شہباز شریف اور محسن نقوی کا یہ فیصلہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بابڑہ سے بڑا قتلِ عام نہیں ہوا۔ جب ایک جائز جمہوری مطالبے پر ایک ہی وقت میں اتنی بڑی تعداد میں پرامن سیاسی کارکنان کا قتل عام کیا گیاہو ، لیکن اس کے باوجود باچا خان اور ان کی جماعت نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
آج بلوچ حقوق کے نام پر پورے بلوچستان میں عوام کا قتلِ عام جاری ہے۔
اسی طرح باچا خان، ولی خان سے لے کر بینظیر بھٹو اور نواز شریف تک ہر سیاسی رہنما کو قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں۔ کسی کو حیدرآباد جیل اور کسی کو مچھ جیل میں رکھا گیا، جہاں کئی کئی سال تک خاندان سے ملاقات ناممکن ہوتی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی چوری چکاری کے کیس میں اندر نہیں گیا، بلکہ ان کا واحد جرم سیاست اور جمہوری جدوجہد تھا۔
لیکن ان قائدین یا ان کے کارکنان نے نہ ریاست مخالف نعرے لگائے نہ جلاؤ گھیراؤ کیا ، بلکہ جیالے بیچارے تو خود کشیاں کرتے رہے ۔
بینظیر بھٹو شہید ہوئی لیکن آصف علی زرداری پاکستان کھپے کے نعرے لگاتا رہا ۔
دوسری جانب نیازی کی گرفتاری کے ساتھ ہی فیضیان نے پورے پاکستان میں آگ لگا دی۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں ۔
بھارت ہو کہ تالبان یا بی ایل اے کے دھشت گرد نیازی ، پارٹی اور اس کی بہنیں ہر مخالف پاکستان کے ساتھ ہوتی ہیں ۔
حالانکہ ان کا لیڈرُ190 ملین پاؤنڈ کے کِک بیک اور توشہ خانہ جیسے بڑے مالیاتی اسکینڈل میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
مسلح جدوجہد خواہ قومیت اور حقوق کے نام پر ہو یا شریعت اور اسلام کے نام پر، ناقابل قبول ہے ۔
بندوق اٹھاتے ہی آپ ساری اخلاقی برتری کھو بیٹھتے ہیں۔ پھر یہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کا معرکہ نہیں رہتا بلکہ دہشت گردی کہلاتا ہے۔
اور آپ نے تو اپنی تنظیم کا نام ہی بلوچ لبریشن آرمی، یعنی بلوچستان کی آزادی کی فوج رکھا ہوا ہے۔
مطلب فوج سے لڑنے کے لیے ایک مسلح فوج۔
ایسی باغی فوج کا خاتمہ عین جہاد ہے۔
بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کا سب سے بڑا نقصان خود بلوچستان کو ہو رہا ہے۔ یہ لاپتہ افراد کی مقدمے کو ہی لاپتہ کررہے ہیں ۔ سیاسی جدوجہد کا راستہ بند کررہے ہیں ۔
اس وقت بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی ایک ہی پیج پر ہیں، جنہیں افغان طالبان کی مکمل حمایت حاصل ہے اور ان سب کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے۔
لیکن جس طرح مودی کو آپریشن سندور تاحیات یاد رہے گا ۔ انشااللہ یہ بی ایل اے کی آخری بڑی مہم جوئی ثابت ہوگی۔ بلکہ ہفتے والے دن کے حملے ان کی فرسٹریشن کو نمایاں کرتے ہیں۔ اب بہت جلد یہ اپنے آخری انجام کو پہنچیں گے۔
آخر میں کرکٹ کی ایک خبر:
مودی کی نحوست اپنے بامِ عروج پر ہے۔ آئی سی سی سے بنگلہ دیش کو نکالا گیا تو قوی امکان پیدا ہوا کہ شاید پاکستان بھی بائیکاٹ کر دے۔ آئی سی سی نے پاکستان کو سری لنکا میں میچ کی پیشکش کی، جو پاکستان نے قبول کی اور قانونی کارروائی سے بچ گیا۔
اب 15 فروری کو میزبان بھارت کی ٹیم اپنا ملک چھوڑ کر سری لنکا جائے گی، وہاں یونیفارم پہن کر مقررہ وقت پر میدان میں اترے گی تاکہ امپائر آئے اور میچ کے کینسل ہونے کا اعلان کر دے۔
ویسے مجھے نہ کرکٹ میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی کھیل کو سیاست یا جنگ کا میدان سمجھتا ہوں، لیکن جس طرح بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیا، اور جس طرح وہ دبئی کے میچوں میں جنگ کی نشانیاں لا کر نیچ پن دکھاتے رہے،
ان کے ساتھ یہ کارروائی بالکل صاف ستھری ہو رہی ہے۔ اور ہمیں بھارتی ٹیم کی اس ذلالت پر کمینی سے خوشی محسوس ہورہی ہے۔
شہباز شریف اور محسن نقوی کا یہ فیصلہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
واپس کریں