دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تضادات اور منافقت سے بھرا معاشرہ
No image شہر کے بیچوں بیچ آرمی ہاوس کے سامنے شراب(مری بروری رجسٹرڈ) کی فیکڑی چل رہی ہے لیکن شراب پینے والوں کو پکڑ لیا جاتا ہے،ملک خداداد، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معیشت سودی نظام پر چل رہی ہے لیکن کسی فردِ واحد سود خود پر پرچہ درج کر لیا جاتا ہے،ہیرا منڈی کے چکلے دن رات چل رہے ہیں لیکن انفرادی سطح پر چکلوں والا کام کرنے والوں کو پولیس پکڑ کر لے جاتی ہے،گھر گھر میں ٹی وی پر یا یوٹیوب پر کنجر پونہ دیکھا جا سکتا ہے لیکن کسی محفل میں مجرا کرانا جرم ہے،چور ڈاکو جدید اسلحہ کے ساتھ شہروں میں دندناتے پھرتے ہیں لیکن اپنی حفاطت کے لیئے 32 بور کااسلحہ لائیسنس بھی نہیں لیا جا سکتا،سرکاری محکموں میں کوئی بھی کام سیدھے طریقے سے نہیں بلکہ سفارش یا رشوت دے کر باآسانی سے ہو جاتا ہے،سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت (اسلام آباد میں) کے باہر یا داخلہ دروازے پر عربی عبارت لکھی ہوئی ہے، جو قرآنِ مجید کی ایک آیت سے لی گئی ہے۔
فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ یعنی لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو یالوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو۔ یہmotto سپریم کورٹ آف پاکستان کا آفیشل ہے، جو عمارت کے مرکزی حصے پر نمایاں طور پر درج ہے۔مذکورہ آیت مبارکہ عدل و انصاف کی اہمیت پر زور دیتی ہے، لیکن کیا سپریم کورٹ آف پاکستان اس آیت یا اپنے موٹو سے مطابقت رکھتی ہے؟ جواب ہے نہیں۔
امر واقع یہ ہے کہ کئی عدالتی فیصلے ایسے بھی سامنے آئے کہ مرنے کے بعد کسی کو انصاف ملا یا پھانسی کے بعد یا کئی سال قید کاٹنے کے بعد کسی کو بے گناہ قرار دیا گیا۔
آذاد ہوئے77 برس ہونے کو ہیں، اردو کو قومی زبان اور شلوار قمیض کو قومی لباس قرار دیتے نہیں تھکتے لیکن ہر سرکاری اداروں اور عدالتوں سے لے کر ہر شعبہ زندگی تک فرنگی زبان یعنی انگریزی اور پینٹ،ٹائی اور پتلون کا بول بالا ہے،اور فرنگی کی زبان بولتے اور ٹائی لگاتے ہوئے سینہ تان لیتے ہیں۔
کہاں تک سنو گے،کہاں تک سناوں۔
واپس کریں