پاملک میں سالانہ دو سو ارب روپے سے زائد کی بجلی چوری ہو رہی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ ملک میں سالانہ دو سو ارب روپے سے زائد کی بجلی چوری ہو رہی ہے اور یہ کہ بجٹ میں ڈائریکٹ ٹیکسز میں کمی کرنا ہو گی‘ ان مسائل کا اعتراف ہے ملک کا صنعتی طبقہ ایک عرصے سے جن سے نبرد آزما ہے۔ درحقیقت یہی وہ مسائل ہیں جو ہماری معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ مہنگی توانائی اور حد سے زیادہ ٹیکسوں نے ملکی صنعتوں کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا کر رکھ دیا ہے اور معاشی استحکام کا لازمی تقاضا ہے کہ حکومت اب مسائل کی تشخیص سے آگے بڑھ کر انکے پائیدار حل کی طرف قدم بڑھائے۔ بجلی چوری کا مسئلہ محض فنی ضیاع یا چند افراد کی بددیانتی تک محدود نہیں بلکہ اب ایک منظم صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دو سو ارب روپے کی بجلی چوری کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ اس چوری کا بوجھ سرچارجز اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں بل ادا کرنے والے گھریلو‘ کمرشل اور صنعتی صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اس مہنگی بجلی نے پاکستان کی صنعتی نمو کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان کیلئے بجلی کے بھاری بلوں کیساتھ پیداواری لاگت کو کم رکھنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
صنعتوں کو مسابقتی ماحول فراہم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کے جن کو قابو کیا جائے‘ جس کا حجم 2400 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ۔ یہ گردشی قرضہ بجلی چوری اور لائن لاسز کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ نیپرا کی حالیہ کارکردگی رپورٹ (2024-25ء) کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ایک سال میں قومی خزانے کو 397ارب کا نقصان پہنچایا۔ بجلی کے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن نقصانات سے قومی خزانے کو 265ارب روپے خسارہ ہوا۔ جب تک بجلی چوری نہیں روکی جاتی‘لائن لاسز کنٹرول میں نہیں آتے‘تب تک بجلی کی قیمتوں کو کیسے متعدل بنایا جا سکتا ہے؟ دریں حالات حکومتی خسارے کو ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر ہی پورا کیا جا سکتا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پہلے سے دبے ہوئے ٹیکس گزاروں پر مزید بوجھ ڈالنا یا ڈائریکٹ ٹیکسز کی شرح کو بلند رکھنا معیشت کیلئے سودمند ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا ڈھانچہ انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ صنعتی شعبہ اپنی آمدن کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی نذر کر دیتا ہے جبکہ کئی بااثر طبقات اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پائیدار معاشی استحکام کیلئے اب دعووں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اگر حکومت ڈائریکٹ ٹیکسوں کو واقعتاً کم کرنا چاہتی ہے تو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہو گا‘ ان طبقات پر ہاتھ ڈالنا ہو گا جو اَب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ صنعتی پہیے کو رواں رکھنا محض ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ مالیاتی خودمختاری کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ صنعتوں کو سہولت فراہم کیے بغیر برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں‘ اور برآمدات میں اضافے کے بغیر پاکستان نہ تو قرضوں کی دلدل سے باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی خودمختار معاشی فیصلے کر سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن ممالک نے بھی ترقی کی ہے‘ انہوں نے اپنی صنعتوں کو سستی توانائی اور آسان ٹیکس نظام فراہم کیا ہے۔ پاکستان میں صورتحال اسکے برعکس ہے۔ یہاں صنعتکار کو بجلی نظام کی خامیوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے اور حکومت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بھی۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ قرضوں سے نجات کوئی جادوئی عمل نہیں‘ درحقیقت یہ ان کڑوے فیصلوں کا نتیجہ ہوتا ہے جو ملک وقوم کی بہتری کیلئے کیے جاتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی توانائیاں صنعتوں کی بحالی‘ بجلی کے نظام کی درستی اور منصفانہ ٹیکس نظام کی تشکیل پر صرف کرے‘ کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو معاشی طور پر خوشحال اور خود مختار پاکستان کا خواب پورا کر سکتا ہے۔بشکریہ دنیا نیوز
واپس کریں