دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بنام بیرسٹر سلطان مرحوم صدر آزاد کشمیر‎۔آصف اشرف
No image بیرسٹر سلطان تحریر آصف اشرف راولاکوٹ کشمیر وہ بھی چل دیا جو روایتی سیاست میں وقار کی آخری علامت تھا اس کی موت ایک ایسے وقت ہوئی جب اس کی ضرورت کچھ زیادہ ہو چکی تھی مگر مشیت ایزدی کے سامنے کس کی مجال کہ وہ معترض ہو اس کی موت کا یہی دن مقرر تھا اور اس روز وہ چل بسا اس کی زندگی عروج و زوال کی ایک تاریخ اپنے اندر رکھے ہے لیکن اس کو کہیں "اعزاز"حاصل ہیں جو میرے لیے بہت ہی قابل ذکر اور قابل تعریف ہیں خونی لکیر جبر کی علامت جس نے ہماری دھرتی ماں جموں کشمیر کو ٹکڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے ہم اس خونی لکیر کو مٹانے کا ارمان لیے موت کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں مگر وہ اس خواب کی عملی تعبیر پا گیا اس کو برف پوش گلمرگ کی سیر بھی کروائی گئی اور لال چوک سری نگر میں وہ عزت کی انتہا ء کو چھو کر آیا یاسین ملک نے اس کا بڑا تاریخی استقبال کروایا جذبات کی فضاء میں سلطان کو بھی اپنی بیرسٹر ی بھول گئی اور وہ کشمیری بن گئے خونی لکیر توڑ دو آر پار جوڑ دو کے یاسین ملک کے نعروں کے جواب میں سری نگر کے لال چوک کھڑے ہو کر وہ بھی پوری جرات سے للکارا، کہ خونی لکیر مٹ کر رہے گی اور آر پار جموں کشمیر ایک ہوگا اس کی ساری عزت کا یہ حاصل سب سے بڑا حاصل ہی نہیں اس کے نام بڑا "اعزاز"ہے مظفرآباد کے اقتدار سے سری نگر کی "محبت"تک پاکر وہ یقیناً خوش قسمت بن گیا ہاں میرے لیے اس کا ایک اور اعزاز وہ تاریخ اور تحریک کو "بیان بازی "سے نہیں "عمل "سے ثابت کر گیا اس نے کھبی نیلہ بٹ یاترا نہ کی ضرورت اور خوشامد پر ہر سیاست کار وہاں سیاح بن کر جانے کے بجائے مقروض بن کر جانا زندگی کے ساتھ جوڑے ہے مگر سلطان کا استدلال تھا کہ تحریک آزادی نیلہ بٹ سے نہیں سدھنوتی سے شروع ہوئی وہ نیلہ بٹ سے 23 اگست 1947کو پہلی گولی چلنے کا "کھلا منکر" تھا یہ کڑوا سچ مانتا تھا کہ حریت کی یہ آگ 1832کو سدھنوتی میں منگ سے زندہ کھالیں کھنچوا کر شروع کی گئی اور اگر اس تحریک سے اختلاف ہے تو پھر 1947کو اس کی ابتداء 22جون 1947کو مولوی اقبال خان کی میزبانی میں چودھری حمید للہ کی صدارت میں پوٹھی مکوالاں راولاکوٹ سے ہوئی جہاں ریاست کے نمائندہ زعماء نے مہاراجہ ہری سنگھ کی شخصی حکومت کے خلاف "بغاوت "کا اعلان کیا اس میزبانی پر مولوی اقبال خان کا گھر جلایا گیا کلاس نہم کے طالب علم بعد ازاں ڈائریکٹر تعلیم حکومت آزاد جموں کشمیر عبد الرحمن خان مختار خان سمیت کہیں جرم ضعیفی میں قیدی بنا کر شہر پونچھ لے جائے گئے تو بابائے خودمختاری سردار رشید حسرت مرحوم کے والد سردار الطاف کو شہید کر کے نعش تک واپس نہ دی گئی 22جون کے مولوی اقبال کے گھر ہوئے اعلان بغاوت کو قیام پاکستان کے دوسرے روز 15 اگست 47 کو خاکی ٹیکری راولاکوٹ سے جلا بخشی گئی یا پھر 17 اگست 47 کا مولوی یوسف اور مولوی عبد العزیز تھوراڑی کی معیت میں قرآن پاک درختوں پر لٹکا کر منگ کی حدود میں جسہ پیر کے مقام پر حلف اور پھر 29 اگست کو دوتھان میں ڈوگرہ سورماؤں کو پہلی بار علانیہ واصل جہنم کرنا ان کڑوے سچ کو مان کر اور جان کر وہ سدھنوتی سے تحریک شروع ہونے کا وکیل رہا اور نیلہ بٹ کی کہانی میں کھبی رنگ بھرنے کی ساجھے داری نہ کی اس کی زندگی کا بڑا خاصہ یہ بھی رہا کہ وہ اپنی بساط اور اپنے "علم"کی بنیاد پر عالمگیر سطح پر مسلہ کشمیر کا "ترجمان "بھی رہا جانے میرپور کی مٹی کا اثر تھا یا کسی دعا کا وہ مفاداتی اور روایتی سیاست کا اسیر اور دلدادہ ہونے کے باوجود ریاست جموں کشمیر کو ناقابل تقسیم وحدت قرار دیتا رہا وہ جی بی کو اپنی دھرتی ماں کا ناقابل تنسیخ حصہ مانتا رہا اور حسب توفیق اس جڑت کی خاطر حصہ دار بھی رہا کے ایچ خورشید اور جنرل ریٹائرڈ حیات خان کی طرح وہ ایسا حکمران تھا جو برادری ازم کی لعنت سے دور تھا تو اقرباء پروری اور مالی کرپشن بھی اس پر ثابت نہیں کی جاسکتی انسان تھا اور انسان خامیوں سے مبرا تو نہیں مگر سیاست کی پرخار وادی میں وہ بہرحال ایک بڑا نام تھا اس کے ہوتے اگر یقین نہ تھا لیکن ایک امید ضرور تھی اس کا یہی خاصا ہمارا "اثاثہ"تھا کہ وہ وساہل اپنی نسل اور اپنی زات کے لیے استعمال کرنے شامل نہ تھا چودھری نور حسین نے اس کو بیرسٹر بنا کر اپنی "برادری "کا لیڈر بنایا مگر سلطان اپنی دور اندیشی اور صلاحیت سے کشمیر کا "عالمی سیاست دان" بن گیا آصف زرداری سے عمران خان تک ہر ایک کو اپنی "اہمیت "منوا کر وہ واقعی خود کو politician جتلا بھی گیا منوا بھی گیا گزشتہ سال جب کشمیر میں حقوق تحریک کے دوران اس کو بے خبر رکھ کر ایک متنازعہ صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا کہ "آزادی "کی بات اور اظہارپر آزادی پسند کشمیری "معتوب " ٹھہرائے جائیں گے خلاف توقع بیرسٹر سلطان نے دباؤ اور "ناراض گی "کی پرواہ نہ کرتے وہ کالا قانون واپس لیکر باور کروایا کہ وہ بھی دل سے ہی سہی پر "آزادی پسند"ضرور ہیں اس کی صلاحیت کو خراج پیش کروں یا کمی کا رونا روں یا یہ ماتم کروں کہ ایک حقیقت پسند اور سچا انسان دنیا سے رخصت ہو چلا اور نہ سہی سچائی کے اظہار پر ہی سہی کاش اس کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام حاصل ہو اور دنیا کا سلطان جنت کا مہمان ہو بیرسٹر سلطان روتھ فاؤ کے بعد دوسرے غیر پاکستانی شہری اور پہلے کشمیری ٹھرے جن کو گن گیرج کے اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا سوال یہ ہے کہ الحاق پاکستان کے "دعوے دار"تو مرحوم سیاست کارابراہیم خان اور عبد القیوم خان تھے جبکہ بیرسٹر سلطان تو الحاق پاکستان کے برعکس "حق خودارادیت" کی بولی بولتے تھے پھر ان دو" الحاقی "بزرگوں کے برعکس بیرسٹر سلطان کے جسد خاکی کو یہ تاریخی پروٹوکول کیوں ملا کہیں تاریخ کا اور باب تو رقم ہونے تو نہیں جا رہا میرا وجدان تو یہی کہہ رہا ہے کہ گن گیراج کے پروٹوکول کے بعد "نیاء صدر ریاست"نئی تاریخ بنا چلے گا۔
واپس کریں