دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تقدس کے لبادے میں سسکتی انسانیت۔عفاف ظفر
No image جو لوگ جیفری ایسپٹن کے جرم کو صرف 'مغربی لادینیت' سے جوڑتے ہیں، وہ تاریخ کے اس تسلسل سے اندھے ہیں جہاں انسانی گوشت کی تجارت کو ہمیشہ کسی نہ کسی 'مقدس نظریے' یا 'جنگی ضرورت' کا تحفظ حاصل رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور سیکس ٹریفکنگ کا آغاز جیفری سے نہیں بلکہ ان ادوار سے ہوا جنہیں ہم 'عظیم فتوحات' کا نام دیتے ہیں۔ لونڈی و باندی کا ادارہ: قرونِ وسطیٰ میں 'مالِ غنیمت' کے نام پر مفتوحہ علاقوں کی عورتوں اور کمسن بچیوں کو منڈیوں میں فروخت کرنا ایک باقاعدہ معیشت تھی۔ بغداد سے لے کر قرطبہ تک اور روم سے لے کر بازنطینی سلطنت تک، 'سیکس ٹریفکنگ' کو مذہبی و ریاستی چھتری تلے قانونی حیثیت حاصل تھی۔
مؤرخین کے مطابق، صرف ٹرانس سہارن (Trans-Saharan) غلاموں کی تجارت میں لاکھوں خواتین کو صرف جنسی تسکین کے لیے اسمگل کیا گیا۔ کیونکہ یہاں 'نظریہ' مذہبی تھا جو مجرم کو تحفظ فراہم کر رہا تھا۔ ہیرا منڈی سے ہندو بچیوں کی تبدیلیِ مذہب تک سبھی جیفری ہی تو ہیں . ہاں پاکستان میں بیٹھ کر مغرب پر انگلی اٹھانا مضحکہ خیز ہے جب آپ کی اپنی ہی گلیوں میں ہر طرف "جیفری ایسپٹن" مختلف روپ دھار کر دندناتے پھر رہے ہیں۔
لاہور کی ہیرا منڈی ہو یا ملتان کے کوٹھے، یہ ادارے صدیوں تک 'ثقافت' اور 'فن' کے نام پر کمسن بچیوں کے استحصال کا مرکز ہی تو رہے ہیں ۔ وہاں آنے والے 'شرفاء' بھی تمہاری طرح دن کو اخلاقیات کا درس دیتے اور رات کی تاریکی میں اسی 'جدید جاہلیت' کا حصہ بنتے جس کا رونا آج جیفری جیفری کرکے یہاں رویا جا رہا ہے۔ اور ہاں سندھ میں ہندو لڑکیوں کا اغوا اور پھر 'تبدیلیِ مذہب' کے نام پر ان کا جنسی و سماجی استحصال بھی دراصل 'مقدس ٹریفکنگ' کی بدترین شکل ہی ہے۔ جب ایک گروہ کسی بچی کو اٹھاتا ہے، اسے کلمہ پڑھاتا ہے اور پھر اسے کسی ادھیڑ عمر شخص کے بستر کی زینت بنا دیتا ہے، تو کیا وہ جیفری ایسپٹن سے مختلف ہے؟ .فرق صرف اتنا ہے کہ جیفری کے پاس 'جزیرہ' تھا اور یہاں 'مقدس گدیوں' کا تحفظ ہے۔
دہائیوں سے پاکستان کے غریب گھرانوں کے چار سے سات سال کے بچے دبئی اور ابوظہبی کے صحراؤں میں اونٹوں سے باندھ کر دوڑائے جا تے چلے آ رہے ہیں ، تب یہ سماجی اخلاقیات کے ٹھیکیدار کہاں بھنگ پی کر سو رہے تھے؟ بچہ جتنا زیادہ دہشت زدہ ہو کر چیختا، اونٹ اتنا تیز دوڑتا اور 'شیخ' اتنا ہی لطف اندوز ہوتا۔ یہ 'اسپورٹس' نہیں، بلکہ معصومیت کا قتلِ عام تھا۔ ہزاروں بچے معذور ہوئے، سینکڑوں ہلاک ہوئے، مگر خاموشی رہی کیونکہ 'قاتل' مالی و مذہبی طور پر معتبر تھا۔
نفسیاتی طور پر انسان اس وقت سب سے بڑا منافق بن جاتا ہے جب وہ اپنے گروہ کے جرائم کو 'روایت' اور دوسرے کے جرائم کو 'غلاظت' کہتا ہے۔ اگر جیفری ایسپٹن کے ہاں بچیاں 'اسمگل' ہو کر آتی تھیں، تو جنگوں میں جیتی گئی 'لونڈیاں' کیا اپنی مرضی سے آتی تھیں؟.. اگر جیفری کا فعل 'حیوانیت' ہے، تو تاریخ کے ان سیاہ ابواب کو 'سنہری' کہنا پھر ذہنی پستی کی معراج ہی تو ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ تمہارا دکھ انسانیت کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تعصبات کی تسکین کے لیے ہے۔ تم جیفری کے جرم پر صرف اس لیے تڑپ رہے ہو کیونکہ وہ 'غیر' ہے، لیکن وہیں تم ان سبھی زنجیروں پر خاموش ہو جو تمہارے اپنے معاشرے میں معصوم کلائیوں کو جکڑے ہوئے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ، کمسن بچیوں کا نکاح، لونڈی سازی اور مذہب کے نام پر عورت کی تذلیل، یہ سب ایک ہی سکے کے مختلف رخ ہیں۔ جب تک تم 'مقدس مجرموں' اور 'تہذیبی درندوں' میں تفریق کرتے رہو گے، تمہاری ہر دلیل بے وزن اور تمہارا ہر آنسو مگرمچھ کا ہی رہے گا۔
کیونکہ اٹل حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کا لہو ہر جگہ ایک جیسا سرخ ہے، چاہے وہ جیفری کے جزیرے پر گرے یا کسی 'مقدس ٹھکانے' کے بند کمرے میں۔ یا تو ہر اس عمل کی مذمت کرو جو انسان کو 'شے' بناتا ہے، یا پھر خاموش رہو، کیونکہ تمہاری اخلاقیات صرف 'سلیکٹیو' ہے، اور سلیکٹیو اخلاقیات دراصل بدترین قسم کی بدکاری اور انسانیت کے خلاف چھپا ہوا جرم ہے۔
واپس کریں