دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یومِ جمہوریہ بھارت ، یومِ سیاہ۔سردار ساجد محمود
No image ہر سال 26 جنوری کو بھارت اپنا یومِ جمہوریہ مناتا ہے، مگر مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری عوام اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جس دن بھارت جمہوری اقدار، آئین اور شہری آزادیوں کا جشن مناتا ہے، اسی دن مقبوضہ کشمیر میں انہی اقدار کی مسلسل اور منظم نفی کی جاتی ہے۔ یومِ سیاہ منانے کا مقصد محض احتجاج نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور بھارت کے نام نہاد جمہوری دعوؤں کے پسِ پردہ جاری سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں اور ریاست جموں وکشمیر کے ایک بڑے حصہ پر جبری قبضے کو بے نقاب کرنا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات گزشتہ کئی دہائیوں سے جبر، تشدد اور خوف کی علامت بن چکے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، بلاجواز گرفتاریاں، گھروں کی تلاشیوں کے دوران توڑ پھوڑ، اور طاقت کے اندھا دھند استعمال نے کشمیری معاشرے کو اجتماعی صدمے اور انسانی المیےسے دوچار کر رکھا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس بارہا اس حقیقت کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ مقبوضہ علاقے میں شہری آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، مگر اس کے باوجود روک تھام کیلئے عملی اقدامات کا فقدان سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔
حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے کوشاں حریت قیادت، نوجوان سماجی و مذہبی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکنان بھارتی جبر کا خاص ہدف ہیں۔ کالے قوانین جیسے یو اے پی اے، پی ایس اے اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی جیسے دیگر ہنگامی اختیارات کی آڑ میں سیاسی قیادت کو قید، نوجوانوں کو نشانہ اور عوامی آواز کو ٹارچر اور مختلف حربوں کے ذریعے خاموش کیا جا رہا ہے۔ جائیدادوں کی ضبطی، گھروں کی مسماری اور اجتماعی سزاؤں کا رجحان تحریکِ حریت کو دبانے کی ایک منظم کوشش ہے، جس کا مقصد عوام میں خوف پھیلا کر مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔
بھارت نے ریاستِ جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر جبری قبضہ برقرار رکھتے ہوئے ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کو ان کے پیدائشی اور مسلمہ حق—حقِ خود ارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔
آئینی و قانونی تبدیلیوں، بالخصوص ڈومیسائل قوانین میں ترامیم کے ذریعے مسلم آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مغایر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کے مترادف ہیں۔ یہ اقدامات خطے کی شناخت، ثقافت اور سیاسی مستقبل کو تبدیل کرنے کے مترادف ہیں۔
اظہارِ رائے پر قدغن، سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دباؤ، انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رسائی پر پابندیاں ایسے ہتھکنڈے ہیں جو جمہوری اصولوں اور اقدار کے صریحاً منافی ہیں۔ اگر کوئی ریاست واقعی جمہوری ہو تو اسے شفافیت، احتساب اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا چاہیے، نہ کہ طاقت کے زور پر سچ کو دبایا جائے۔
اسی پس منظر میں کشمیری عوام دنیا بھر میں یومِ جمہوریہ بھارت کو یومِ سیاہ منا کر بھارت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔ یہ دن عالمی برادری کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ وہ دہرے معیار ترک کرے، محض بیانات پر اکتفا نہ کرے، اور بھارت پر مؤثر دباؤ ڈالے تاکہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔
عالمی امن اور انسانیت کے تحفظ کے لیے لازم ہے کہ مسئلۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پرامن اور منصفانہ طریقے سے حل کیا جائے۔ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت دیا جائے، انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ روکا جائے، اور خطے کو ایک نئے انسانی المیے سے بچایا جائے۔
واپس کریں