دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بلوچستان میں دہشت گردی بھارت کے ملوث ہونے کے اشارے
No image پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی اس لہر کا سامنا کر رہا ہے جس کا ہدف بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ان دونوں صوبوں میں سکیورٹی فورسز، تنصیبات، مزدوروں اور عام شہریوں پر حملوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم اور مربوط حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کے تانے بانے سرحد پار جا ملتے ہیں۔ کئی بار ایسے ثبوت اور شواہد سامنے آ چکے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی ایک اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت کا شاخسانہ ہے۔ دشمن کی تمام تر مذموم کوششوں کے باوجود پاکستان کے تمام صوبے اور ریاستی ادارے بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ بلوچستان کو کمزور کرنے کی ہر کوشش درحقیقت پاکستان کے وفاق کو کمزور کرنے کی سازش ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جا سکتا۔بلوچستان میں بد امنی پھیلانے والوں کے خلاف سکیورٹی فورسز مسلسل بر سر پیکار ہیں اور اس سلسلے میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران دو روز میں فتنہ الہندوستان کے 145 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ان دہشت گردوں کے ساتھ افغان بھی شامل ہیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ دہشت گردی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، دہشت گرد ہزار حملے کرلیں ہم سے دھرتی کا ایک انچ بھی نہیں لے سکتے۔ انھوں نے بتایا کہ پورے سال کے دوران 1500 دہشت گرد مارے گئے۔ دہشت گرد ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں، یہ حق اور باطل کی جنگ ہے اور پاکستان یہ جنگ کبھی نہیں ہارے گا۔ دہشت گرد بندوق کی نوک پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی در پے قوتیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ادھر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کا منظم حملہ مکمل طور پر ناکام بنایا گیا، صوبے کے طول و عرض میں مکمل امن قائم ہو چکا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں کے باعث تمام دہشت گرد حملہ آوروں کو ٹھکانے لگا دیا گیا ہے ۔ سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حملوں میں دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا،،کلیئرنس آپریشن اب بھی جاری ہے، کالعدم بی ایل اے کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی ہے، یہ لوگ ہمیشہ شہری حدود کو نشانہ بناتے ہیں۔ دہشت گردوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے، پورے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں گے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وطن عزیز ترقی کے سفر پر گامزن ہو چکا ہے، دہشت گرد ہماری سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، گرفتاردہشت گردوں کے بیانات ہندوستان کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔علاوہ ازیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پر اٹھنے والی ہر انگلی کاٹ دی جائے گی، ہر آنکھ نکال لی جائے گی۔ دہشت گرد جان لیں خون کی ایک ایک بوند کا بدلہ لیا جائے گا۔ پوری قوم پر عزم ہے، دہشت گردی کو شکست دے کر دم لیں گے۔ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے دہشت گردکسی رعایت کے مستحق نہیں۔ دوسری جانب، یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے بعد بھارت نے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت میں مالی سال2026 ء کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس میں مجموعی دفاعی بجٹ 7850 ارب بھارتی روپے مقرر کیا گیا ہے جو پچھلے سال کے 6810 ہزار ارب روپے کے بجٹ سے تقریباً 15 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ مئی 2025 ء میں پاکستان کے ساتھ مختصر جنگ میں شکست کے بعد بھارت کی فوجی تیاری اور جدید ہتھیاروں کی خریداری پر زور دینے کی حکومتی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت کے دفاعی بجٹ میں اضافہ محض دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ یہ اضافہ جارحانہ سوچ اور توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت طویل عرصے سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت، علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی اور پراکسیز کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کے اعترافات اس پالیسی کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو معدنی وسائل، ساحلی پٹی اور تزویراتی محلِ وقوع کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گوادر بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبے بلوچستان کو خطے کی معاشی شہ رگ بنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتیں بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتی ہیں۔ دہشت گردی کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا، غیر مقامی مزدوروں اور انجینئرز پر حملے کرنا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلانا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ بلوچستان ایک غیر محفوظ خطہ ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری رک جائے اور پاکستان معاشی طور پر کمزور ہو۔دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے ریاست کی جانب سے کیے جانے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔ یہ آپریشنز کسی خاص قومیت یا صوبے کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف ہیں۔ بدقسمتی سے کچھ حلقے، خواہ نادانستہ یا دانستہ طور پر، ان کارروائیوں کی مخالفت کر کے دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ایسے عناصر کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ریاستی عمل داری کو چیلنج کرنے اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو مشکوک بنانے کا رویہ دراصل دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کے مترادف ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسّی ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ قربانیاں کسی ایک صوبے یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہیں۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر عالمی اداروں کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا ہوگا۔ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں، دفاعی بجٹ میں بے تحاشا اضافے اور پراکسی جنگ کے شواہد کو نظرانداز کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح افغانستان پر بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خود افغانستان کے مفاد میں بھی نہیں۔ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ کابل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔پاکستان کو درپیش چیلنجز سنگین ضرور ہیں مگر ناقابلِ حل نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ قومی یکجہتی کو تقویت دی جائے، ریاستی اداروں پر اعتماد کیا جائے اور دشمن کے پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیا جائے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا پاکستان کے دو اہم حصے ہیں، اور ان میں امن و استحکام کے بغیر ملک کی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ بھارتی جنونیت اور افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو روکے بغیر علاقائی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری محض بیانات پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرے تاکہ جنوبی ایشیا کو ایک اور تباہ کن تصادم سے بچایا جا سکے اور خطے کے عوام کو امن اور سلامتی کے ساتھ جینے کا موقع مل سکے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں