کلائمیٹ چینج: غیر متوقع جگہوں پر برفباری، بدلتے موسم اور پاکستان کے لئے بڑھتے خطرات۔آصف مہمند

ہمیں 21 جنوری سے بلوچستان، اپر کے پی، گلگت بلتستان اور مری میں اچھی برفباری ملی ہے، تاہم کوئی ریکارڈ ٹوٹا نہیں، یہ معمول کی برفباری ہے۔ اگرچہ حال ہی میں روس میں برفباری کا ایک صدی پرانا ریکارڈ ٹوٹا ہے اورسائبیرین ہوائیں پاکستان میں داخل ہوئی ہیں جس سے سردی میں اضافہ ہوا لیکن پاکستان میں شدید برفباری کی پیش گوئی نہیں ہے۔
خشک سردیوں کے طویل سلسلے کے بعد پاکستان کے بعض ایسے علاقوں میں برفباری دیکھی گئی جہاں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی یا شاذ و نادر ہی ہوتی تھی۔ اگرچہ اس غیر معمولی برفباری سے مقامی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بعض نے اسے خوش آئند قرار دیا، تاہم ماہرینِ موسمیات خبردار کرتے ہیں کہ دیر سے اور غیر متوقع برفباری موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جو قدرتی آفات کے خطرات میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس حالیہ برفباری کو ریکارڈ توڑ برفباری قرار دے رہی ہیں جو گمراہ کن ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) نے تصدیق کی ہے کہ میڈیا میں برفباری کی ریکارڈ توڑ خبریں بے بنیاد ہیں۔ محکمے نے نیا دور کو بتایا کہ مجموعی طور پر اب تک ہونے والی برفباری سالانہ اوسط سے کم ہے، جو معمول کی موسمی صورتحال کی واپسی بحالی کے بجائے بڑھتے ہوئے موسمی عدم استحکام کی عکاسی کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق لیٹ اور شدید برفباری ضروری نہیں کہ مثبت علامت ہو۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت موسمی شدت اور عدم استحکام میں اضافہ کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں کہیں شدید برفباری تو کہیں تیز پگھلاؤ، برفانی تودوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق لوئر چترال میں برفانی تودے کے نتیجے میں 7 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 21 جنوری سے 26 جنوری کے دوران شدید برفباری اور بارشوں سے 11 افراد ہلاک ہوئے۔
غیر متوقع جگہوں پر برفباری
ہندوکش ہمالیہ خطے کے حصوں سمیت پاکستان میں مسلسل تین برس سے کم برفباری ریکارڈ ہو رہی ہے۔ پاکستان میں برفباری کا سیزن اکتوبر سے شروع ہوتا ہے جو مارچ تک جاری رہتا ہے۔ تاہم، کلائمیٹ چینج کی وجہ سے پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے برفباری دیر سے شروع ہو رہی ہے۔ اس سال جنوری میں خیبر پختونخوا کے بعض ایسے علاقوں میں برفباری ہوئی جہاں پہلے ایسا بمشکل ہی دیکھنے میں آیا ہوگا۔ضلع چارسدہ تنگی گاؤں کے 40 سالہ جلال شہزادہ جو ایک کاروباری شخصیت ہیں نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے نیا دور کو بتایا کہ جب انہوں نے اپنے والد سے تنگی میں برفباری کے بارے پوچھا تو حیرت اور زیادہ بڑھ گئی۔ جلال کو والد نے کہا کہ انہوں نے پچھلے 70 سالوں میں تنگی گاؤں میں برفباری نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ میرے دماغ میں بہت سے سوالات تھے؛ کیا ہمیں اپنے گاؤں میں برف دیکھ کر خوش ہونا چاہیے یا یہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تشویش کی علامت ہے؟
غیر متوقع برفباری نے جہاں جلال کو حیران کیا وہاں ضلع مہمند میں بھی لوگوں نے سالوں بعد اُن مقامات پر برفباری دیکھی جہاں پہلے شاذ و نادر دیکھنے کو ملتی تھی۔
"میں پرائمری سکول میں تھا جب میں نے پہلی بار اپنے گاؤں میں برفباری دیکھی تھی، اور اب تقریباً 27 سال بعد دوبارہ برفباری دیکھ رہا ہوں۔"
ضلع مہمند تحصیل حلیمزئی میں ریڈیو پروڈیوسر مراد خان جو موسمیاتی تبدیلی پر بھی لکھتے ہیں نے نیا دور کو فون پر بتایا کہ ان کے گاؤں چندا میں برفباری حیران کن تھی۔ یہ برفباری نوجوان نسل، خصوصاً جن زی کے لئے ایک نیا تجربہ تھا۔ میں نے دیکھا کہ نوجوان ویڈیوز بنا رہے تھے اور سیلفیاں لے رہے تھے۔ مراد کے مطابق جب انہوں نے اس غیر متوقع برفباری پر بزرگوں سے بات کی تو انہیں معلوم ہوا کہ ضلع مہمند میں 50 سال بعد میدانی علاقوں پر ہلکی برف پڑی ہے۔ مراد خان کے مطابق چند دن قبل شیخ بابا، سوران درہ، چمرکنڈ، چنارے اور ایلزئی میں برفباری شروع ہوئی، جب کہ تحصیل حلیم زئی، خوئیزی اور بائزئی میں آخری بار برفباری دسمبر 2020 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ مراد نے بتایا کہ ضلع مہمند کے بعض پہاڑی علاقوں، خصوصاً حلیم زئی کے پہاڑوں میں برفباری معمول کی بات ہے لیکن حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات نمایاں ہیں جس میں برفباری میں مسلسل کمی شامل ہے۔ مراد نے بتایا کہ لوگ بظاہر خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ برفباری خشک پہاڑی چشموں کو دوبارہ زندہ کرنے اور پانی کی قلت کو کم کرنے میں مدد دے گی، لیکن مراد اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اتنی محدود برفباری موسمیاتی تبدیلی کے طویل المدتی اثرات کا ازالہ نہیں کر سکتی۔
پاکستان میں جنوری کی برفباری معمول سے کم رہی
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزادہ عدنان نے نیا دور کو بتایا کہ جنوری میں ریکارڈ توڑ برفباری کی خبریں غلط ہیں۔ہمیں 21 جنوری سے بلوچستان، اپر کے پی، گلگت بلتستان اور مری میں اچھی برفباری ملی ہے، تاہم کوئی ریکارڈ ٹوٹا نہیں، یہ معمول کی برفباری ہے۔ ڈاکٹر شہزادہ نے کہا کہ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی برفباری لیٹ شروع ہوئی ہے، اور دسمبر میں بھی بہت کم برف پڑی تھی، جب کہ اب تک کوئی شدید برفباری کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم موسم کے پیٹرن اور برفباری کے ٹریک میں معمولی تبدیلی دیکھ رہے ہیں، جیسے بلوچستان کے نوشکی اور چاغی کے پہاڑوں میں برفباری ہونا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ حال ہی میں روس میں برفباری کا ایک صدی پرانا ریکارڈ ٹوٹا ہے اورسائبیرین ہوائیں پاکستان میں داخل ہوئی ہیں جس سے سردی میں اضافہ ہوا لیکن پاکستان میں شدید برفباری کی پیش گوئی نہیں ہے۔
International Centre for Integrated Mountain Development (آئی سی آئی موڈ) کے ماہر کرائیوسفیئر شیر محمد نے نیا دور کو بتایا کہ ماضی میں پاکستان میں جنوری کے مہینے میں شدید برفباری کے واقعات ہوئے ہیں اور اس سیزن میں دسمبر کے دوران زیادہ تر شمالی علاقوں میں برفباری معمول سے کم رہی۔ شیر نے کہا کہ جنوری کے آخر میں ہونے والی برفباری نے شمالی پاکستان کے پہاڑوں پر برف ڈال دی، لیکن یہ اس موسم کی طویل خشک صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے خصارے کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتی۔
پاکستان میں غیر متوقع دیر سے ہونی والی برفباری خوشخبری ہے یا خطرہ؟
شیر محمد نے نیا دور کو بتایا کہ لیٹ سیزن کی شدید برفباری ضروری نہیں کہ مثبت علامت ہو، کیونکہ تیز برف جمع ہونے سے برف کا ڈھیر غیر مستحکم ہو جاتا ہے اور درجۂ حرارت بڑھنے پر اچانک پگھلاؤ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت موسم میں شدت اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے جس سے شدید بارشیں اور ایسے علاقوں میں برفباری ہو رہی ہے جہاں یہ معمول کی بات نہیں۔ شیر نے خبردار کیا کہ ایسے شدید واقعات خطرات پیدا کرتے ہیں، کم برف پانی کے وسائل اور زراعت پر دباؤ ڈالتی ہے، جب کہ اچانک تیز پگھلاؤ سے فلیش فلڈ، مٹی کھسکنا، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودوں کے گرنے اور گلیشیئرز کے پھٹنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ہندو ہمالیہ خطے میں موسمیاتی تبدیلی کا بڑھتا ہوا اثر
آئی سی آئی موڈ کی سال 2025 رپورٹ کے مطابق ہندوکش خطے میں برفباری گذشتہ 23 برسوں میں سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال تقریباً دو ارب لوگوں کے لئے خطرہ ہے جو پانی کے لئے برف کے پگھلاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔ مسلسل تین سال سے کم اور لیٹ برفباری موسمی عدم استحکام کی علامت ہے، نہ کہ طویل مدتی بحالی کی۔
پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی کی تازہ گلیشیئر انوینٹری کے مطابق، ملک میں تقریباً 13000 گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی خطوں کے علاوہ دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں ہیں۔ تاہم درجۂ حرارت میں اضافہ اور برفباری کے پیٹرن میں تبدیلی ان گلیشیئرز کو کمزور کر رہی ہے، جس سے تیز پگھلاؤ، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور سیلاب کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
شیر محمد کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلشیئرز کے لئے بڑا خطرہ ہے، سردیوں میں برف زیادہ اونچائی والے پہاڑوں تک محدود ہے اور بہار میں پگھلاؤ جلدی ہو رہا ہے، جس سے پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔
ڈاکٹر شہزادہ نے ہندو کُش خطے پر کم برف پڑنے کے رجحان کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ پاکستان میں گلیشیئرز کے بڑے ذخائر ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کی بدولت یہاں گلیشئرز پٹھنے اور سیالب کے خطرات زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کم ہندو کُش و ہمالیہ پر کم برف پڑنا صرف انسانی زنگی کے لئے نہیں بلکہ نباتات و حیوانات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے کلائمیٹ چینج کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ارلی وارننگ سسٹمز کو مضبوط کرنے اور ہندو کُش و ہمالیہ سے وابسطہ ممالک کے درمیان مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
آصف مہمند کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ وہ ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہیں اور کلائمیٹ چینج اور دیگر ماحولیاتی موضوعات سے متعلق لکھتے ہیں۔
واپس کریں