دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اقوام متحدہ کیوں ناکام ہو رہا ہے؟
No image جب امریکی صدر کھلے عام بدمعاشی کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے جواز کو چیلنج کر سکتا ہے، اور جب آئی سی سی کے نامزد جنگی مجرم آزادانہ گھومتے ہیں اور انہیں جنگی ہیرو کے طور پر سراہا جاتا ہے، جیسا کہ غزہ سے یوکرین تک اور سوڈان سے یمن تک انصاف کے لیے آوازیں نہیں بلکہ چیخیں سنائی دے رہی ہیں، اور تیسری عالمی جنگ کا سایہ افق پر منڈلا رہا ہے، تو سچ یہی ہے کہ اقوام متحدہ ناکام ہو رہا ہے۔
عالمی نظام کا یہ زوال اپنے ہی طاقتور ترین ادارے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں بھی بدترین ناکامی سے عیاں ہے اور ناکامی کا یہ نقشہ دہائیوں سے جاری اسرائیل اورفلسطین تنازعہ تک پھیلا ہوا ہے بلکہ سوڈان میں تباہ کن خانہ جنگی اور یمن میں انسانی تباہی تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ اسی اقوام متحدہ نے نے روس اوریوکرین کی جاری جنگ میں بھی ربڑ سٹیمپ کی طرح کام کیا۔
ایران کے IAEA کے زیر نگرانی جوہری مقامات پر امریکی حملے ہوں یا غیر ملکی سربراہان مملکت کو نشانہ بنایا جائے، جیسا کہ حال ہی میں وینزویلا میں بھی دیکھا گیا۔
لیگ آف نیشنز، 20ویں صدی کے اوائل کا اقوام متحدہ، سفارت کاری اور منظم مکالمے کے ذریعے عالمی تنازعات کو ٹالنے کے واحد مینڈیٹ کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔ لیکن یہاں بھی عالمی ناکامی دیکھنے میں آئی۔
مذکورہ عالمی ناکامیوں اور اس کے نتیجے میں عالمی جنگ کی ہولناکیوں کے تناظر میں، بین الاقوامی برادری نے اقوام متحدہ کا تصور کیا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کیوں ناکام ہو رہا ہے؟ کیا امریکہ نے اس دنیا پر بلا شرکت غیرے اپنی مرضی یا حکومت چلانے کے لیئے تیسری عالمی جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے؟
واپس کریں