاری اور عالمی ضوابط وغیرہ ماضی کی باتیں ہیں۔
یہ اقوام متحدہ کے غیر فعال ہونے کی بھی بڑی دلیل ہے ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس عالمی ادارے کو اس مقصد سے قائم کیا گیا کہ دنیا کو نظم و ضبط اور قاعدہ قانون کے ساتھ چلانے کا نظام وضع کیا جائے تا کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی بربادیوں سے نکلنے والی دنیا کو تحفظ کے احساس کیساتھ نئی شروعات کا موقع مل سکے ۔ مگر اب یوں لگتا ہے کہ بااثر اقوام عالم کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں اور اقوام عالم کا بااثر ادارہ عملاًاظہار مذمت کیلئے رہ گیا ہے‘ اور یہ عالمی امن اور انسانی آبادیوں کیلئے نہایت خطرے کی بات ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکی حملوں نے ایک تیر سے کئی شکار کیے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حملے کے جواب میں یہ واضح تھا کہ ایران خطے کے ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کرے گا۔اب خطے کے چار ‘ پانچ ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں ایران اور خلیجی عرب ممالک میں اعتماد کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
یہ ممالک ایرانی میزائل حملوں کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔مارچ 2023ء میں چین کی کوششوں سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بحال ہوئے تھے جسے مشرق وسطیٰ کے خطے میں بڑی خوش آئند پیش رفت قرار دیاگیا‘ مگر حالیہ صورتحال کے خطے کے مسلم ممالک کے تعلقات پر کیا اثرات ہوں گے اس کا اندازہ جلد ہو جائے گا۔ خلیج کا علاقہ دنیا میں توانائی کی پیداوار کے علاوہ خلیجی ممالک کی ترقی یافتہ معیشتوں اور پُر امن ریاستوں کی وجہ سے بھی عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔مگر اسرائیلی اور امریکی جارحیت نے علاقائی سلامتی کیلئے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔امریکہ‘ اسرائیل‘ ایران جنگ طویل ہوئی تو علاقائی سلامتی اور معیشت پر اس کے اثرات دیر پا اور غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔
واپس کریں