کیا پاکستان میں عدلیہ اور وکلا انصاف کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟عزیز اُللہ خان ایڈووکیٹ

پاکستان میں عدلیہ کو ریاست کا وہ ستون قرار دیا جاتا ہے جس پر انصاف، قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ آئین پاکستان عدلیہ کو آزادی، غیر جانبداری اور انصاف کی فراہمی کا ضامن بناتا ہے، جبکہ وکلا کو اس نظام کی روح سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ مظلوم اور ریاست کے درمیان قانونی پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان میں عدلیہ اور وکلا انصاف کے حصول کے لیے اپنا مطلوبہ کردار ادا کر رہے ہیں، یا نظام کئی داخلی کمزوریوں کا شکار ہو چکا ہے؟
پاکستانی عدالتی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ انصاف کی تاخیر ہے، جو عملاً انصاف کی نفی بن چکی ہے۔ لاکھوں مقدمات برسوں بلکہ دہائیوں تک زیرِ التوا رہتے ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے عدالت جانا اکثر انصاف کے حصول کے بجائے ایک طویل، مہنگا اور ذہنی اذیت سے بھرپور سفر ثابت ہوتا ہے۔ عدالتوں میں تاریخ پر تاریخ کا کلچر اس حد تک مضبوط ہو چکا ہے کہ مقدمہ خود ایک سزا بن جاتا ہے۔ اس تاخیر کی ذمہ داری صرف ججوں پر نہیں بلکہ وکلا، تفتیشی نظام اور ریاستی اداروں سب پر عائد ہوتی ہے۔
عدلیہ پر سب سے بڑی تنقید اس کی غیر مستقل مزاجی اور بعض اوقات سیاسی معاملات میں مبینہ مداخلت ہے۔ مختلف ادوار میں عدالتی فیصلوں نے یہ تاثر پیدا کیا کہ انصاف کا معیار ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔ طاقتور افراد کے مقدمات تیزی سے نمٹ جاتے ہیں جبکہ عام شہری برسوں انصاف کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ یہی تضاد عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ جب عدالتیں خود تنازعات کا مرکز بن جائیں تو انصاف کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
دوسری جانب وکلا برادری، جو انصاف کی جدوجہد کا اہم ستون سمجھی جاتی ہے، خود بھی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ وکلا کی جانب سے غیر ضروری التوا لینا، ہڑتالوں کا کلچر، عدالتوں میں بد نظمی اور بعض مواقع پر ججوں یا اداروں سے تصادم نے قانونی پیشے کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔ وکلا کی ہڑتالوں کا سب سے زیادہ نقصان عام سائل کو ہوتا ہے، جس کا مقدمہ مزید تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وکلا کی ذمہ داری صرف اپنے پیشہ ورانہ مفادات کا تحفظ ہے یا انصاف کی فراہمی بھی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے؟
ایک اور اہم مسئلہ قانونی انصاف کی مہنگائی ہے۔ پاکستان میں اچھا وکیل کرنا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجتاً انصاف امیر اور غریب کے درمیان تقسیم ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ قانونی امداد کے سرکاری نظام کمزور ہیں اور عوامی سطح پر مفت قانونی سہولتیں ناکافی ہیں۔ اس صورتحال میں انصاف ایک بنیادی حق کے بجائے ایک مہنگی سہولت بن جاتا ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ پاکستانی عدلیہ نے کئی مواقع پر آئینی بالادستی، بنیادی حقوق اور آزادی اظہار کے تحفظ میں اہم فیصلے بھی دیے ہیں۔ بعض ججوں اور وکلا نے آمریتوں کے خلاف جدوجہد کی، انسانی حقوق کے مقدمات لڑے اور قانون کی حکمرانی کے لیے قربانیاں بھی دیں۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ نظام میں مسائل کے باوجود ایسے افراد موجود ہیں جو انصاف کو اپنا مشن سمجھتے ہیں۔
اصل مسئلہ افراد نہیں بلکہ نظامی کمزوریاں ہیں۔ ججوں کی کمی، جدید ٹیکنالوجی کا فقدان، ناقص تفتیشی نظام، پولیس کی کمزوریاں، اور قانونی اصلاحات کا نہ ہونا عدالتی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ جب تک مقدمات کے اندراج سے لے کر فیصلے تک پورا نظام اصلاحات سے نہیں گزرے گا، صرف عدلیہ یا وکلا کو ذمہ دار ٹھہرانا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوگا۔
نتیجتاً کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں عدلیہ اور وکلا انصاف کے لیے کردار تو ادا کر رہے ہیں، مگر یہ کردار اپنی مکمل تاثیر کھو چکا ہے۔ انصاف کی رفتار سست، رسائی محدود اور اعتماد کمزور ہو چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتی اصلاحات، وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت، احتساب کا مضبوط نظام اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ عدالتیں واقعی مظلوم کی آخری امید بن سکیں، نہ کہ ایک طویل آزمائش۔
جب تک انصاف عام آدمی کے دروازے تک تیز، سستا اور غیر جانبدار انداز میں نہیں پہنچتا، تب تک عدلیہ اور وکلا کے کردار پر سوال اٹھتے رہیں گے — اور یہی سوال کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
واپس کریں