دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ماہ صیام میں بھی اسرائیلی بربریت اور امریکی آشیرباد
No image یہ پوری مسلم امہ کے لیئے لمحہ فکریہ ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدہ کے باوجود غزہ میں بربریت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ماہ صیام کے بابرکت ایام میں بھی غزہ پر آگ کے گولے برسا رہا ہے۔ اس نے اپنے جنونی اقدامات سے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ افسوس کہ اکتوبر 2025ء کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی افواج کی کارروائیاں نہ رک سکیں اور نہ ہی شہری آبادی کو کوئی حقیقی ریلیف مل سکا۔ جنگ بندی کے بعد بھی سیکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر جاں بحق افراد کی تعداد ہولناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ ان اعداد و شمار کا ہر لفظ ایک خاندان کی بربادی، ایک ماں کی آہ اور ایک بچے کے چھن جانے والے مستقبل کی داستان ہے۔اسرائیلی حکومت کی پالیسی واضح طور پر عسکری برتری کے ذریعے سیاسی اہداف کے حصول پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ شہری علاقوں پر بمباری، خوراک اور ادویات کی ترسیل میں رکاوٹیں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی بین الاقوامی انسانی قوانین کی روح کے منافی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عالمی طاقتیں، خصوصاً امریکہ، کھل کر اسرائیل کی پشت پناہی کرتا نظر آتا ہے۔ گذشتہ روز کے امریکی ری پبلکن سینیٹر لینڈی گراہم اور اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی کے بیانات نے مسلم دنیا کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے عزائم واضح کر دیئے ہیں جن میں اسرائیلی اقدامات کو جائز قرار دے کر مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقے پر اسرائیل کے قبضے کو نعوذ باللہ خدا کا ودیعت کردہ حق گردانا گیا ہے۔ اس تناظر میں مسلم دنیا کی قیادتوں کا طرزِ عمل بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ محض بیانات، مذمتی قراردادیں اور سفارتی احتجاج۔ مگر کیا یہ رسمی اقدامات فلسطینی عوام کے زخموں کا مداوا کر سکتے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک اجتماعی حکمت عملی اختیار کریں، اقتصادی و سفارتی دباؤ کے مؤثر ذرائع استعمال کریں اور عالمی فورمز پر منظم آواز بلند کریں۔ محض رسمی مذمتیں نہ تو بمباری روک سکتی ہیں اور نہ ہی بے گھر خاندانوں کو تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔فلسطین کا مسئلہ صرف ایک خطے کا تنازعہ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر آج بھی عالمی برادری نے مؤثر کردار ادا نہ کیا تو خطے میں عدم استحکام کی آگ مزید پھیلے گی۔ امن کا قیام طاقت کے اندھے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف، خود ارادیت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا طاقت کے قانون کو تسلیم کرے گی یا قانون کی طاقت کو؟ بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں