دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہنود و یہود سازش اور پاک ایران برادرانہ تعلقات
No image امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایک مرتبہ پھر ایران پر حملہ کیا گیا ہے۔جون 2025ء میں بھی حملہ کیا گیا تھا۔ ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے خطے کی سیاست میں ایک نیا رخ متعین کر دیا ہے۔ اس نازک گھڑی میں ایران کی جانب سے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرنا محض ایک سفارتی رسمی کارروائی نہیں، بلکہ دونوں اسلامی ممالک کے درمیان گہرے اور تزویراتی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان نے نہ صرف مشکل وقت میں اپنے ہمسائے کا ساتھ دیا بلکہ عالمی فورمز پر بھی ایک جرات مندانہ موقف اپنایا، جس نے تہران اور اسلام آباد کے مابین برادرانہ اعتماد کو مزید تقویت بخشی۔ یہ پہلو انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ جب اسرائیل اور بھارت کو روایتی سفارت کاری اور براہ راست مداخلت کے ذریعے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے میں ناکامی ہوئی، تو انہوں نے ایک خطرناک اور پیچیدہ پراکسی گیم کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد افغانستان کی سرزمین اور وہاں موجود طالبان حکومت کے مخصوص عناصر کو استعمال کر کے پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں بدامنی پھیلانا ہے۔ ایران پر اسرائیلی حملے کا فیصلہ محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ہفتوں پہلے سے طے شدہ ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ تھا۔ اس گھناؤنے کھیل کا اصل مقصد پاکستان اور ایران کے مابین کسی بھی ممکنہ دفاعی یا سفارتی تعاون کے راستے میں دیوار کھڑی کرنا تھا۔ اسرائیل اور بھارت نے سٹریٹجک گٹھ جوڑ کے تحت افغان طالبان حکومت کو ایک رینٹل کنٹری یعنی کرائے کے رجیم کے طور پر استعمال کرنے کی ٹھانی، تاکہ پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر دہشت گردی اور دراندازی کے ایسے لامتناہی سلسلے میں الجھا دیا جائے کہ وہ تہران کی جانب مدد کا ہاتھ نہ بڑھا سکے۔ یہ منصوبہ دراصل ایک دوہری ضرب ہے جس کا مقصد ایک طرف ایران کو تنہا کرنا اور دوسری طرف پاکستان کی عسکری قوت کو داخلی محاذ پر مصروف کر کے اس کی علاقائی اہمیت کو کمزور کرنا ہے۔پاکستان مخالف قوتوں پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ الحمدللہ پاکستان کے غیور عوام اور اس کی مایہ ناز مسلح افواج ایسے تمام گھناؤنے منصوبوں کو خاک میں ملانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ دشمن چاہے کتنی ہی پراکسیز استعمال کر لے، وہ پاکستانی قوم کے عزم اور دفاعی حصار میں دراڑ نہیں ڈال سکتا۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں