
ادارۂ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر صحت کی سہولیات میں 7 فیصد اور تعلیم کے اخراجات میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی مد میں مہنگائی کی شرح 7.29 فیصد تک جا پہنچی، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کھانے پینے کی اشیاء 7.53 فیصد مہنگی ہوئیں۔ جلد خراب ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں 19.71 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح کپڑے اور جوتے 6 فیصد سے زائد مہنگے ہوئے ۔صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی بغیر کسی قیمت کے ہر فلاحی جمہوری ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پاکستان چونکہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے، اس لیے ریاست پر یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، مگر ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ نہ صرف عوام کو صحت اور تعلیم کی مفت سہولیات میسر نہیں بلکہ یہ سہولتیں روز بروز مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔دیگر ضروریاتِ زندگی پر نظر ڈالی جائے تو مہنگائی کا ایک طوفان اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر یہ دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ معیشت کی مضبوطی اور ’’ٹیک آف‘‘ کی بات ضرور کی جاتی ہے، لیکن کہیں اس کا عکس نظر آتا ہے تو وہ صرف اشرافیہ کی بڑھتی ہوئی مراعات میں دکھائی دیتا ہے۔وزراء، بیوروکریٹس اور پارلیمنٹیرینز کی مراعات میں کئی سو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ کیا گیا اور عام آدمی آج بھی ریلیف کو ترس رہا ہے۔ مہنگائی کا براہِ راست تعلق بجلی، پٹرولیم اور گیس کی قیمتوں سے ہے۔ بجلی کی قیمت میں تو کبھی کمی دیکھنے میں نہیں آتی، جبکہ پٹرولیم اور گیس کی قیمتوں میں کبھی کمی اور کبھی اضافہ کیا جاتا ہے۔ مگر جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی دوچند ہو جاتی ہے اور جب قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو اس کے مطابق مہنگائی کم نہیں ہوتی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مافیاز حکومتی کنٹرول سے باہر ہیں۔موجودہ حکمران جماعتیں کسی نہ کسی صورت گزشتہ تین سے چار برسوں سے اقتدار میں ہیں۔ اگر بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا چار سال پہلے سے موازنہ کیا جائے تو آج یہ قیمتیں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں۔ عوام کو حقیقی ریلیف اسی صورت مل سکتا ہے جب ملک سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کیا جائے، اشرافیہ کی بے جا مراعات میں کمی کی جائے اور حکومتی اخراجات پر مؤثر انداز میں قابو پایا جائے۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً ساڑھے 17 ارب ڈالر کی مراعات صرف اشرافیہ کو دی جاتی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے قائم کی گئی ایک کمیٹی کے مطابق اگر غیر ضروری اخراجات ختم کر دیے جائیں تو صرف ایک سال میں ایک ٹریلین روپے کی بچت ممکن ہے اور ایک ٹریلین کا مطلب ہے ایک ہزار ارب روپے۔خوشحالی اور استحکام کے حکومتی دعوؤں کے باوجود مہنگائی کا عفریت بے قابو ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں