بھارت کی پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی

ویانا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج دنیا کو جغرافیائی کشیدگی اور موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی جاری ہے۔ پاکستان کا ہمسایہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، حالانکہ یہ نظام پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگیوں اور روزگار سے وابستہ ہے۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ اس کا کاربن اخراج نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان کو ماحولیاتی نقصانات سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا، وہ مؤثر انداز میں ادا نہیں کیا جا رہا۔دوسری جانب بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اس پر عمل درآمد معطل کیا ہوا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا اور اسے کرانے میں عالمی بینک نے اہم کردار ادا کیا تھا، جو اس پر عمل درآمد کا ضامن بھی ہے۔ایسے تنازعات عموماً عالمی عدالت انصاف جیسے عالمی فورمز پر لے جائے جاتے ہیں، مگر جب فیصلے بھارت کے حق میں نہیں آتے تو انہیں تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ ادھر مسئلہ کشمیر بھی طویل عرصے سے حل طلب ہے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ مؤثر کردار ادا کرتی نظر نہیں آتی۔ بھارت عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے پر بھی آمادہ نہیں دکھائی دیتا۔ اسی طرح ورلڈ بینک، جو سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے، وہ بھی فعال کردار ادا کرتا نظر نہیں آ رہا۔ایسی صورتِ حال میں پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتا۔ پانی پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ اگر سندھ طاس معاہدہ منسوخ کر دیا جاتا ہے تو کیا بھارت پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی پہلے کی طرح بہنے دے گا؟ بادی النظر میں خدشہ یہی ہے کہ وہ ان دریاؤں پر بھی اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ بھارت جس پانی کو روکنے کی بات کر رہا ہے، وہ پاکستان کی معیشت، زراعت اور زندگی کا دارومدار انہی دریاؤں پر ہے۔ہر خودمختار ملک کی طرح پاکستان بھی اپنی بقا کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس نازک صورتِ حال سے قبل عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اپنا مؤثر کردار ادا کرے تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے اور پانی جیسے بنیادی مسئلے کو تنازعے کا سبب نہ بننے دیا جائے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں