دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکا کی اسرائیل کو مزید علاقوں پر قبضے کی شہ
No image امریکی ری پبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی بچوں کے قتلِ عام کی حمایت کر تے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے تو وہ بھی یہی کرتے۔ ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ میں جب ہم نے جرمنوں کو بھوکا مارا تو کیا ہم نے ایک لمحے کے لیے بھی سوچا تھا؟ ہم نے ہر شہر پر بم برسائے اور انھیں تباہ و برباد کر دیا تھا۔ اس بیان سے ایک طرف لنزے گراہم کی یہ سفاکانہ سوچ سامنے آئی ہے تو دوسری جانب اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لے تو انھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے اور پورے خطے پر قبضہ ان کا حق ہے۔ اگر اسرائیل دریائے نیل سے نہرِ فرات تک کے علاقوں پر تسلط قائم کر لے تو یہ بھی درست ہوگا۔ یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ امریکا میں صدر ہو یا کوئی اور عہدیدار، یہ سب صہیونی دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، یہ ان کے ہم نوا اور حامی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں 1948ء سے لے کر اب تک جتنی خرابی پیدا ہوئی ہے اس میں یہ پوری طرح شریک رہے ہیں، لہٰذا ان سے یہ توقع رکھنا کہ یہ کوئی بہتری لا سکتے ہیں یا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں محض خام خیالی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے تو یہ خوش فہمی ہے۔ پون صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات سے حل نہیں ہوسکتا۔ حماس ہر طرح کا تعاون کر چکی ہے اور تمام شرائط تسلیم بھی کر چکی ہے لیکن اس کے باوجود نہ مستقل جنگ بندی ہو سکی اور انسانی امداد کے لیے نہ راستے کھولے گئے۔ اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے جس کا وجود ناجائز بنیادوں پر قائم ہے۔ اب یہ کہنا کہ وہ ریاست دوسرے ممالک پر قبضہ کر سکتی ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے مسلم ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کب تک خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟ انھیں آج نہیں تو کل اٹھنا پڑے گا اور جنگ لڑ کر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے تسلط کو قبول نہیں کرتے۔ یہ جنگ آج لڑی جائے یا کل، بالآخر لڑنی ہی پڑے گی کیونکہ اس مسئلے کا اور کوئی حل موجود نہیں۔
واپس کریں